قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 1864 — صحيح مسلم 6:292
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأُبَىٍّ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ سَمَّاكَ لِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَعَلَ أُبَىٌّ يَبْكِي ‏.‏
ہمام نےکہا : ہم سے قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھارے سامنے قراءت کروں ۔ " انھوں نےکہا : کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمہارا نام لیا ۔ " تو حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے ۔
حدیث 1865 — صحيح مسلم 6:293
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ‏{‏ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسَمَّانِي لَكَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبَكَى ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے سنا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنےلَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا کی قراءت کروں ۔ " انھوں نے کہا : اور ( اللہ تعالیٰ نے ) آپ کے سامنے میرا نام لیا ہے؟آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو وہ رودیئے ۔
حدیث 1866 — صحيح مسلم 6:294
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأُبَىٍّ بِمِثْلِهِ ‏.‏
خالد بن حارث نے کہا : شعبہ نے ہمیں قتادہ کے حوالے سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا ۔ ۔ ۔ ( آگے سابقہ حدیث ) کے مانند ہے ۔
حدیث 1867 — صحيح مسلم 6:295
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْرَأْ عَلَىَّ الْقُرْآنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ ‏"‏ إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ ‏{‏ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا‏}‏ رَفَعْتُ رَأْسِي أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ ‏.‏
حفص بن غیاث نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں عبیدہ ( سلمانی ) سےاور انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " میرے سامنے قرآن مجید کی قراءت کرو ۔ " انھوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کو سناؤں ، جبکہ آپ پر ہی تو ( قرآن مجید ) نازل ہوا ہے؟آپ نے فرمایا : " میری خواہش ہے کہ میں اسےکسی دوسرے سے سنوں ۔ " تو میں نے سورہ نساء کی قراءت شروع کی ، جب میں اس آیت پر پہنچا : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا " اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ " تو میں نے اپنا سر اٹھایا ، یا میرے پہلو میں موجود آدمی نے مجھے ٹھوکا دیا تو میں نے اپنا سر اٹھایا ، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے ۔
حدیث 1868 — صحيح مسلم 6:296
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَمِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، جَمِيعًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَزَادَ هَنَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏ "‏ اقْرَأْ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏
ہناد بن سری اور منجانب بن حارث تمیمی نے علی بن مسہر سے روایت کی ، انھوں نے اعمش سے اسی سندکے ساتھ روایت کی ، ہناد نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جب آپ منبر پر تشریف فرماتھے ، مجھ سے کہا : " مجھے قرآن سناؤ
حدیث 1869 — صحيح مسلم 6:297
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ، - وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ عَنْ مِسْعَرٍ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ‏"‏ اقْرَأْ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ ‏"‏ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ‏"‏ قَالَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَاءِ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا‏}‏ فَبَكَى ‏.‏ قَالَ مِسْعَرٌ فَحَدَّثَنِي مَعْنٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيهِمْ أَوْ مَا كُنْتُ فِيهِمْ ‏"‏ ‏.‏ شَكَّ مِسْعَرٌ ‏.‏
مسعر نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : "" مجھے قرآن مجید سناؤ ۔ "" انھوں نے کہا : کیا میں آپ کو سناؤں جبکہ ( قرآن ) اترا ہی آپ پر ہے؟آپ نے فرمایا : "" مجھے اچھا لگتاہے کہ میں اسے کسی دوسرے سے سنوں ۔ "" ( ابراہیم ) نے کہا : انھوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء ابتداء سے اس آیت تک سنائی : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا "" اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ "" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس آیت پر ) رو پڑے ۔ مسعر نے ایک دوسری سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول نقل کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں ان پر اس وقت تک گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا ۔ "" مسعر کو شک ہے ۔ ما دمت فيهم کہایا ما كنت فيهم ( جب تک میں ان میں تھا ) کہا ۔
حدیث 1870 — صحيح مسلم 6:298
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ بِحِمْصَ فَقَالَ لِي بَعْضُ الْقَوْمِ اقْرَأْ عَلَيْنَا ‏.‏ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ سُورَةَ يُوسُفَ - قَالَ - فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَاللَّهِ مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَيْحَكَ وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي ‏ "‏ أَحْسَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَبَيْنَمَا أَنَا أُكَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ قَالَ فَقُلْتُ أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَتُكَذِّبُ بِالْكِتَابِ لاَ تَبْرَحُ حَتَّى أَجْلِدَكَ - قَالَ - فَجَلَدْتُهُ الْحَدَّ ‏.‏
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : "" میں حمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے مجھے کہا : ہمیں قرآن مجید سنائیں تو میں نے انھیں سورہ یوسف سنائی ۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ کی قسم! یہ اس طرح نہیں اتری تھی ۔ میں نے کہا : تجھ پر افسوس ، اللہ کی قسم!میں نے یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تھی تو آ پ نے مجھ سے فرمایا : "" تو نے خوب قراءت کی ۔ "" اسی اثنا میں کہ میں اس سے گفتگو کررہا تھا تو میں نے اس ( کے منہ ) سے شراب کی بو محسوس کی ، میں نے کہا : تو شراب بھی پیتا ہے اور کتاب اللہ کی تکذیب بھی کرتا ہے؟تو یہاں سے نہیں جاسکتا حتیٰ کہ میں تجھے کوڑے لگاؤں ، پھر میں نے اسے حد کے طور پر کوڑے لگائے ۔
حدیث 1871 — صحيح مسلم 6:299
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لِي ‏ "‏ أَحْسَنْتَ ‏"‏ ‏.‏
عیسیٰ بن یونس اور ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ر وایت کی لیکن ابومعاویہ کی روایت میں فقال لي احسنت ( آپ نے مجھے فرمایا : " تو نے بہت اچھا پڑھا " ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
حدیث 1872 — صحيح مسلم 6:300
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ،عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلاَثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَثَلاَثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلاَثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ جب وہ ( باہر سے ) اپنے گھر واپس آئے تو اس میں تین بڑی فربہ حاملہ اونٹنیاں موجود پائے؟ " ہم نے عرض کی : جی ہاں!آپ نے فرمایا : " تین آیات جنھیں تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں پڑھتا ہے ۔ وہ اس کے لئے تین بھاری بھرکم اور موٹی تازی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں ۔
حدیث 1873 — صحيح مسلم 6:301
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ ‏"‏ أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلاَ قَطْعِ رَحِمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُحِبُّ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلاَ يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمَ أَوْ يَقْرَأَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلاَثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلاَثٍ وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سےنکل کر تشریف لائے ۔ ہم صفہ ( چبوترے ) پر مووجودتھے ، آپ نے فرمایا : " تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ روزانہ صبح بطحان یا عقیق ( کی وادی ) میں جائے اور وہاں سے بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہانوں والی اونٹنیاں لائے؟ " ہم نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سب کو یہ بات پسندہے آپ نے فرمایا : " پھر تم میں سے صبح کوئی شخص مسجد میں کیوں نہیں جاتا کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں سیکھے یا ان کی قراءت کرے تو یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں ( کے حصول ) سے بہتر ہے اور یہ تین آیات تین اونٹنیوں سے بہتر اور چار آیتیں اس کے لئے چار سے بہتر ہیں اور ( آیتوں کی تعداد جو بھی ہو ) اونٹوں کی اتنی تعداد سے بہتر ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔