قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 1744 — صحيح مسلم 6:173
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَمِلَ عَمَلاً أَثْبَتَهُ وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً ‏.‏ قَالَتْ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلاَّ رَمَضَانَ ‏.‏
شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام کرتے تو اس کو برقراررکھتے اور جب آپ رات سوتے رہ جاتے یا بیمار ہوجاتے تو آپ دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( کبھی ) نہیں دیکھا کہ آپ نے ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہواور نہ ( کبھی ) آپ نے رمضان کے سوا مسلسل مہینے بھر کے روزے رکھے ۔
حدیث 1745 — صحيح مسلم 6:174
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَىْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْفَجْرِ وَصَلاَةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
عبدالرحمان بن عبدالقاری سے روایت ہے ، کہا : میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کسی کا حزب ( قرآن کا 1/7 ) حصہ جو عموما ایک رات میں تہجد کے دوران میں پڑھا جاتا تھا ) یا اس کا کچھ حصہ سوتے رہ جانے کی وجہ سے رہ گیا اور اس نے اسے نماز فجر اور نمازظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اس کے حق میں یہ لکھا جائےگا ، جیسے اس نے رات ہی کو اسے پڑھا ۔
حدیث 1746 — صحيح مسلم 6:175
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنَ الضُّحَى فَقَالَ أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلاَةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ ‏.‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَلاَةُ الأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ ‏"‏ ‏.‏
ایوب نے قاسم شیبانی سے روایت کی کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کے وقت نماز پڑھتے دیکھاتو کہا : ہاں یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نماز اس وقت کی بجائے ایک اور وقت میں پڑھنا افضل ہے ۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اوابین ( اطاعت گزار ، توبہ کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والےلوگوں ) کی نماز اس وقت ہوتی ہے ۔ ، جب ( گرمی سے ) اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں ۔
حدیث 1747 — صحيح مسلم 6:176
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَهْلِ قُبَاءٍ وَهُمْ يُصَلُّونَ فَقَالَ ‏ "‏ صَلاَةُ الأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ ‏"‏ ‏.‏
ہشام بن ابی عبداللہ نے کہا : ہمیں قاسم شیبانی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل قباء کے پاس تشریف لائے ، وہ لوگ ( اس وقت ) نماز پڑھ رہے تھےتوآ پ نے فرمایا : " اوابین کی نماز اونٹ کے دودھ چھڑانے جانے والے بچوں کے پاؤ ں جلنے کے وقت ( پر ہوتی ) ہے ۔
حدیث 1748 — صحيح مسلم 6:177
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى ‏"‏ ‏.‏
نافع اور عبداللہ بن دینار نے حضرت ا بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " رات کی نمازدو رکعتیں ہیں ، جب تم میں سے کسی کو صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے ، یہ اس کی پڑھی ہوئی ( تمام ) نماز کو وتر ( طاق ) بنادے گی ۔
حدیث 1749 — صحيح مسلم 6:178
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ فَقَالَ ‏ "‏ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ ‏"‏ ‏.‏
سفیان نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو دو رکعتیں ۔ اور جب تمھیں صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وترپڑھ لو ۔
حدیث 1750 — صحيح مسلم 6:179
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ صَلاَةُ اللَّيْلِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ ‏"‏ ‏.‏
عمرو نے کہا ابن شہاب نے اس سے بیان کہ اسے سالم بن عبداللہ بن عمر اور حمید بن عبدالرحمان بن عوف دونوں نے عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے کہا : ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !رات کی نماز کیسے ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور جب تمھیں صبح ہونے کا خطرہ ہوتو ایک ایک رکعت ( پڑھ کر انھیں ) وتر کرلو ۔
حدیث 1751 — صحيح مسلم 6:180
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَبُدَيْلٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّائِلِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ صَلاَةُ اللَّيْلِ قَالَ ‏ "‏ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً وَاجْعَلْ آخِرَ صَلاَتِكَ وِتْرًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ وَأَنَا بِذَلِكَ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَدْرِي هُوَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
ابو ربیع زہرانی نے کہا : ہمیں حماد نے حدیث سنائی کہا : ہمیں ایوب اور بدیل نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، اور میں آپ کے اور پوچھنے والے کے درمیان میں تھا ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !رات کی نماز کیسے ہوتی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو دو رکعتیں ، پھر جب تمھیں صبح ہونے کا اندیشہ ہو توا یک رکعت پڑھ لو اور وتر کو ا پنی نماز کا آخری حصہ بناؤ ۔ " پھر سال کے بعد ایک آدمی نے آپ سے پوچھا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اسی جگہ ( درمیان میں ) تھا اور مجھے معلوم نہیں وہ پہلے والا آدمی تھا یا کوئی اور ، اسے بھی آپ نے اسی طرح جواب دیا ۔
حدیث 1752 — صحيح مسلم 6:181
وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَبُدَيْلٌ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَا بِمِثْلِهِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ وَمَا بَعْدَهُ ‏.‏
ابو کامل نے کہا : ہمیں حماد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ایوب ، بدیل اور عمران بن حدیر نے عبداللہ بن شقیق سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز ( دوسری سند سے ) محمد بن عبید غبری نے کہا : ہمیں حماد نے حدیث سنائی ، کہا : ہم سے ایوب اور زبیر بن خریت نے عبداللہ بن شقیق سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ۔ ۔ ۔ پھر دونوں ( ابو کامل اور محمد بن عبید ) نے اوپر والی ر وایت بیان کی مگر ان دونوں کی روایت میں " ایک آدمی نے آپ سے ایک سال گزرنے کابعد پوچھا " اور اس کے بعد کا حصہ مروی نہیں ۔
حدیث 1753 — صحيح مسلم 6:182
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، - قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، - أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وتر پڑھنے میں صبح سے سبقت کرو ۔ " ( صبح ہونے سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو ۔)
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔