حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلاَثِينَ يَوْمًا " .
سعید بن مسیب ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار ( عید ) کرو اگر مطلع ابر آلود ہوتو تم تیس د نوں کے روزے رکھو ۔
حدیث 2515 — صحيح مسلم 13:21
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعَدَدَ " .
۔ ربیع ، ابن مسلم ، عن محمد ، ابن زیاد ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہوتو تم روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
حدیث 2516 — صحيح مسلم 13:22
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ " .
شعبہ ، محمد بن زیاد ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار ( عید ) کرو تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
حدیث 2517 — صحيح مسلم 13:23
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ، عُمَرَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْهِلاَلَ فَقَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ " .
اعرج ، ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے فرمایا کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کرروزہ افطار ( عید ) کرو ۔ تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
حدیث 2518 — صحيح مسلم 13:24
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ، بْنِ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ " .
علی بن مبارک ، یحییٰ بن ابن کثیر ، ابی سلمہ ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم رمضان المبارک سے نہ ایک دن اور نہ ہی دو دن پہلے روزہ رکھو سوائے اس آدمی کے جو اس دن روزہ رکھتاتھا تو اسے چاہیے کہ وہ رکھ لے ۔
۔ معاویہ ، ابن سلام ، ابن مثنی ، ابو عامر ، ہشام ، ابن مثنی ، ابن ابی عمر ، عبدالوہاب بن عبدالمجید ، ایوب ، ذہیر بن حرب ، حسین بن محمد ، شیبان ، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
حدیث 2520 — صحيح مسلم 13:26
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَقْسَمَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى أَزْوَاجِهِ شَهْرًا - قَالَ الزُّهْرِيُّ - فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ لَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً أَعُدُّهُنَّ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَتْ بَدَأَ بِي - فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ فَقَالَ " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
معمر ، حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ا پنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں میں ان راتوں کا شمار کرتی رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ۔ انھوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ۔ ( باریوں کا ) آغاز مجھ سے فرمایا میؔت نے عرض کی اے اللہ کے رسول آپ نےقسم کھائی تھی کہ آپ ہمارے پاس ایک ماہ تک نہ آئے گے ۔ اور آپ انتیس دن کے بعد تشریف لے آئے ہیں ، میں گنتی رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایا بیشک مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔
لیث ، ابن زبیر ، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے علیحدہ رہے تھے تو آپ انتیسویں دن میں ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ آج انتیسواں دن ہے پھر آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے اور آپ نے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ ہلایا اور آخری مرتبہ میں ایک انگلی کو بند فرمالیا ۔ ( اتنے یعنی انتیس دن کا ہوتا ہے)
حدیث 2522 — صحيح مسلم 13:28
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ شَهْرًا فَخَرَجَ إِلَيْنَا صَبَاحَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَصْبَحْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " . ثُمَّ طَبَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدَيْهِ ثَلاَثًا مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ كُلِّهَا وَالثَّالِثَةَ بِتِسْعٍ مِنْهَا .
ابن جریج ، ابو زبیر ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک علیحدہ رہے انتیس دن گزر جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف صبح کے وقت تشریف لائے تو کچھ لوگوں نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ انتیس دنوں کے بعد تشریف لے آئے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ ملایا دو مرتبہ اپنے ہاتھوں کی ساری انگلیوں کے ساتھ اور تیسری مرتبہ میں نو انگلیوں کے ساتھ
حجاج بن محمد ، ابن جریج ، یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن صیفی ، عکرمہ بن عبدالرحمٰن بن حارث ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خبر دیتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کچھ ازواج مطہرات کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے ۔ تو جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح یا شام ان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ہماری طرف تشریف نہیں لائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے