زکریا بن ابی زائد ہ سے روایت ہے کہا : ہمیں عبدالرحٰمن بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا مجھے عبد اللہ بن معقل نے انھوں نے کہا : مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنا ئیکہ وہ احرا م باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں ( کثرت سے ) جو ئیں پڑ گئیں ۔ اس ( بات ) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انھیں بلا بھیجا اور ھجا م کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پو چھا : " کیا تمھا رے پاس کو ئی قربانی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ( اے اللہ کے رسول ) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انھیں حکم دیا : تین دن کے روزے عکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھا نا مہیا کر دو مسکینو ں کے لیے ایک صاعہو اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فر ما ئی : " جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ، اس کے بعد یہ ( اجازت ) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے ۔
حدیث 2885 — صحيح مسلم 15:95
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حا لت میں سینگی لگوائی ۔
حدیث 2886 — صحيح مسلم 15:96
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَسَطَ رَأْسِهِ .
حضرت ابن بحسینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے را ستے ہیں احرا م کی حالت میں اپنے سر کے در میان کے حصے پر سینگی لگوائی ۔
سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ایوب بن مو سیٰ نے نبیہ بن وہب سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا ہم ابان بن عثمان کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے جب ہم ملل کے مقام پر پہنچے تو عمر بن عبید اللہ کی انکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی ، جب ہم رَرحا ء میں تھے تو ان کی تکلیف شدت اختیار کر گئی انھوں نے مسئلہ پو چھنے کے لیے ابان بن عثمان کی طرف قاصد بھیجا ، انھوں نے ان کی طرف جواب بھیجا کہ دو نوں ( آنکھوں ) پر ایلوے کا لیپ کرو ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے اس شخص کے متعلق حدیث بیان کی تھی جو احرا م کی حا لت میں تھا جب اس کی آنکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی تو آپ نے ( اس کی آنکھوں پر ) ایلوے کا لیپ کرا یا تھا ۔
ہمیں عبد الصمد بن عبد الوارث نے خبر دی کہا : مجھ سے میرے والد نے حدیث بیان کی کہا : ہم سے ایوب بن موسیٰ نے حدیث بیان کی کہا : مجھ سے نبیہ بن وہب نے حدیث بیان کی کہ ( ایک بار احرا م کی حالت میں ) عمر بن عبید اللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں انھوں نے ان میں سر مہ لگا نے کا ارادہ فر ما یا تو ابان بن عثمان نے انھیں روکا اور کہا کہ اس پر ایلوے کا پیپ کر لیں ۔ اور عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ نے ایسا ہی کیا تھا ۔
سفیان بن عیینہ اور مالک بن انس نے زید بن اسلم سے انھوں نے ابرا ہیم بن عبد اللہ بن حنین سے انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن حنین ) سے انھوں نے عبد اللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ابو اء کے مقام پر ان دونوں کے در میان اختلا ف ہوا ۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : محرم شخص اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : محرم اپنا سر نہیں دھو سکتا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے ( عبد اللہ بن حنین کو ) ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیجا کہ میں ان سے ( اس کے بارے میں ) مسئلہ پوچھوں ( جب میں ان کے پاس پہنچا تو ) انھیں ایک کپڑے سے پردہ کر کے کنویں کی دو لکڑیوں کے در میان ( جو کنویں سے فاصلے پر لگا ئی جا تی تھیں اور ان پر لگی ہو ئی چرخی پر سے اونٹ وغیرہ کے ذریعے ڈول کا رسہ کھینچا جا تا تھا ) غسل کرتے ہو ئے پایا ۔ ( عبد اللہ بن حنین نے ) کہا : میں نے انھیں سلام کہا : وہ بو لے : یہ کون ( آیا ) ہے؟میں نے عرض کی : میں عبد اللہ بن حنین ہوں مجھے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی طرف بھیجا ہے کہ میں اپ سے پو چھوں : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرا م کی حا لت میں اپنا سر کیسے دھو یا کرتے تھے ؟ ( میری بات سن کر ) حضرت ابو اءایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر اسے نیچے کیا حتی کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا پھر اس شخص سے جو آپ پر پانی انڈیل رہا تھا کہا : پانی ڈا لو ۔ اس نے آپ کے سر پر پا نی انڈیلا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو خوب حرکت دی اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے ۔ پھر کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہو ئے دیکھا تھا ۔
ہم سے ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا مجھے زید بن اسلم نے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا کہ ابواء ایوب نے اپنے دو نوں ہاتھوں کو اپنے پورے سر پر پھیر اانھیں آگے اور پیچھے لے گئے اس کے بعد حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : میں آپ سے کبھی بحث نہیں کیا کروں گا ۔
سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینا ر ) سے ( انھوں نے ) سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گر گیا ۔ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فو ت ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے دونوں کپڑوں ( احرا م کی دو نوں چادروں ) میں اسے کفن دو اس کا سر نہ ڈھانپو ۔ بلا شبہ اللہ تعا لیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھا ئے گا کہ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔
حدیث 2892 — صحيح مسلم #2892
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ - قَالَ أَيُّوبُ فَأَوْقَصَتْهُ أَوْ قَالَ - فَأَقْعَصَتْهُ وَقَالَ عَمْرٌو فَوَقَصَتْهُ - فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلاَ تُحَنِّطُوهُ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ - قَالَ أَيُّوبُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا وَقَالَ عَمْرٌو - فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " . وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ نُبِّئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَجُلاً، كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ . فَذَكَرَ نَحْوَ مَا ذَكَرَ حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ .
حماد نے عمرو بن دینا ر اور ایوب سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ایک شخص عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقف میں تھا کہ اپنی سواری سے گرگیا ایوب نے کہا اس کی سوری نے اس کی گردن تو ڈالی ۔ ۔ ۔ یا کہا : اسے اسی وقت مار ڈالا ۔ ۔ ۔ اور عمرو نے فوقصته کہا ( اس کی گردن کا منکا توڑ دیا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتا ئی گئی تو فر مایا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے کپڑوں میں کفن دو اسے خوشبو لگا ؤ نہ اس کا سر ڈھا نپو ۔ ایوب نے کہا : " بلا شبہ اللہ تعا لیٰ قیامت کے دن اسے اسی حالت میں تلبیہ کہتا ہوا اٹھا ئے گا ۔ اور عمرو نے کہا : " بلا شبہ اللہ تعا لیٰ اسے قیامت کے دن اٹھا ئے گا ۔ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔
حدیث 2893 — صحيح مسلم #2893
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ - قَالَ أَيُّوبُ فَأَوْقَصَتْهُ أَوْ قَالَ - فَأَقْعَصَتْهُ وَقَالَ عَمْرٌو فَوَقَصَتْهُ - فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلاَ تُحَنِّطُوهُ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ - قَالَ أَيُّوبُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا وَقَالَ عَمْرٌو - فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " . وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ نُبِّئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَجُلاً، كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ . فَذَكَرَ نَحْوَ مَا ذَكَرَ حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ .
حماد نے عمرو بن دینا ر اور ایوب سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ایک شخص عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقف میں تھا کہ اپنی سواری سے گرگیا ایوب نے کہا اس کی سوری نے اس کی گردن تو ڈالی ۔ ۔ ۔ یا کہا : اسے اسی وقت مار ڈالا ۔ ۔ ۔ اور عمرو نے فوقصته کہا ( اس کی گردن کا منکا توڑ دیا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتا ئی گئی تو فر مایا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے کپڑوں میں کفن دو اسے خوشبو لگا ؤ نہ اس کا سر ڈھا نپو ۔ ایوب نے کہا : " بلا شبہ اللہ تعا لیٰ قیامت کے دن اسے اسی حالت میں تلبیہ کہتا ہوا اٹھا ئے گا ۔ اور عمرو نے کہا : " بلا شبہ اللہ تعا لیٰ اسے قیامت کے دن اٹھا ئے گا ۔ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔