ابو خالد سلیمان بن حیان نے داود بن ابی سند سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نعمان بن سالم سے اور انھوں نے عمرہ بن اوس سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عنبسہ بن ابی سفیان نے اپنے مرض الموت میں ایک ایسی حدیث سنائی جس سے انتہائی خوشی حاصل ہوتی ہے ، کہا : میں نے ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ کہتی تھیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا "" جس نے ایک دن اور ایک رات میں بارہ رکعات ادا کیں اس کے لئے ان کے بدلے جنت میں ایک گھر بنا دیاجاتا ہے ۔ "" ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب سے میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ عنبسہ نے کہا : جب سے میں نے ان کے بارے میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ عمرو بن اوس نے کہا : جب سے میں نے ان کے بارے میں عنبسہ سے سنا ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ نعمان بن سالم نے کہا : جب سے میں نے عمرو بن اوس سے ان کے بارے میں سنا ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں داود نے نعمان بن سالم سے اسی سندکے ساتھ یہ حدیث بیان کی ، " جس نے ایک دن میں بارہ رکعات نوافل پڑے اس کے لئے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث سنائی ، انھوں نے عمرو بن اوس سے انھوں نے عنبسہ بن ابی سفیان سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آ پ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : ”کوئی ایسا مسلمان بندہ نہیں جو ہر روز اللہ کے لئے فرائض کے علاوہ بارہ رکعات سنتیں ادا کرتا ہے مگر اللہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے ۔ یا اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دیاجاتا ہے ۔ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں اب تک انھیں مسلسل اداکرتے آرہی ہوں ۔ عمرو نے کہا : میں اب تک ان کو ہمیشہ ادا کر تا آرہاہوں ۔ نعمان نے بھی اس کے مطابق کہا ۔
بہز نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سندکے ساتھ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس بھی مسلمان بندے نے اہتمام کے ساتھ مکمل وضو کیا ، پھر اللہ کی رضا کی خاطر ہر روز ( نفل ) نماز پڑھی ۔ ۔ ۔ " اور اسی کے مطابق روایت کی ۔
حدیث 1698 — صحيح مسلم 6:128
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ فَأَمَّا الْمَغْرِبُ وَالْعِشَاءُ وَالْجُمُعَةُ فَصَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِهِ .
حضرت ابن عمر سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہےلے دورکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور مغرب کے بعد دورکعتیں اور عشاء کے بعد دورکعتیں اور جمعے کے بعد دو رکعتیں ادا کیں ۔ جہاں تک مغرب ، عشاء اور جمعے ( کی سنتوں ) کا تعلق ہے ، وہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں پڑھیں ۔
خالد نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں سوال کیا؟تو انھوں نے جوابدیا : آپ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے ، پھر ( گھر سے ) نکلتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے ، پھر گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا فرماتے ۔ اور آپ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے پھر گھر آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے ، اور لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر آتے اور دو رکعتیں پڑھتے ، ان میں وتر شامل ہوتے ، اور طویل رات کھڑے ہوکر اور طویل ر ات بیٹھ کر نماز ادا کرتے اور جب کھڑے ہوکر قراءت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہوکر کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتے ۔
حدیث 1700 — صحيح مسلم 6:130
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لَيْلاً طَوِيلاً فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا .
حماد نے بدیل اورایوب سے روایت کی ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو لمبا وقت نماز پڑھتے رہتے ، پس جب آپ کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے اور جب بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھے ہوئے رکوع کرتے ۔
شعبہ نے بدیل سے حدیث سنائی انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں فارس ( ایران ) میں بیمار تھا ، اس لئے بیٹھ کر نماز پڑھتا تھا ۔ میں نے اس کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے جواب دیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو لمباوقت کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے ۔ ۔ ۔ اس کے بعد ( اسی طرح ) حدیث بیان کی ۔
حمید نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سوا ل کیاتو ا نھوں نے جواب دیا : آپ رات کو لمبا وقت کھڑے ہوکر نماز پڑھتے اور رات کو لمبا وقت بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپ کھڑے ہوکر قراءت کرتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو بیٹھے بیٹھے رکوع کرتے ۔
حدیث 1703 — صحيح مسلم 6:133
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ سَأَلْنَا عَائِشَةَ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ الصَّلاَةَ قَائِمًا وَقَاعِدًا فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا .
محمد بن سیرین نے عبداللہ بن شقیق عقیلی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا س رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا آپ کثرت سے کھڑ ے ہوکراور بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے ۔ جب آپ کھڑے ہوکر نماز کا آغازفرماتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے اور جب آپ بیٹھے ہوئے نماز کا آغاز کرتے تو بیٹھے ہوئے رکوع کرتے ۔