عبیداللہ بن معاذ نے حدیث بیان کی ، کہا : میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے خبیب بن عبدالرحمان سے حدیث سنائی ، انھوں نے حفص بن عاصم سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر ، عمر ، اور عثمان ، رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( پہلے ) آٹھ سال یا کہا : چھ سال ۔ ۔ ۔ منیٰ میں مسافر والی نماز پڑھی ۔ حفص نے کہا : ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے ۔ پھر اپنے بستر پر آجاتے تھے ۔ میں نے کہا : چچا جان! اگر آپ فرض نماز کے بعددوسنتیں بھی پڑھ لیا کریں! تو انھوں نے کہا : اگر میں ایسا کروں تو ( گویا ) پوری نماز پڑھوں ۔
خالد بن حارث اور عبدالصمد نے کہا : ہمیں شعبہ نے ( باقی ماندہ ) اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی لیکن ان دونوں نے اس حدیث میں " منیٰ میں " کے الفاظ نہیں کہے لیکن دونوں نے یہ کہا : " آپ نے سفر میں نماز پڑھی ۔
عبدالواحد نے اعمش سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابراہیم نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبدالرحمان بن یزید سے سنا ، کہہ رہے تھے : حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں منیٰ میں چار رکعات پڑھائیں ، یہ بات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتائی گئی تو انھوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعات نما ز پڑھی ، ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعات نماز پڑھی ۔ اور عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےساتھ منیٰ میں دو رکعات نماز پڑھی ، کاش! میرے نصیب میں چار رکعات کے بدلے شرف قبولیت حاصل کرنے والی دو رکعتیں ہوں ۔
ابو معاویہ ، جریر اور عیسیٰ سب نے ( مختلف سندوں سے روایت کرتے ہوئے ) اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ہے ۔
حدیث 1598 — صحيح مسلم 6:29
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ، قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى - آمَنَ مَا كَانَ النَّاسُ وَأَكْثَرَهُ - رَكْعَتَيْنِ .
ابو احوص نے ابو اسحاق سے اور انھوں نے حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعات نماز پڑھی ، ( جب ) لوگ سب سے زیادہ امن میں اور کثیر تعداد میں تھے ۔ ( یہ اللہ کی رخصت کو قبول کرنے کا معاملہ تھا ، خوف ، بدامنی یا جنگ کا معاملہ نہ تھا ۔)
زہیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو اسحاق نے حدیث سنائی ، کہا ، مجھ سے حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہا : میں نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھی جبکہ لوگ ( تعداد میں ) جتنے زیادہ ہوسکتے تھے ( موجود تھے ) آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر دو رکعت نماز پڑھائی ۔ امام مسلم ؒ نے کہا : حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ماں ( ملیکہ بنت جرول الخزاعیہ ) کی طرف سے عبیداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی تھے ۔
امام مالک نے نافع سے روایت کی کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سردی اور ہوا والی ایک رات اذان کہی اور اس کے آخر میں کہا : ( أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ) سنو! ( اپنے ) ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو ۔ " پھر کہا کہ جب رات سرد اور بارش والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو حکم دیتے کہ وہ کہے ( أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ) سنو! ( اپنے ) ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو ۔
(محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے سردی ، ہوا اور بارش و الی ایک رات میں اذان دی اور اذان کے آخر میں کہا : " سنو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو ، سنو! ٹھکانوں میں نماز پڑھو ، " پھر کہا : جب سفر میں رات سرد یا بارش والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو یہ کہنے کا حکم دیتے " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِکُم ) " سنو!اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو ۔
ابو اسامہ نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ انھوں نے ( مکہ سے چھ میل کے فاصلے پر واقع ) بضَجنانَ پہاڑ پر اذان کہی ۔ ۔ ۔ پھر اوپر والی حدیث کے مانند بیان کیا اور ( ابو اسامہ نے ) کہا : " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِکُم " اور انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوبارہ " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ " کہنے کا ذکر نہیں کیا ۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو بارش ہوگئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، " تم میں سے جو چاہے اپنی قیام گاہ میں نماز پڑھ لے ۔