سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے انھوں نے ( ابوشعشاء ) جابر بن زید سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات ( ظہر اورعصر ) اکھٹی اور سات رکعات ( مغرب اور عشاء ) اکھٹی پڑھیں ۔ ( عمرو نے کہا ) میں نے ابو شعشاء ( جابر بن زید ) سے کہا کہ میرا خیال ہے آپ نے ظہر کو موخر کیا اور عصر جلدی پڑھی اور مغرب کو موخر کیا اور عشاء میں جلدی کی ۔ انھوں نے کہا : میرا بھی یہی خیال ہے ۔
حدیث 1635 — صحيح مسلم 6:66
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ .
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے انھوں نے جابر بن زید سے اور انھوں نے حضرت ا بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں سات رکعات اور آٹھ رکعات نماز پڑھی ۔ یعنی ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء ( ملا کرپڑھیں ) ۔
زبیر بن خریت نے عبداللہ بن شفیق سے روایت کی انھوں نے کہا : ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کے بعد ہمیں خطاب کرنے لگے حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے نمودار ہوگئے اور لوگ کہنے لگے : نماز ، نماز! پھر ان کے پاس بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جو نہ تھکتا تھا اور نہ باز آرہاتھا نماز ، نماز کہے جارہاتھا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تیری ماں نہ ہو!تو مجھے سنت سکھا رہا ہے؟پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ظہر وعصر کو اور مغرب وعشاء کو جمع کیا ۔ عبداللہ بن شفیق نے کہا : تو اس سے میرے دل میں کچھ کھٹکنے لگا ، چنانچہ میں حضر ت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا تو ا نھوں نے ان ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے قول کی تصدیق کی ۔
عمران بن خدیرنے عبداللہ بن شقیق عقیلی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : نماز! آپ خاموش رہے اس نے پھر کہا : نماز! آپ پھر چپ رہے ، اس نے پھر کہا : نماز! تو آپ ( کچھ دیر ) چپ رہے ، پھر فرمایا : تیری ماں نہ ہو! کیاتو ہمیں نماز کی تعلیم دیتا ہے؟ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو نمازیں جمع کرلیاکرتے تھے ۔
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے ، انھوں نے عمارہ سے ، انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) سے روایت کی ، کہا : تم میں سے کوئی شخص اپنی ذات میں سے شیطان کاحصہ نہ رکھے ( وہم اور وسوسے کا شکار نہ ہو ) یہ خیال نہ کرے کہ اس پر لازم ہے کہ وہ نماز سےدائیں کے علاوہ کسی اور جانب سے رخ نہ موڑے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر دیکھا تھا ، آپ بائیں جانب سے رخ مبارک موڑتے تھے ۔
جریراور عیسیٰ بن یونس نے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔
حدیث 1640 — صحيح مسلم 6:71
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ عَنْ يَسَارِي قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ .
ابو عوانہ نے ( اسماعیل بن عبدالرحمان ) سدی سے روایت کہ ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : جب میں نماز پڑھ لوں تو اپنارخ کیسے موڑوں ، اپنی دائیں طرف یا اپنی بائیں طرف سے؟انھوں نے کہا : میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ تردائیں طرف سے رخ پھیرتے دیکھا ہے ۔
حدیث 1641 — صحيح مسلم 6:72
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ .
سفیان بن عینیہ نے سدی سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سے رخ پھیراکرتے تھے ۔
ا بن ابی زائدہ نے مسعر سے ، انھوں نے ثابت بن عبید سے انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے ( عبید ) سے اور انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو پسند کرتے تھے کہ ہم آپ کی دائیں طرف ہوں ، آپ ہماری طرف رخ فرمائیں ۔ ( براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے ( ایسے ہی ایک موقع پر ) آپ کو یہ فرماتے ہوئےسنا : " اے میرےرب ! تو جب اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا ۔