قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 524 — صحيح مسلم 1:430
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ - قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ، قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هُمُ الَّذِينَ لاَ يَكْتَوُونَ وَلاَ يَسْتَرْقُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ عُكَّاشَةُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْتَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن سیرین نے کہا کہ حضرت عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے یہ حدیث سنائی ، انہوں نے کہا کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’میری امت کے ستر ہزا اشخاص حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو داغنے کے عمل سے علاج نہیں کراتے ، نہ دم ہی کراتے ہیں اور اپنے رب پر کامل بھروسہ کرتے ہیں ۔ ‘ ‘ عکاشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہوئے اور کہا : اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں ( شامل ) کر دے ۔ آپ نے فرمایا : ’’تم ان میں سے ہو ۔ ‘ ‘ ( عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا او رکہنے لگا : اے اللہ کے نبی ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ( بھی ) ان میں ( شامل ) کر دے ، آپ نے فرمایا : ’’اس میں عکاشہ تم سے سبقت لے گئے ۔ ‘ ‘
حدیث 525 — صحيح مسلم 1:431
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الأَعْرَجِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هُمُ الَّذِينَ لاَ يَسْتَرْقُونَ وَلاَ يَتَطَيَّرُونَ وَلاَ يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ‏"‏ ‏.‏
حکم بن اعرج نے حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میری امت کے ستر ہزار لوگ حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے پوچھا : ا ے اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو دم نہیں کرواتے ، شگون نہیں لیتے ، داغنے کے ذریعے سے علاج نہیں کرواتے او راپنے رب پر پورا بھروسہ کرتے ہیں ۔ ‘ ‘
حدیث 526 — صحيح مسلم 1:432
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا أَوْ سَبْعُمِائَةِ أَلْفٍ - لاَ يَدْرِي أَبُو حَازِمٍ أَيَّهُمَا قَالَ - مُتَمَاسِكُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لاَ يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّى يَدْخُلَ آخِرُهُمْ وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میری امت میں سے ستر ہزار یا سات لاکھ افراد ( ابو حازم کو شک ہے کہ سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کون سا عدد بتایا ) اس طرح جنت میں داخل ہوں گے کہ وہ یکجا ہوں گے ، ایک دوسرےکو پکڑے ہوئے ، ان میں سے پہلا فرد اس وقت تک داخل نہیں ہو گا جب تک آخری فرد ( بھی ساتھ ہی ) داخل نہ ہو گا ، اکٹھے ہی ( جنت کے وسیع دروازے سے ) اندر جائیں گے ۔ ان کے چہرے چو دھویں رات کے چاندجیسے ہوں گے ۔ ‘ ‘
حدیث 527 — صحيح مسلم 1:433
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ قُلْتُ أَنَا ‏.‏ ثُمَّ قُلْتُ أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلاَةٍ وَلَكِنِّي لُدِغْتُ ‏.‏ قَالَ فَمَاذَا صَنَعْتَ قُلْتُ اسْتَرْقَيْتُ ‏.‏ قَالَ فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قُلْتُ حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ ‏.‏ فَقَالَ وَمَا حَدَّثَكُمُ الشَّعْبِيُّ قُلْتُ حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ لاَ رُقْيَةَ إِلاَّ مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ ‏.‏ فَقَالَ قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ وَلَكِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ عُرِضَتْ عَلَىَّ الأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلاَنِ وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي فَقِيلَ لِي هَذَا مُوسَى صلى الله عليه وسلم وَقَوْمُهُ وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ ‏.‏ فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ الآخَرِ ‏.‏ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي هَذِهِ أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلاَ عَذَابٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلاَ عَذَابٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِسْلاَمِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ ‏.‏ وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ ‏"‏ هُمُ الَّذِينَ لاَ يَرْقُونَ وَلاَ يَسْتَرْقُونَ وَلاَ يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَنْتَ مِنْهُمْ ‏"‏ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ‏"‏ ‏.‏
ہشیم نے کہا : ہمیں حصین بن عبد الرحمن نے خبر دی ، کہا کہ میں سعید بن جبیر کے پاس موجود تھا ، انہوں نے پوچھا : تم میں سے وہ ستارا کس نے دیکھا تھا جو کل رات ٹوٹا تھا ۔ میں نے کہا : میں نے ، پھر میں نے کہا کہ میں نماز میں نہیں تھا بلکہ مجھے ڈس لیا گیا تھا ( کسی موذی جانور نے ڈس لیا تھا ۔ ) انہوں نے پوچھا : پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا : میں نے دم کروایا ۔ انہوں نےکہا : تمہیں کس چیز نےاس پر آمادہ کیا ؟ میں نے جواب دیا : اس حدیث نے جو ہمیں شعبی نے سنائی ۔ انہوں نے پوچھا : شعبی نے تمہیں کون سی حدیث سنائی؟ میں نے کہا : انہوں ( شعبی ) نےہمیں بریدہ بن حصیب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت سنائی ، انہوں نے بتایا کہ نظر بد لگنے اور زہریلی چیز کےڈسنے کے علاوہ اور کسی چیز کے لیے جھاڑ پھونک نہیں ۔ تو سعید نے کہا : جس نے سنا ، اسے اختیار کیا تو اچھا کیا ۔ لیکن ہمیں عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نبی اکرم ﷺ سے حدیث سنائی کہ آپ نے فرمایا : ’’میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں ، میں نے ایک نبی کو دیکھا ، ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا ( دس سے کم کا ) گروہ تھا ، کسی ( اور ) نبی کو دیکھا کہ اس کےساتھ ایک یا دو امتی تھے ، کوئی نبی ایسا بھی تھا کہ اس کے ساتھ کوئی امتی نہ تھا ، اچانک ایک بڑی جماعت میرے سامنے لائی گئی ، مجھے گمان ہوا کہ یہ میرے امتی ہیں ، اس پر مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ اور ان کی قوم ہے لیکن آپ افق کی طرف دیکھیں ، میں نے دیکھا تو ( وہاں بھی ) ایک بہت بڑی جماعت تھی ، مجھے بتایا گیا : یہ آپ کی امت ہے ۔ اور ان کےساتھ ایسے ستر ہزار ( لوگ ) ہیں جو کسی حساب کتاب اور کسی عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ ‘ ‘ پھر آپ اٹھے اور ا پنے گھر کے اندر چلے گئے ، وہ ( صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) ان لوگوں کے بارے میں گفتگو میں مصروف ہو گئے ، جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔ ان میں سے بعض نے کہا : شاید وہ لوگ ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے ۔ بعض نے کہا : شاید یہ لوگ وہ ہوں گے جو اسلامی دور میں پیدا ہوئے اور ( ایک لمحہ بھی ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا اور انہوں نے بعض دوسری باتوں کا بھی تذکرہ کیا پھر ( کچھ دیربعد ) رسول اللہ ﷺ ( گھر سے ) نکل کر ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا : ’’ تو کن باتوں میں لگے ہوئے ہو ؟ ‘ ‘ انہوں نے آپ کو وہ باتیں بتائیں ، اس پر آپ نے فرمایا : ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو نہ دم کرتے ہیں ، نہ دم کرواتے ہیں ، نہ شگون لیتے ہیں اور وہ اپنے رب پر پوراتوکل کرتے ہیں ۔ ‘ ‘ اس پر عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہوئےاور عرض کی : اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں ( شامل ) کر دے تو آپ نے فرمایا : ’’ تو ان میں سے ہے ۔ ‘ ‘ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : دعا فرمائیے ! اللہ مجھے ( بھی ) ان میں سے کردے تو آپ نے فرمایا : ’’عکاشہ اس ( فرمائش ) کے ذریعے سے تم سے سبقت لے گئے ۔ ‘ ‘
حدیث 528 — صحيح مسلم 1:434
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عُرِضَتْ عَلَىَّ الأُمَمُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِ ‏.‏
حصین بن عبد الرحمن سے ( ہشیم کے بجائے ) محمد بن فضیل نے سعید بن جبیر کے حوالے سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : ہمیں حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث سنائی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرےسامنے تمام امتیں پیش کی گئیں ..... ‘ ‘ پھر حدیث کا باقی حصہ ہشیم کی طرح بیان کیا اور ابتدائی حصے ( حصین کےواقعے ) کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 529 — صحيح مسلم 1:435
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ قَالَ فَكَبَّرْنَا ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ قَالَ فَكَبَّرْنَا ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ مَا الْمُسْلِمُونَ فِي الْكُفَّارِ إِلاَّ كَشَعْرَةٍ بَيْضَاءَ فِي ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوْ كَشَعْرَةٍ سَوْدَاءَ فِي ثَوْرٍ أَبْيَضَ ‏"‏ ‏.‏
ابو احوص نے ابو اسحاق سے حدیث سنائی ، انہوں نےعمرو بن میمون سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نےہم سے فرمایا : ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نے ( خوشی ) اللہ اکبر کہا ، پھر آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم اس پر راضی نہ ہوگے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ کہا کہ ہم نے ( دوبارہ ) نعرہ تکبیر بلند کیا ، پھر آپ نے فرمایا : ’’میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت کانصف ہو گے اور ( یہ کیسے ہو گا؟ ) میں اس کے بارے میں ابھی بتاؤں گا ۔ کافروں ( کے مقابلے ) میں مسلمان اس سے زیادہ نہیں جتنے سیاہ رنگ کے بیل میں ایک سفید بال یا سفید رنگ کے بیل میں ایک
حدیث 530 — صحيح مسلم 1:436
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلاً فَقَالَ ‏"‏ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ فَقُلْنَا نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لاَ يَدْخُلُهَا إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلاَّ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَحْمَرِ ‏"‏ ‏.‏
ابو اسحاق سے ( ابو احوص کے بجائے ) شعبہ نے حدیث سنائی ، انہو ں نے عمرو بن میمون سے ا ور انہوں نے حضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ہم تقریباً چالیس افراد ایک خیمے میں رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم اس بات پر راضی ہو گے کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟ ‘ ‘ ہم نےکہا : ہاں ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نےکہا : ہاں ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت میں سے آدھے ہو گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت میں اس انسان کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا جس نے خود کو اللہ کے سپرد کر دیا ۔ اور مشرکوں میں تمہاری تعداد ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر ایک سیاہ بال ۔ ‘ ‘
حدیث 531 — صحيح مسلم 1:437
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، - وَهْوَ ابْنُ مِغْوَلٍ - عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةِ أَدَمٍ فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ‏.‏ أَتُحِبُّونَ أَنَّكُمْ رُبُعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَتُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ مَا أَنْتُمْ فِي سِوَاكُمْ مِنَ الأُمَمِ إِلاَّ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَبْيَضِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَسْوَدِ ‏"‏ ‏.‏
مالک بن مغول نے ابو اسحاق کےواسطے سے عمرو بن میمون سے حدیث سنائی انہوں نے حضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب کیا آپ نے چمڑے کے ایک خیمے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی اور فرمایا : ’’یاد رکھو ! جنت میں اسلام لانے والی روح کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا ۔ اے اللہ ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ ! تو گواہ رہنا ۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نےکہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول !آپ نے فرمایا : ’’کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے ، دوسری امتوں میں تم ( اس سے زیادہ ) نہیں ہو مگر ( ایسے ) جس طرح ایک سیاہ بال جو سفید رنگ کے بیل پر ہو یا ایک سفید بال جو سیاہ بیل پر ہو ۔ ‘ ‘
حدیث 532 — صحيح مسلم 1:438
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ - قَالَ - يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ‏.‏ قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ ‏"‏ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا وَمِنْكُمْ رَجُلٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ ‏"‏ ‏.‏
جریر نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ عز وجل فرمائے گا : اے آدم ! وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں ( میرے رب! ) قسمت کی خوبی ( تیری عطا ہے ) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا : اللہ فرمائے گا : دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے : دوزخیوں کی جماعت ( تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔ یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے ۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے ، حالانکہ وہ ( نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا ۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ یہ بات ان ( صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) پر حد درجہ گراں گزری ۔ انہوں نے پوچھا ‎ : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے وہ ( ایک ) آدمی کون ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ’’خوش ہو جاؤ ، ہزار یا جوج ماجوج میں سے ہیں اور ایک تم میں سے ہے ، ( ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : پھر آپ نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھائی ( حصہ ) ہو گے ۔ ‘ ‘ ہم نےاللہ تعالیٰ کی حمد کی او رتکبیر کہی ( اللہ اکبرکہا ۔ ) ، پھر آپ نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی ( حصہ ) ہو گے ۔ ‘ ‘ ہم نے اللہ کی حمد کی اور تکبیر کہی ، پھر فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا آدھا حصہ ہو گے ۔ ( دوسری ) امتوں کے مقابلے میں تمہاری مثال اس سفید بال کی سی ہے جو سیاہ بیل کی جلدپر ہوتا ہے یا اس چھوٹے سے نشان کی سی ہے جو گدھے کے اگلے پاؤں پر ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 533 — صحيح مسلم 1:439
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالاَ ‏"‏ مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلاَّ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَبْيَضِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرَا ‏"‏ أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ ‏"‏ ‏.‏
(جریر کے بجائے ) اعمش کے دو شاگردوں وکیع اور ابو معاویہ نےاسی سند کے ساتھ روایت کی ، لیکن دونوں کے الفاظ ہیں : ’’اس دن لوگوں میں تم ( اسےسے زیادہ ) نہیں ہو گے مگر ( ایسے ) جس طرح ایک سفید بال جو سیاہ بیل پر ہوتا ہے یا سیاہ بال جو سفید بیل پر ہوتا ہے ۔ ‘ ‘ ان دونوں نے گدھے کے اگلے پاؤں کے نشان کا تذکرہ نہیں کیا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔