حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ عَنْ بِنْتٍ لِحَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ مَا حَفِظْتُ { ق} إِلاَّ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ . قَالَتْ وَكَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاحِدًا .
عبداللہ بن محمد بن معن نے حارثہ بن نعمان کی بیٹی ( ام ہشام ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے سورہ ق ( کسی اور سے نہیں براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی ، آپ ہر جمعے میں اسےپڑھ کر خطاب فرماتے تھے ۔ انھوں نے کہا : ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور ایک ہی تھا ۔
یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمان بن سعد نے زرارہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور دو یا ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ ایک ہی رہا اور میں نے سورہ ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ( کسی اور سے نہیں بلکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی ، آپ ہر جمعے کے دن جب لوگوں کو خطبہ دیتے تو اسے منبر پر پڑھتے تھے ۔
عبداللہ بن ادریس نے حصین سے اور انھوں نے حضرت عمارہ بن رویبہ ( ثقفی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : انھوں نے بشر بن مروان ( بن حکم ، عامل مدینہ ) کو منبر پر ( تقریر کے دوران ) دونوں ہاتھ بلند کرتے دیکھا تو کہا : اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کو بگاڑے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس سےزیادہ اشارہ نہیں کرتے تھے اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا ۔
ابو عوانہ نے حصین بن عبدالرحمان سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے جمعے کے دن بشر بن مروان کو دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا تو اس پر عمارہ بن رویبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ۔ ۔ ۔ اس کے بعد اس ( مذکورہ بالا روایت ) کے ہم معنی روایت بیان کی ۔
حدیث 2018 — صحيح مسلم 7:68
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَصَلَّيْتَ يَا فُلاَنُ " . قَالَ لاَ . قَالَ " قُمْ فَارْكَعْ " .
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : اسی اثناء میں جب جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ایک آدمی ( مسجد میں ) آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " اے فلاں ( نام لیا ) !کیا تو نے نماز پڑھ لی ہے؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اور اٹھو اور نماز پڑھو ۔
حدیث 2019 — صحيح مسلم 7:69
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَمَا قَالَ حَمَّادٌ وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّكْعَتَيْنِ .
ایوب نے عمرو ( بن دینار ) سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حماد کی طرح روایت کی ، اور انھوں ( ایوب ) نے بھی اس میں دو رکعت کا ذکر نہیں کیا ( البتہ اگلی روایت میں سفیان نے کیا ہے ۔)
قتیبہ بن سعید اور اسحاق بن ابراہیم میں سے قتیبہ نے کہا : ہمیں حدیث سنائی اور اسحاق نے کہا : ہمیں خبر دی سفیان نے عمرو سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےسنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دےرہے تھے ۔ تو آپ نے پوچھا : " کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اٹھو اور دو رکعتیں پڑھ لو ۔ " قتیبہ کی حدیث میں ( فصل ركعتين کے بجائے ) صل ركعتين ( دو رکعتیں پڑھو ) ہے ۔
ابن جریج نے کہا : ہمیں عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک آدمی آیا جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے ، جمعے کے دن خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو آپ نے اس سے پوچھا : " کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " پڑھ لو ۔
شعبہ نے عمرو ( بن دینار ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے میں فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص جمعے کے دن آئے جبکہ امام ( گھر سے ) نکل ( کر ) آچکا ہے تو وہ دو رکعت پڑھ لے ۔
حدیث 2023 — صحيح مسلم 7:73
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَعَدَ سُلَيْكٌ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ " . قَالَ لاَ . قَالَ " قُمْ فَارْكَعْهُمَا " .
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ سلیک غطفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعے کے دن آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ہوئے تھے تو سلیک نماز پڑھنے سے پہلے ہی بیٹھ گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : " کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ " انھوں نے کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اٹھو اور دو ر کعتیں پڑھو ۔