عمرو الناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی انھوں نے کہا : ہمیں ایوب بن موسیٰ نے مکحول سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سلیمان بن یسار سے انھوں نے عراک بن مالک سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ ۔ ۔ عمرو نے کہا : ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور زہیر نے کہا : انھوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا یا یعنی آپ سے بیان کیا ۔ ۔ ۔ " مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں صدقہ نہیں ۔
خثیم بن عراک بن مالک نے اپنے والد ( عراک بن ما لک ) سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( مذکورہ بالا حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
مخرمہ نے اپنے والد ( بکیر بن عبد اللہ ) سے انھوں نے عراک بن مالک سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہ آپ نے فر ما یا : " ( مالک پر ) غلام ( کے معاملے ) میں صدقہ فطر کے سوا کو ئی صدقہ نہیں ۔
حدیث 2277 — صحيح مسلم 12:15
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَىَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا " . ثُمَّ قَالَ " يَا عُمَرُ أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زکا ۃ کی وصولی کے لیے بھیجا تو ( بعد میں آپ سے ) کہا گیا کہ ابن جمیل خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زکاۃ روک لی ہے ( نہیں دی ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ابن جمیل تو اس کے علاوہ کسی اور بات کا بدلہ نہیں لے رہا کہ وہ پہلے فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا رہے خالد تو تم ان پر زیادتی کر ہے ہو ۔ انھوں نے اپنی زر ہیں اور ہتھیا ر ( جنگی ساز و سامان ) اللہ کی را ہ میں وقف کر رکھے ہیں باقی رہے عباس تو ان کی زکاۃ میرے ذمے ہے اور اتنی اس کے ساتھ اور بھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اے عمر!کیا تمھیں معلوم نہیں ، انسان کا چچا اس کے باپ جیسا ہو تا ہے ؟ " ( ان کی زکاۃ تم مجھ سے طلب کر سکتے تھے ۔)
امام مالک نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لو گوں پر رمضان کا صدقہ فطر ( فطرانہ ) کھجور یا جو کا ایک صاع ( فی کس ) مقرر کیا ، وہ ( فرد ) مسلمانوں میں سے آزاد ہو یا غلا م مرد یا عورت ۔
عبید اللہ نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام یا آزاد چھوٹے یا بڑے ہر کسی پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقہ فطر ( فطرا نہ ) فرض قرار دیا ۔
ایوب نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد ہو یا غلام مرد ہو یا عورت ہر کسی پررمضان کا صدقہ کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع مقرر فر ما یا ۔ کہا : لو گوں نے گندم کا نصف صاع اس ( جو ) کے ( ایک صاع کے ) مساوی قرار دیا ۔
لیث نے نا فع سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر ( ادا ) کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو لو گو ں نے گندم کے دو ئد اس ( جو ) کے ایک صاع کے برابر قرار دے لیے ۔
اضحاک نے نافع سے اور انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں مسلمانوں میں سے ہر انسان پر آزاد یا غلام ، مرد ہو یا عورت ، چھوٹا ہو یا بڑا کھجوروں کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر مقرر فر ما یا ۔
زید بن اسلم نے عیا ض بن عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ہم زکا ۃ الفطر طعام ( گندم ) کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا کھجوروں کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع نکا لا کرتے تھے ۔