قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 1824 — صحيح مسلم 6:252
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنا ؤ شیطان اس گھر سے بھا گتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے ۔
حدیث 1825 — صحيح مسلم 6:253
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُجَيْرَةً بِخَصَفَةٍ أَوْ حَصِيرٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِيهَا - قَالَ - فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ - قَالَ - ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْهُمْ - قَالَ - فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُغْضَبًا‏ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلاَةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ ‏"‏ ‏.‏
عبد اللہ سعید نے کہا : عمر بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم ابو نضرنے ہمیں بسربن سعید سے حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی کا ایک چھوٹا سا حجرہ بنوایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( گھر سے ) باہر آکر اس میں نماز پڑھنے لگے لو گ اس ( حجرے ) تک آپ کے پیچھے پیچھے آئے اور آکر آپ کی اقتدامیں نماز پڑھنے لگے ، پھر ایک اور رات لو گ آئے اور ( حجرےکے ) پاس آگئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس آنے میں تا خیر کر دی ۔ کہا : آپ ان کے پاس تشریف نہ لا ئےصحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنی آوازیں بلند کیں ( تاکہ آپ آوازیں سن کر تشریف لے آئیں ) اور دروازے پر چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں ان کی طرف تشریف لا ئے اور ان سے فر ما یا : تم مسلسل یہ عمل کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے خیال ہوا کہ یہ نماز تم پر لازم قراردے دی جا ئے گی ، اس لیے تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ انسان کی فرض نماز کے سوا وہی بہتر ہےجو گھر میں پڑھے ۔
حدیث 1826 — صحيح مسلم 6:254
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ ‏ "‏ وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏
موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو نضرسے سنا انھوں نے بسر بن سعید سے اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے ایک حجرہ بنوایا اور آپ نے اس میں چند راتیں نماز پڑھی حتیٰ کہ آپ کے پاس لو گ جمع ہو گئے ۔ ۔ ۔ پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ) " اگر تم پر نماز فرض کر دی گئی تو تم ( سب ) اس کی پابندی نہیں کر سکو گے ۔ " ( یہ حجرہ اعتکاف کے لیے تھا ۔)
حدیث 1827 — صحيح مسلم 6:255
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَصِيرٌ وَكَانَ يُحَجِّرُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهِ فَجَعَلَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَثَابُوا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَإِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَمِلُوا عَمَلاً أَثْبَتُوهُ ‏.‏
سعید بن ابی نے ابو سلمہ ( نم عبد الرحمان بن عوف ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چٹائی تھی آپ رات کو اس سے حجرہ بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے تو لوگوں نے بھی آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنی شروع کر دی آپ دن کے وقت اسے بچھا لیتے تھے ایک رات لو گ کثرت کے ساتھ جمع ہو گئے تو آپ نے فر ما یا : " لوگو !اتنے اعمال کی پابندی کرو جتنے اعمال کی تم میں طاقت ہے کیونکہ ( اس وقت تک ) اللہ تعا لیٰ ( اجرو ثواب دینے سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں اکتاتا حتیٰ کہ تم خود اکتا جاؤ اور یقیناًاللہ کے نزدیک زیادہ محبوب عمل وہی ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جا ئے چاہے وہ کمہو ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے جب کو ئی عمل کرتے تو اسے ہمیشہ بر قرار رکھتے ۔)
حدیث 1828 — صحيح مسلم 6:256
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ ‏ "‏ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ ‏"‏ ‏.‏
سعد بن ابرا ہیم سے روایت ہے کہ انھوں نے ابو سلمہ سے سنا ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : اللہ تعا لیٰ کو کو ن سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فر ما یا : " جسے ہمیشہ کیا جا ئے اگر چہ کم ہو ۔
حدیث 1829 — صحيح مسلم 6:257
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الأَيَّامِ قَالَتْ لاَ ‏.‏ كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَطِيعُ
علقمہ سے روایت ہے کہا میں نے ام المومنین !عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا اور کہا ام المومنین !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی کیفیت کیا تھی؟کیا آپ ( کسی خاص عمل کے لیے ) کچھ ایام مخصوص فر ما لیتے تھے؟انھوں نے فر ما یا : نہیں آپ کا عمل دائمی ہو تا تھا اور تم میں سے کو ن اس قدر استطاعت رکھتا ہے جتنی استطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تھی ؟
حدیث 1830 — صحيح مسلم 6:258
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا عَمِلَتِ الْعَمَلَ لَزِمَتْهُ ‏.‏
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اللہ تعا لیٰ کے ہاں محبوب ترین کا م وہ ہے جس پر ہمیشہ عمل کیا جا ئے اگرچہ وہ قلیل ہو ۔ ( قاسم بن محمد نے ) کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب کو ئی عمل کرتیں تو اس کو لازم کر لیتی ۔
حدیث 1831 — صحيح مسلم 6:259
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لِزَيْنَبَ تُصَلِّي فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ قَعَدَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ ‏"‏ فَلْيَقْعُدْ ‏"‏ ‏.‏
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابن علیہ نے حدیث سنائی ، نیز زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں اسماعیل نے حدیث سنائی ، ان دونوں ( ابن علیہ اوراسماعیل ) نے عبدالعزیز بن صہیب سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ( دیکھا کہ ) دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹکی ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " یہ کیا ہے؟صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کرام نے عرض کی : حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رسی ہے ، وہ نماز پڑھتی رہتی ہیں ، جب سست پڑتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو پکڑ لیتی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے کھول دو ، ہرشخص نماز پڑھے جب تک ہشاش بشاش رہے ، جب سست پڑ جائے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے ۔ " زہیر کی روایت میں ( قعد کی بجائے ) " فليقعد " ہے ۔ یعنی ماضی کی بجائے امر کا صیغہ استعمال کیا ، مفہوم ایک ہی ہے ۔
حدیث 1832 — صحيح مسلم 6:260
وَحَدَّثَنَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏
عبدالوارث نے عبدالعزیز ( بن صہیب ) سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حدیث 1833 — صحيح مسلم 6:261
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الْحَوْلاَءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى مَرَّتْ بِهَا وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ هَذِهِ الْحَوْلاَءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ وَزَعَمُوا أَنَّهَا لاَ تَنَامُ اللَّيْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَنَامُ اللَّيْلَ خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لاَ يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا ‏"‏ ‏.‏
ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ا نھیں بتایا کہ حولا بنت تویت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزیٰ اس عالم میں ان کے قریب سے گزری جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے ، کہا : میں نے عرض کی : یہ حولا بنت تویت ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رات بھر نہیں سوتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( کیا رات بھر نہیں سوتی!اتنا عمل اپنا ؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو ۔ اللہ کی قسم!اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم اکتا جاؤ ۔)
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔