ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اللہ کی قسم! ضرور رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم لوگوں کے بہت قریب کروں گا ، اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر ، عشاء اور صبح کی نماز میں قنوت کرتے اور مسلمانوں کے حق میں رضی اللہ عنہ دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے خلاف کنھوں نے بئر معونہ والوں کو قتل کیا تھا ، تیس ( دن تک ) صبح ( کی نمازوں ) میں بدعا کی ۔ آپ نے رعل ، ذکوان ، لحیان اور عصیہ کے خلاف ، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، بد دعا کی ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ نے ان لوگوں کے متعلق جو بئر معونہ پر قتل ہوئے ، قرآن ( کا کچھ حصہ ) نازل فرمایا جو بعد میں منسوخ ہو نے تک ہم پڑھتے رہے ( اس میں شہداء کا پیغام تھا ) کہ ہماری قوم کو بتا دیں کہ ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں ، وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم اس سے راضی ہیں ۔
حدیث 1546 — صحيح مسلم 5:379
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا .
محمد ( بن سیرین ) سے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے ( کبھی ) صبح کی نماز میں قنو ت کی تھی؟ کہا : ہاں ، رکوع سے تھوڑی دیر بعد ۔
ابو مجلز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کو کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت کی ، آپ رعل اور ذکوان کے خلاف بددعا فرماتے تھے اور کہتے تھے : ‘ ‘ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ ’’
حدیث 1548 — صحيح مسلم 5:381
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَدْعُو عَلَى بَنِي عُصَيَّةَ .
انس بن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک نماز فجر میں رکوع کے بعد قنوت کی ، آپ بنو عصیہ کے خلاف بددعا کرتے رہے
حدیث 1549 — صحيح مسلم 5:382
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ، قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَقَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ . قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ . فَقَالَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ .
ابو معاویہ نے عاصم سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ان ( انس رضی اللہ عنہ ) سے قنو ت کے بارے میں پوچھا : رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ تو انھوں نے کہا : رکوع سے پہلے ۔ کہا : میں نے عرض کی : بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد قنوت کی ۔ تو انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے کی ، ان لوگوں کو خلاف بددعا فرماتے رہے جنھوں نے آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کو قتل کیا تھا جنھیں قراء ( قرآن پڑھنے والے ) کہا جاتا تھا ۔
سفیان نے عاصم سے روایت کی ، کہا : میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ کو کسی اور جنگ پر اتنا غم محسوس ہوا ہو جتنا ان ستر ( ساتھیوں ) پر ہوا جو بئر معونہ کے واقعے کے روز شہید کیے گئے ، انھیں قراء کہا جاتا تھا ، آپ ایک مہینے تک ان کے قالوں کے خلاف بد دعا کرتے رہے ۔
حدیث 1551 — صحيح مسلم 5:384
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَابْنُ، فُضَيْلٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ . يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ .
حفص ، ابن فضیل اور مروان سب نے عاصم سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ، ان میں سے بعض نے بعض سے کچھ زیادہ روایت کیا ہے ۔
حدیث 1552 — صحيح مسلم 5:385
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلاً وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
شعبہ نے قتادہ سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ایک مہینے تک قنوت کی ، آپ رعل ، ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیجتے تھے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی معصیت کی تھی ۔
حدیث 1553 — صحيح مسلم 5:386
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ .
موسیٰ بن انس نے رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اس طرح روایت کی ۔