ہمام بن منبہ سے روایت کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں ۔ انھوں نے کچھ احادیث بیا ن کیں ان میں سے یہ بھی ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" لوگوں کے ہر جوڑ پر ہر روز ، جس میں سورج طلوع ہوتاہے ، صدقہ ہے ۔ "" فرمایا : تم دو ( آدمیوں ) کے درمیان عدل کرو ( یہ ) صدقہ ہے ۔ اور تمھارا کسی آدمی کی ، اس کے جانور کے متعلق مدد کرناکہ اسے اس پر سوار کرادو یا اس کی خاطر سواری پر اس کا سامان اٹھا کر رکھو ، ( یہ بھی ) صدقہ ہے ۔ "" فرمایا : "" اچھی بات صدقہ ہے اور ہر قدم جس سے تم مسجد کی طرف چلتے ہو ، صدقہ ہے اور تم راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو ( یہ بھی ) صدقہ ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھو ں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی دن نہیں جس میں بندے صبح کرتے ہیں مگر ( اس میں آسمان سے ) دو فرشتے اترتے ہیں ، ان میں سے ایک کہتاہے : اے اللہ!خرچ کرنے والے کو ( بہترین ) بدل عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے : اے اللہ! روکنے والے کا ( مال ) تلف کردے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھو ں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی دن نہیں جس میں بندے صبح کرتے ہیں مگر ( اس میں آسمان سے ) دو فرشتے اترتے ہیں ، ان میں سے ایک کہتاہے : اے اللہ!خرچ کرنے والے کو ( بہترین ) بدل عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے : اے اللہ! روکنے والے کا ( مال ) تلف کردے ۔
عبد اللہ بن براداشعری اور ابو کریب محمد بن علاء دو نوں نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے برید سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے ابو بردہ سے انھوں نے حضرت موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا : " لو گوں پر یقیناً ایسا وقت آئے گا جس میں آدمی سونے کا صدقہ لے کر گھومے گا پھر اسے کو ئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے اس سے لے لے اور مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ایسا اکیلا آدمی دیکھا جا ئے گا جس کے پیچھے چا لیس عورتیں ہو ں گی جو اس کی پناہ لے رہی ہو ں گی ۔ ابن براد کی روا یت میں ( ایسا اکیلا آدمی دیکھا جا ئے گا ۔ کی جگہ وتري رجل ( اور تم ایسےآدمی کو دیکھو گے ) ہے ۔
حدیث 2339 — صحيح مسلم #2339
سہیل کے والد ( ابو صالح ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ مال بڑھ جا ئے گا اور ( پانی کی طرح ) بہنے لگے گا اور آدمی اپنے مال کی زکاۃ لے کر نکلے گا تو اسے ایک شخص بھی نہیں ملے گا جو اسے اس کی طرف سے قبو ل کر لے اور یہاں تک کہ عربکی سر زمین دو بارہ چرا گا ہوں اور نہروں میں بدل جا ئے گی ۔
ابو یونس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا : " قیامت قائم نہیں ہو گی یہا ں تک کہ تمھا رے ہاں مال کی فراوانی ہو گئی وہ مال ( پانی کی طرح ) بہے گا یہاں تک کہ ما ل کے مالک کو یہ فکر لا حق ہو گی کہ اس سے اس ( مال ) کو بطور صدقہ کو ن قبول کرےگا ؟ ایک آدمی کو اسے لینے کے لیے بلا یا جا ئے گا تو وہ کہے گا : مجھے اس کی کو ئی ضرورت نہیں ۔
ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے اور چا ندی کے ستونوں کی صورت میں اگل دے گی تو قاتل آئے گا اور کہے گا کیا اس کی خا طر میں قتل کیا تھا ؟رشتہ داری تو ڑنے والا آکر کہے گا : کیا اس کے سبب میں نے قطع رحمی کی تھی ؟ چور آکر کہے گا : کیا اس کے سبب میرا ہا تھ کا ٹا گیا تھا ؟پھر وہ اس مال کو چھوڑ دیں گے ۔ اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے ۔
سعید بن یسار سے روا یت ہے کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی شخص پا کیزہ مال سے کو ئی صدقہ نہیں کرتا اور اللہ تعا لیٰ پا کیزہ مال ہی قبول فر ما تا ہے مگر وہ رحمٰن اسے اپنے دا ئیں ہا تھ میں لیتا ہے چا ہے وہ کھجور کا ایک دا نہ ہو تو وہ اس رحمٰن کی ہتھیلی میں پھلتا پھولتا ہے حتیٰ کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جا تا ہے بالکل اسی طرح جس طرح تم میں سے کو ئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پا لتا ہے ۔
یعقوب بن عبد الرحمٰن القاری نے سہیل سے انھوں نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " کو ئی شخص اپنی پا کیزہ کما ئی سے ایک کھجور بھی خرچ نہیں کرتا مگر اللہ اسے اپنے دا ہنے ہا تھ سے قبول کرتا ہے اور اسے اس طرح پالتا ہے جس طرح تم میں سے کو ئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پا لتا ہے حتیٰ کہ وہ ( کھجور ) پہا ڑ کی طرح یا اس سے بھی بڑی ہو جا تی ہے ۔