قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 1914 — صحيح مسلم 6:342
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ رَأَيْتُ رَجُلاً سَأَلَ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ أَدَالاً أَمْ ذَالاً قَالَ بَلْ دَالاً سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مُدَّكِرٍ ‏"‏ ‏.‏ دَالاً ‏.‏
زہیر نے کہا : ہم سے ابو اسحاق نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اسود بن یزید ( سبیعی کوفی ) سے جبکہ وہ مسجد میں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے ۔ سوال کیا : تم اس ( آیت ) کو کیسے پڑھتے ہو ؟دال پڑھتے یا ذال ؟ انھوں نے جواب دیا : دال پڑھتا ہوں ۔ میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ بتا رہے تھے ۔ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ دال کے ساتھ پڑھتے سنا ۔
حدیث 1915 — صحيح مسلم 6:343
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ ‏ "‏ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے ابو اسحاق سے انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روا یت کی کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم اس کلمے مُّدَّكِرٍ‌ پڑھتے تھے ( یعنی دال کے ساتھ)
حدیث 1916 — صحيح مسلم 6:344
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَدِمْنَا الشَّامَ فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ فَقَالَ أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا ‏.‏ قَالَ فَكَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى‏}‏ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ ‏{‏ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى‏}‏ ‏.‏ قَالَ وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا وَلَكِنْ هَؤُلاَءِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ وَمَا خَلَقَ ‏.‏ فَلاَ أُتَابِعُهُمْ ‏.‏
اعمش نے ابرا ہیم سے اور انھوں نے علقمہ ( بن قیس کوفی ) سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم شام آئے تو ہمارے پاس حضرت ابو دارداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لا ئے اور انھوں نے پو چھا : کیا تم میں سے کو ئی ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھتا ہو ؟میں نے عرض کی : جی ہاں میں ( پڑھتا ہوں ) انھوں نے پو چھا : تم نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ آیت وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ کسی طرح پڑھتے سناہے ۔ ( میں نے ) کہا : میں نے انھیںوَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ و الذَّكَرَ‌وَالْأُنثَىٰ پڑھتے سنا ۔ انھوں نے کہا : اور میں نے بھی اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی پڑھتے سنا لیکن یہ لو گ چا ہتے ہیں کہ میں وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ‌وَالْأُنثَىٰ پڑھوں میں ان کے پیچھے نہیں چلوں گا ۔ ( ابن مسعود اور ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ غالباًقراءت کی اس دوسری صورت سے آگاہ نہ ہو سکے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے سکھا ئی تھی ۔)
حدیث 1917 — صحيح مسلم 6:345
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا - قَالَ - فَجَاءَ رَجُلٌ فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ ‏.‏ قَالَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي ثُمَّ قَالَ أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
مغیرہ نے ابرا ہیم سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : علقم ہشام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہو ئے اس میں نماز پڑھی ، پھر لو گو ں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے اتنے میں ایک صاحب آئے تو مجھے ان کے ( ارد گرد ) لو گوں کے اکٹھا ہو نے اور ( انکی وجہ سے ) ایک خاص ہیئت اختیار کر لینے کا پتہ چل گیا ( اس سے معلوم ہو تا تھا کہ وہ خاص شخصیت ہیں ) ( علقمہ نے کہا : وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے ۔ پھر فر ما یا : عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) جس طرح پڑھا کرتے تھے کیا تمھیں وہ یاد ہے؟ اس کے بعد اسی ( پہلی حدیث کی ) طرح بیان کیا ۔
حدیث 1918 — صحيح مسلم 6:346
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي، هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لِي مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ‏.‏ قَالَ مِنْ أَيِّهِمْ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏ قَالَ هَلْ تَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَاقْرَأْ ‏{‏ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى‏}‏ قَالَ فَقَرَأْتُ ‏{‏ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى * وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى‏}‏ ‏.‏ قَالَ فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا ‏.‏
اسماعیل بن ابرا ہیم ( ابن علیہ ) نے داودبن ابی ہند سے انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے علقمہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا انھوں نے مجھ سے پو چھا : تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا : اہل عراق سے انھوں نے پو چھا : ان کے کو ن سے لو گو ں میں سے؟ میں نے کہا : اہل کو فہ سے انھوں نے پوچھا : کیاتم ( قرآن مجید ) عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت کے مطا بق پڑھتے ہو؟میں نے کہا : جی ہاں انھوں نے کہا : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ پڑھو ۔ میں نے پڑھا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَالنَّهَارِ‌إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَ الذَّكَرَ‌وَالْأُنثَىٰ کہا : وہ ہنس پڑے پھر فر ما یا : میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا ۔
حدیث 1919 — صحيح مسلم 6:347
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ أَتَيْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ‏.‏
عبد الاعلیٰ نے کہا : ہم سے داودنے عامر ( شعبی ) سے اور انھوں نے علقمہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : میں شام آیا اور حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا ۔ ۔ ۔ ۔ آگے ابن علیہ ( اسماعیل بن ابرا ہیم ) کی ( مذکورہ با لا ) حدیث کی طرح بیا ن کیا ۔
حدیث 1920 — صحيح مسلم 6:348
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فر ما یا ۔ اور صبح کے بعد سورج طلوع ہو نے تک نماز سے منع فر ما یا ۔
حدیث 1921 — صحيح مسلم 6:349
وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، - قَالَ دَاوُدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، - أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ غَيْرَ، وَاحِدٍ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَىَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ‏.‏
منصور نے قتادہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : ہمیں ابو عالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سے زیادہ ساتھیوں سے سنا ہے ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہو نے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فر ما یا ہے ۔
حدیث 1922 — صحيح مسلم 6:350
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ، الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ، بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ سَعِيدٍ وَهِشَامٍ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ ‏.‏
شعبہ سعید اور معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے واسطے سے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہ روا یت بیان کی ، البتہ سعید اور ہشام کی حدیث میں ( نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہو نے تک کے بجا ئے ) " صبح کے بعد سورج چمکنے تک " کے الفاظ ہیں ۔
حدیث 1923 — صحيح مسلم 6:351
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ صَلاَةَ بَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ صَلاَةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏
عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی کہ انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے اور نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔