محمد بن مثنیٰ اورابو بکر بن خلاد نے کہا : ہمیں عبد الارلیٰ نے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سعید نے ابو نضر ہ سے اور انھوں نےحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضا ن کے درمیا نے عشرے کا اعتکاف کیا اس سے پہلے کہ آپ کے سامنے اس اس کو کھول دیا جا ئے ۔ آپ لیلۃالقدر کو تلاش کر ہے تھے ۔ جب یہ ( دس راتیں ) ختم ہو گئیں تو آپ نے حکم دیا اور ان خیموں کو اکھا ڑدیا گیا پھر ( وہ رات ) آپ پر واضح کر دی گئی کہ وہ آخری عشرے میں ہے ۔ اس پر آپ نے ( خیمے لگا نے کا ) حکم دیا تو ان کو دوبارہ لگا دیا گیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا : "" اے لوگو! مجھ پر لیلۃالقدر واضھ کر دی گئی اور میں تم کو اس کے بارے میں بتا نے کے لیے نکلا تو دو آدمی ( ایک دوسرے پر ) اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہو ئے آئے ان کے ساتھ شیطان تھا ۔ اس پر وہ مجھے بھلا دی گئی ۔ تم اسے رمضا ن کے آخری عشرے میں تلا ش کرو ۔ تم نویں ساتویں اور پانچویں ( رات ) میں تلاش کرو ۔ ( ابو نضرہ نے ) کہا : میں نے کہا : ابو سعید !ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں انھوں نے کہا : ہاں ہم اسے جاننے کے تم تم سے زیادہ حقدار ہیں ۔ کہا میں نے پوچھا : نویں ، ساتویں ، اور پانچویں سے کیا مراد ہے ؟انھوں نے جواب دیا : جب اکیسویں رات گزرتی ہے تو وہی رات جس کے بعد بائیسویں آتی ہے وہی نویں ہے اور جب تیئسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد ( آخر سے گنتے ہو ئے ساتویں رات آتی ہے ) ساتویں ہے اس کے بعد جب پچسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد پانچویں رات آتی ہے ) پانچویں ہے ۔
بسر بن سعید نے حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مجھے شب قدر دکھا ئی گئی پھر مجھے بھلا دی گئی ۔ اس کی صبح میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ کہا : تیئسویں رات ہم پر بارش ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھا ئی پھر آپ نے ( رخ ) پھیرا تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشانات تھے ، کہا : اور عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے ( لیلۃالقدر ) تیئیسویں ہے ۔
حدیث 2776 — صحيح مسلم 13:282
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ " الْتَمِسُوا - وَقَالَ وَكِيعٌ - تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لیلۃالقدر کو رمضا ن کی آخری دس راتوں میں تلا ش کرو ۔
سفیان بن عیینہ نے عبد ہ اور عا صم بن ابی نجود سے روایت کی ، ان دو نوں نے حضرت زربن حبیش ؒ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا ، میں نے کہا : آپ کے بھا ئی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جو سال بھر ( رات کو ) قیام کرے گا ۔ وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا ۔ انھوں نے فر ما یا : " اللہ ان پر رحم فر ما ئے انھوں نے چا ہا کہ لو گ ( کم راتوں کی عبادت پر ) قناعت نہ کر لیں ورنہ وہ خوب جا نتے ہیں کہ وہ رمضان ہی میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی کہ وہ ستا ئیسویں رات ہے ۔ پھر انھوں نے استثناکیے ( ان شاء اللہ کہے ) بغیر قسم کھا کر کہا : وہ ستا ئیسویں رات ہی ہے اس پر میں نے کہا : ابو منذرا ! یہ بات آپ کس بنا پر کہتے ہیں ؟انھوں نے کہا : اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتا ئی ہے کہ اس دن سورج نکلتا ہے اس کی شعائیں ( نما یاں ) نہیں ہو تیں ۔
حدیث 2778 — صحيح مسلم 13:284
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَةَ، بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ أُبَىٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُهَا - قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْبَرُ عِلْمِي - هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ . وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ .
شعبہ نے کہا : میں نے عبد ہ بن ابی لبابہ سے سنا ، وہ حضرت زر بن حبیشؒ سے حدیث بیان کر رہے تھے ۔ انھوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہا : حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیلۃالقدر کے بارے میں کہا : اللہ کی قسم!میں اس کو جا نتا ہوں شعبہ نے ( روایت کے الفا ظ بیان کرتے ہو ئے ) کہا : میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس ( پر پوری رات ) کے قیام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا ( اور ) وہ ستائیسویں رات ہے ۔ اس فقرے میں شعبہ نے شک کیا : یہ وہی را ت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ۔ "" اور کہا : اس کے بارے میں مجھے میرے ایک ساتھی نے ان ( عبد ہ ) کے حوالے سے حدیث بیان کی ۔
حدیث 2779 — صحيح مسلم 13:285
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - وَهُوَ الْفَزَارِيُّ - عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہم نے آپ میں لیلۃ القدر کا ذکر کیا تو آپ نے فر مایا : " تم میں سے کس کو یا د ہے جب چا ند طلوع ہوا اور وہ پیا لے کے ایک ٹکڑے کے مانند تھا ( وہی رات تھی)
حدیث 2780 — صحيح مسلم 14:1
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ .
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے ۔
حدیث 2781 — صحيح مسلم 14:2
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ نَافِعًا، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ . قَالَ نَافِعٌ وَقَدْ أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ - رضى الله عنه - الْمَكَانَ الَّذِي كَانَ يَعْتَكِفُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَسْجِدِ .
یونس بن یزید نے مجھے خبر دی کہ نافع نے انھیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے ۔ نافع نے کہا : عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے مسجد میں وہ جگہ بھی دیکھائی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ا عتکاف کیا کرتے تھے ۔
حدیث 2782 — صحيح مسلم 14:3
وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ .
عبدالرحمان بن قاسم نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے ۔
ہشام بن عروہ نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے ۔