اسماعیل نے خالد سے او ر انھوں نے انس بن سیرین سے روایت کی ، کہا : میں نے جندب ( بن عبداللہ ) قسری رضی اللہ عنہ سےسنا ، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے صبح کی نماز ادا کی ، وہ اللہ کے ذمے میں آگیا ، ( دعا ہے ) اللہ تم سے اپنے ذمے کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہ کرے کیونکہ جس سے وہ اپنے ذمے میں سے کسی چیز کا مطالبہ کر لے ، اسے پالیتا ہے ، پھر اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دیتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 1495 — صحيح مسلم 5:328
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ هَارُونَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا وَلَمْ يَذْكُرْ " فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ " .
یہی روایت حسن بصری نے جندب بن سفیان کے حوالے سے نبی ﷺ سے روایت کی ( لیکن آخری فقرہ ) فیکبہ فی نار جہنم ( اس کو جہنم میں اوندھے منہ پھینک دیتا ہے ) بیان نہیں کیا ۔
حدیث 1496 — صحيح مسلم 5:329
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي وَإِذَا كَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ لَهُمْ وَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي مُصَلًّى . فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . قَالَ عِتْبَانُ فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ قَالَ " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكِ " . قَالَ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبَّرَ فَقُمْنَا وَرَاءَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ - قَالَ - وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ - قَالَ - فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ مُنَافِقٌ لاَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ أَلاَ تَرَاهُ قَدْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ " . قَالَ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ فَإِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ - وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ - عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ .
یونس نے ابن شہاب سےروایت کی کہ محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیاکہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے جو ان صحابہ کرام میں سے تھے جو انصار میں سے جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے ، ( بیان کیا ) کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میری نظر خراب ہو گئی ہے ، میں اپنی قوم کو نماز پڑھتا ہوں اور جب بارشیں ہوتی ہیں تو میرے اور ان کےدرمیان والی وادی میں سیلاب آجاتا ہے ، اس کی وجہ سے میں ان کی مسجد میں نہیں پہنچ سکتا کہ میں انھیں نماز پڑھاؤں تو اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ آپ ( میرگھر ) تشریف لائیں اور نماز پڑھنے کی کسی ایک جگہ پر نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو ( مستقل طور پر ) جائے نماز بنالوں ۔ کہا : آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ ان شاء اللہ میں ایسا کروں گا ۔ ‘ ‘ عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا : تو صبح کے وقت دن چڑھتے ہی آپ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، رسول اللہ ﷺ نے ( اندر آنے کی ) اجازت طلب فرمائی ، میں نے تشریف آوری کا کہا ، آپ آ کر بیٹھے نہیں یہاں تک کہ گھر کے اندر ( کے حصے میں ) داخل ہوئے ، پھر پوچھا : ’’تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں ( وہاں ) نماز پڑھوں ؟ ‘ ‘ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر تکبیر ( تحریمہ ) کہی اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ، آپ نے دورکعتیں ادا فرمائیں ، پھر سلام پھیر دیا ۔ اس کے بعد ہم نے آپ کو خزیر ( گوشت کے چھوٹے ٹکڑوں سے بنے ہوئے کھا نے ) کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے تیار کیا تھا ۔ ( عتبان رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ( آپ کی آمد کا سن کر ) اردگرد سے محلے کے لوگ آگئے حتی کہ گھر میں خاصی تعدا د میں لوگ اکٹھے ہو گئے ۔ ان میں سے ایک بات کرنے والے نے کہا : مالک بن دخشن کہاں ہے ؟ ان میں سے کسی نے کہا : وہ تو منافق ہے ، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس کے بارے میں ایسا نہ کہو ، کیا تمھیں معلوم نہیں کہ اس نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے لاالہ الاللہ کہا ہے ؟ ‘ ‘ ( عتبان رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو لوگوں نے کہا : اللہ اور اس سکے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں ۔ اس ( الزام لگانے والے ) نےکہا : ہم تو اس کی وجہ اور اس کی خیر خواہی منافقوں ہی کے لے دیکھتے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے شخص کو آگ پر حرام قرار دیا ہے جو لاالہ الا اللہ کہتا ہے اور اس کے ذریعے سے اللہ کی رضا کا طلب گار ہے ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے کہا : میں نے ( بعد میں ) حصین بن محمد انصاری سے ، جو بنو سالم سے تعلق رکھتے ہیں ان کے سرداروں میں سے ہیں ، محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اس میں ان ( محمود رضی اللہ عنہ ) کی تصدیق کی ۔
معمر نے زہر ی سے روایت کی ، کہا : مجھے محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر یونس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ یہ کہا : تو ایک آدمی نے کہا : مالک بن دخشن یا دخیشن کہاں ہے ؟ اور حدیث میں یہ اضافہ کیا : محمود رضی اللہ عنہ نے کہاں : میں نے یہ حدیث چند لوگوں کو ، جن میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، سنائی تو انھوں نے کہا : میں نہیں سمجھتا کہ جو بات تم بیان کرتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہو ۔ اس پر میں نے ( دل میں ) قسم کھائی کہ اگر میں عتبان رضی اللہ عنہ کے ہاں دوبارہ گیا تو ان سے ( اس کے بارے میں ضرور ) پوچھوں گا ۔ تو میں دوبارہ ان کے پاس آیا ، میں نے دیکھا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں ، ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی لیکن وہ ( اب بھی ) اپنی قوم کے امام تھے ۔ میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے مجھے بالکل اسی طرح ( ساری ) حدیث سنائی جس طرح پہلے سنائی تھی ۔ زہری نے کہا : اس واقعے کے بعد بہت سے فرائض اور دیگر امور ( احکام ) نازل ہوئے اور ہماری نظر میں معاملہ انھی پر تمام ہوا ، لہذا جو انسان چاہتا ہےکہ ( عتبان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ظاہری مفہوم سے ) دھو کا نہ کھائے ، وہ دھوکا کھا نے سے بچے ۔
حدیث 1498 — صحيح مسلم 5:331
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ إِنِّي لأَعْقِلُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ دَلْوٍ فِي دَارِنَا . قَالَ مَحْمُودٌ فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَشِيشَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ زِيَادَةِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ .
اوزاعی سے روایت ہے ، کہا : مجھے زہری نے حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ کا وہ کلی کرنا اچھی طرح یا د ہے جو آپ نے ہمارے گھر میں ایک ڈول سے ( پانی لے کر ) کی تھی ( اور اس کا پانی میر منہ پر ڈالا تھا ) ۔ محمود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میری نظر میں خرابی پیداہو گئی ہےغاور اس بات تک حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے دو رکعات نماز پڑھائی اور یہ کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو جشیشہ ( خزیر سے ملتے جلتے کھانے ) کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے بنایا تھا ۔ انھوں ( اوزاعی ) نےاس کے بعد یونس اور معمر والا اضافہ بیان نہیں کیا
حدیث 1499 — صحيح مسلم 5:332
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ، مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ " قُومُوا فَأُصَلِّيَ لَكُمْ " . قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ .
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کی نانی ملیکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کوکھانے پر بلایا جو انھوں نے تیار کیا تھا ۔ آپ ﷺ نے اس میں سے ( کچھ ) تناول کیا ، پھر فرمایا : ’’کھڑے ہو جاؤ میں تمھاری ( برکت کی ) خاطر نماز پڑھوں ۔ ‘ ‘ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : میں کھڑا ہوا اور اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا جو لمبا عرصہ استعمال ہونےکی وجہ سے کالی ہو چکی تھی ، میں نے ( اسےصاف کرنے کےلیے ) اس پر پانی بہایا تو رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے ، میں اور ( وہاں موجود ایک ) یتیم بچے نے آپ کے پیچھے صف بنائی ، بوڑھی خاتون ہمارے پیچھے ( کھڑی ) ہوگئیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ( حصول برکت کے ) لیے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر تشریف لے گئے ۔
حدیث 1500 — صحيح مسلم 5:333
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ شَيْبَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا فَرُبَّمَا تَحْضُرُ الصَّلاَةُ وَهْوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ ثُمَّ يُنْضَحُ ثُمَّ يَؤُمُّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ .
ابو التیاح نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اخلاق کے مالک تھے ۔ بسا اوقات آپ ہمارے گھر میں ہوتے اور نماز کا وقت ہو جاتا ، پھر آپ اس چٹائی کے بارے میں حکم دیتے جو آپ کے نیچے ہوتی ، اسے جھاڑا جاتا ، پھر اس پر پانی چھڑکا جاتا ، پھر آپ امامت فرماتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے ۔ کہا : ان کی چٹائی کجھور کے پتوں کی ہوتی تھی ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، کہا : نبی ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے وہاں میرے ، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام کے سوا کوئی نہ تھا ، آپ نے فرمایا : ‘ ‘ کھڑے ہو جاؤ میں تمھیں نماز پڑھا دوں ۔ ٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗ’ ( فرض ) نماز کے وقت کے بغیر ، آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ ایک آدمی نے ثابت سے پوچھا : آپ ﷺنے انس رضی اللہ عنہ کو اپنی کس جانب کھڑا کیا تھا؟ انھوں نے کہا : آپ ﷺ نے انہیں اپنے دائیں ہاتھ کھڑا کیا تھا ۔ پھر آپ نے ہمارے ، سب گھر والوں کے لئے دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کی دعا فرمائی ، اس کے بعد میری ماں کہنے لگی : اللہ کے رسول! ( یہ ) آپ کا چھوٹا سا خدمت گزار ہے ، اللہ سے اس کے لئے ( خصوصی ) دعا کریں ۔ کہا : آپ نے میرے لئےہر بھلائی کی دعا کی اور میرے لئے آپ نے جو دعا کی اس کے آخر میں یہ تھا ، آپ نے فرمایا : ‘ ‘ اے اللہ!اس کا مال اور اس کی اولاد زیادہ کر اور اس کے لئے ان میں برکت ڈال دے ۔ ’’
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن مختار سے حدیث سنائی ، انھوں نے موسیٰ بن انس سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺنے انھیں اور ان کی والدہ یا ان کی خالہ کو نماز پڑھائی ، کہا : آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب اور عورت کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا ۔