احمد بن عثمان نوفلی ، ابو داود ، شعبہ ، یحییٰ ابن ابی کثیر اس طرح ایک اور سند کےساتھ بھی یہ روایت نقل کی گئی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو رخصت عطاء فرمائی ہے اس پرعمل کرنا تمہارے لئے ضروری ہے راوی نے کہا کہ جب میں نے ان سے سوال کیا تو ان کو یاد نہیں تھا ۔
حدیث 2615 — صحيح مسلم 13:121
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ .
ہداب بن خالد ، ہمام بن یحییٰ ، قتادہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ رمضان کو کو ایک غزوہ میں گئے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزے سے تھے اور کچھ بغیر روزے کے چنانچہ نہ تو روزہ رکھنے والوں نے نہ رکھنے والوں کی مذمت کی اور نہ ہی نہ رکھنے والوں نے رکھنے والوں پر کوئی نکیر کی ۔
محمد بن ابی بکر مقدمی ، یحییٰ بن سعید تیمی ، محمد بن مثنیٰ ، ابن مہدی ، شعبہ ، ابو عامر ، ہشام ، سالم بن نوح ، عمر ( ابن عامر ) ابو بکر بن ابی شیبہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہمام کی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ تیمی اور عمر بن عامر اور ہشام کی روایت میں اٹھارہ تاریخ اور سعید کی حدیث میں بارہ تاریخ اور شعبہ کی حدیث میں سترہ یا انیس تاریخ ذکر کی گئی ہے ۔
حدیث 2617 — صحيح مسلم 13:123
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَمَا يُعَابُ عَلَى الصَّائِمِ صَوْمُهُ وَلاَ عَلَى الْمُفْطِرِ إِفْطَارُهُ .
نصر بن علی جہضمی ، بشر ( ابن مفضل ) ابی مسلمہ ، ابی نضرۃ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو کوئی بھی روزہ رکھنے والے کے روزہ پر تنقید نہیں کرتاتھا اور نہ ہی روزہ کے افطار کرنے والے پر کوئی تنقید کرتا تھا ۔
۔ عمرو ناقد ، اسماعیل بن ابراہیم ، جریری ، ابی نضرۃ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں ایک غزوہ میں تھے تو ہم میں سے کوئی روزہ دار ہوتا اور کوئی افطار ہوتا تو نہ تو روزہ دار افطار کرنے والے پر تنقید کرتا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی طاقت رکھتا ہے تو روزہ رکھ لے تو یہ اس کے لئے اچھا ہے اور وہ یہ بھی سمجھتے اگر کوئی ضعف پاتا ہے ۔ تو وہ افطار کرلے تو یہ اس کے لئے اچھا ہے ۔
سعید بن عمر ، سہل بن عثمان ، سوید بن سعید ، حسین بن حریث ، سعید ، مروان بن معاویہ ، عاصم ، ابا نضرۃ ، حضرت ابو سعید خدری ، جابر بن عبداللہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا اور افطار کرنے والا روزہ افطار کرلیتا تھا اور ان میں سے کوئی کسی کو ملامت نہیں کرتا تھا ۔
حدیث 2620 — صحيح مسلم 13:126
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ - رضى الله عنه - عَنْ صَوْمِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ فَقَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ .
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو خثيمة ، حضرت حمید سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سفر میں رمضان کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا ہے تو کوئی روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے کی ملامت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی ملامت کرتا تھا ۔
حدیث 2621 — صحيح مسلم 13:127
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ خَرَجْتُ فَصُمْتُ فَقَالُوا لِي أَعِدْ . قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنِي أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا يُسَافِرُونَ فَلاَ يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ . فَلَقِيتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ فَأَخْبَرَنِي عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - بِمِثْلِهِ .
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو خالد احمر ، حضرت حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ فرمایا کہ میں نکلا اور میں نے روزہ رکھ لیا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تم دوبارہ روزہ رکھو میں نے کہا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سفر کرتے تھے تو کوئی بھی روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے کی ملامت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی ملامت کرتاتھا پھر میں نے ابن ابی ملیکہ سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے اس طرح کی خبر دی ۔
حدیث 2622 — صحيح مسلم 13:128
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ - قَالَ - فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فِي يَوْمٍ حَارٍّ أَكْثَرُنَا ظِلاًّ صَاحِبُ الْكِسَاءِ وَمِنَّا مَنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ - قَالَ - فَسَقَطَ الصُّوَّامُ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَضَرَبُوا الأَبْنِيَةَ وَسَقَوُا الرِّكَابَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِ " .
ابو بکر بن ابی شیبۃ ، ابو معاویہ ، عاصم ، مورق ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو ہم میں کچھ روزہ دار تھے اور کچھ روزہ چھوڑے ہوئے تھے راوی نے کہا کہ ہم ایک جگہ سخت گرمی کے موسم میں اترے اور ہم میں سب سے زیادہ سایہ حاصل کرنےو الا وہ آدمی تھا کہ جس کے پاس چادر تھی ہم میں سے کچھ اپنے ہاتھوں سے دھو پ سے بچ رہے تھے راوی نے کہا کہ روزہ رکھنے والے تو گر گئے اور روزہ چھوڑنے والے قائم رہے انہوں نے خیمے لگائے اور اونٹوں کو پانی پلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن روزہ چھوڑنے والے اجر حاصل کرگئے ۔
حدیث 2623 — صحيح مسلم 13:129
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَصَامَ بَعْضٌ وَأَفْطَرَ بَعْضٌ فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ وَعَمِلُوا وَضَعُفَ الصُّوَّامُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ - قَالَ - فَقَالَ فِي ذَلِكَ " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِ " .
ابو کریب ، حفص ، عاصم ، مورق ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ چھوڑدیا روزہ نہ رکھنے والے تو خدمت کے کام پر لگ گئے اور روزہ رکھنے والے خدمت کے کام میں کمزور پڑگئے راوی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ روزہ افطار کرنے والے اجر پاگئے ۔