قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 2994 — صحيح مسلم 15:202
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلاَلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، الْمُهَلَّبِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - فِي رِوَايَةِ يَحْيَى - قَالَ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَوْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا ‏.‏
یحییٰ بن ایوب اور عبداللہ بن عون ہلالی نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عباد بن عباد مہلبی نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) عبیداللہ بن عمر نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے ۔ یحییٰ کی روایت میں ہے ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کاتلبیہ پکارا ۔ اور ابن عون کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا تلبیہ پکارا ۔
حدیث 2995 — صحيح مسلم 15:203
وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا ‏.‏ قَالَ بَكْرٌ فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ ‏.‏ فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ أَنَسٌ مَا تَعُدُّونَنَا إِلاَّ صِبْيَانًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا ‏"‏ ‏.‏
حمید نے بکر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حج وعمرے کا اکٹھا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ۔ بکر نے کہا : میں نے ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ) یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتائی تو انھوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے حج ہی کا تلبیہ پکارا تھا ۔ ( بکر نے کہا : ) پھر میری ملاقات حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو میں نے انھیں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاقول سنایا ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ( اس وقت کے لحاظ سے ) تم ہمیں بچے ہی سمجھتے ہو؟ ( حالانکہ ایسانہ تھا ) میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا "" لبيك عمرة وحجا "" اےاللہ میں حج اور عمرے کے لئے حاضر ہوں ۔
حدیث 2996 — صحيح مسلم 15:204
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا حَبِيبُ، بْنُ الشَّهِيدِ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، رضى الله عنه أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَهُمَا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ قَالَ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ‏.‏ فَرَجَعْتُ إِلَى أَنَسٍ فَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ كَأَنَّمَا كُنَّا صِبْيَانًا ‏.‏
حبیب بن شہید نے بکر بن عبداللہ سے روایت کی ، ( کہا : ) ہمیں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیا ن کی کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ان دونوں کو ملایاتھا ، حج اور عمرے کو ۔ ( بکر نے ) کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : ہم نے ( صرف ) حج کا تلبیہ کہا تھا ۔ ( بکر نے کہا : ) پھر میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رجوع کیا اور انھیں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات بتائی ۔ انھوں نے جواب دیا : جیسے ہم تو اس وقت بچے تھے؟
حدیث 2997 — صحيح مسلم 15:205
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الْمَوْقِفَ ‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ لاَ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَأْتِيَ الْمَوْقِفَ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَوْقِفَ فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا
اسماعیل بن ابی خالد نے وبرہ سے روایت کی ، کہا : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا ، اس نے پوچھا : کیا عرفات پہنچنے سے پہلے میں بیت اللہ کا طواف کرسکتا ہوں؟انھوں نے جواب دیا ، ہاں ( کرسکتے ہو ) اس نے کہا : ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو کہا ہے کہ عرفہ پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے جواب دیا : ( سنو! ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج فرمایا تو آپ نے میدان عرفات پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف کیاتھا ۔ ( اب سوچو ) کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ا پناؤ یہ زیادہ حق ہے؟یا یہ کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول؟اگر تم ( ان کے بارے میں ) سچ کہہ رہے ہو ۔
حدیث 2998 — صحيح مسلم 15:206
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُكَ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ فُلاَنٍ يَكْرَهُهُ وَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُ رَأَيْنَاهُ قَدْ فَتَنَتْهُ الدُّنْيَا ‏.‏ فَقَالَ وَأَيُّنَا - أَوْ أَيُّكُمْ - لَمْ تَفْتِنْهُ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَسُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعَ مِنْ سُنَّةِ فُلاَنٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ‏.‏
بیان نے وبرہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا : میں نےحج کا احرام باندھا ہے ، تو کیا میں بیت اللہ کاطواف کرلوں؟انھوں نے فرمایا : ( ہاں ) تمھیں کیا مانع ہے؟اس نے کہا : میں نے ابن فلاں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو دیکھا ہے کہ وہ اسے ناپسندکرتے ہیں اور آپ ہمیں ان سے زیادہ محبوب ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا نے انھیں فتنے میں ڈال دیا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم میں سے کون یاتم میں سے کون ۔ جسے دنیا نے فتنے میں نہیں ڈالا؟ ( تم ان پر دنیا داری کا اعتراض نہ کرو ، ) پھر فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے حج کااحرام باندھا ، بیت اللہ کاطواف کیا اور صفا مروہ کی سعی فرمائی ، ( اب سوچو ) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی کا زیادہ حق ہے ۔ یافلاں کے راستے کا کہ اس کی اتباع کی جائے؟اگر تم سچ کہہ رہے ہو ۔
حدیث 2999 — صحيح مسلم 15:207
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ، قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ فَقَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ‏.‏
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، کہا : ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو عمرے کی غرض سے آیا ، اس نے بیت اللہ کاطواف کرلیا ( لیکن ابھی ) صفا مروہ کی سعی نہیں کی ، کیا وہ اپنی بیوی سے صحبت کرسکتا ہے؟انھوں نے فرمایا : ( جب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے تو آپ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا ، مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا فرمائیں ، اور ( پھر ) صفا مروہ کے درمیان سات بار چکر لگائے ۔ اور ( یاد رکھو ) تمھارے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( کے طریقے ) میں بہترین نمونہ ہے ۔
حدیث 3000 — صحيح مسلم 15:208
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ، بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، جَمِيعًا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏
حماد بن زید اور ابن جریج دونوں نے عمرو بن دینار کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن عینیہ کی ( گزشتہ ) حدیث کے مانند روایت بیان کی ۔
حدیث 3001 — صحيح مسلم 15:209
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لاَ فَإِنْ قَالَ لَكَ لاَ يَحِلُّ ‏.‏ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَجُلاً يَقُولُ ذَلِكَ - قَالَ - فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لاَ يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلاَّ بِالْحَجِّ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنَّ رَجُلاً كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ بِئْسَ مَا قَالَ فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ فَقُلْ لَهُ فَإِنَّ رَجُلاً كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ وَمَا شَأْنُ أَسْمَاءَ وَالزُّبَيْرِ فَعَلاَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ فَجِئْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ لاَ أَدْرِي ‏.‏ قَالَ فَمَا بَالُهُ لاَ يَأْتِينِي بِنَفْسِهِ يَسْأَلُنِي أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا ‏.‏ قُلْتُ لاَ أَدْرِي ‏.‏ قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ كَذَبَ قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ - رضى الله عنها - أَنَّ أَوَّلَ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِكَ ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلاَ يَسْأَلُونَهُ وَلاَ أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَءُونَ بِشَىْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّونَ وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ لاَ تَبْدَآنِ بِشَىْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ثُمَّ لاَ تَحِلاَّنِ وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏
محمد بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ ایک عراقی شخص نے ان سے کہا : میری طرف سے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیجئے جو حج کا تلبیہ پکارتا ہے ، جب وہ بیت اللہ کاطواف کرلےتو کیا احرام سے آزاد ہوجائےگا یانہیں؟اگر وہ تمھیں جواب دیں کہ وہ آزاد نہیں ہوگا تو ان سے کہناکہ ایک شخص ہے جو یہ کہتاہے ( محمد بن عبدالرحمان نے ) کہا : میں نے عروہ سے اس کی بابت سوال کیا توا نھوں نےکہا : جو شخص حج کا احرام باندھے ، وہ حج کیے بغیر احرام سے فارغ نہیں ہوگا ۔ میں ( محمد بن عبدالرحمان ) نے عرض کی کہ ایک شخص ہے جو یہی بات کہتا ہے انھوں نے فرمایا : کتنی بری بات ہے جو اس نے کہی ہے ۔ پھر میرا ٹکراؤ ( اس عراقی ) شخص سے ہوا تو اس نے مجھ سے ( اپنے سوال کے متعلق ) پوچھا ۔ میں نے اسے بتادیا ۔ اس ( عراقی ) نے کہا : ان ( عروہ ) سے کہو ، بلاشبہ ایک شخص خبر دے رہاتھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا حکم کیا تھا ( حکم دیا تھا ) حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیا معاملہ تھا؟انھوں نے ( بھی تو ) ایسا کیا تھا ۔ ( محمد بن عبدالرحمان نے ) کہا : میں ان عروہ کے پاس آیا اور ان کو یہ بات سنائی ۔ انھوں نے پوچھا : یہ ( سائل ) کون ہے؟میں نے عرض کی : میں نہیں جانتا ۔ انھوں نے کہا : اسے کیا ہے؟وہ خود میرے پاس آکرمجھ سے سوال کیوں نہیں کرتا؟میرا خیال ہے ، وہ کوئی عراقی ہوگا ۔ میں نے کہا : میں نہیں جانتا ۔ ( عروہ نے ) کہا : بلاشبہ اس نے جھوٹ بولاہے ۔ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےخبر دی کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا ، مکہ آکر آپ نے جو کام سب سے پہلے کیا ، یہ تھا کہ آپ نے وضوفرمایا اور پھر بیت اللہ کاطواف کیا ۔ پھر ان کے بعدحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی حج کیا ، انھوں نے بھی ، سب سے پہلے جو کیا ، یہی تھا کہ بیت اللہ کا طواف کیا اور اس کےسوا کوئی کام نہ کیا ( نہ بال کٹوائے نہ احرام کھولا ) ، پھرحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہی ایسا ہی کیا ۔ پھرحضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا ۔ میں نےانھیں دیکھا ، انھوں نے بھی سب سے پہلا کام جس سے آغاز کیا ، بیت اللہ کاطواف تھا ، پھر اس کےپھر اس کے علاوہ کوئی کام نہ ہوا ۔ پھرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورعبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( نے بھی ایسا ہی کیا ) پھر میں نے اپنے والد زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حج کیا ، انھوں نے بھی سب سے پہلے جس سے آغاز کیا بیت اللہ کاطواف تھا اور اس کے علاوہ کوئی نہ تھا ، پھر میں نے مہاجرین وانصار ( کی جماعت ) کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا ۔ اس کے بعد ( بال کٹوانا احرام کھولنا ) کوئی کام نہ ہوا ۔ پھر سب سے آخر میں جسے میں نے یہ کرتے دیکھا وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔ انہوں نے بھی عمرے کے ذریعے سے اپنے حج کو فسخ نہیں کیا ، اور یہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کے پاس موجود ہیں ۔ یہ انھی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟اور نہ گزرے ہوئے لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) میں سے کسی نے ( یہ کام ) کیا ۔ وہ ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) جب بھی بیت اللہ میں قدم رکھتے تو طواف سے پہلے اور کسی چیز سے ابتداء نہ کرتے تھے ( طوا ف کرنے کے بعد ) احرام نہیں کھولتے تھے ۔ میں نے اپنی والدہ اور خالہ کو بھی دیکھا ، وہ جب بھی مکہ آتیں طواف سے پہلے کسی اور کام سے آغاز نہ کرتیں ، اس کا طواف کرتیں ، پھر احرام نہ کھولتیں ( حتیٰ کہ حج پورا کرلیتیں ) میری والدہ نے مجھے بتایا کہ وہ ، ان کی ہمشیرہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) ، حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فلاں فلاں لوگ کسی وقت عمرہ کے لئے آئے تھے ، جب انھوں نے حجر اسود کا استلام کرلیا ( اور عمرہ مکمل ہوگیا ) تو ( اس کے بعد ) انھوں نے احرام کھولا ۔ اس شخص نے اس کے بارے میں جس بات کا ذکر کیا ہے ، اس میں جھوٹ بولا ہے ۔
حدیث 3002 — صحيح مسلم 15:210
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، - رضى الله عنهما - قَالَتْ خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَحْلِلْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْىٌ فَحَلَلْتُ وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْىٌ فَلَمْ يَحْلِلْ ‏.‏ قَالَتْ فَلَبِسْتُ ثِيَابِي ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ قُومِي عَنِّي ‏.‏ فَقُلْتُ أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ
ابن جریج نے کہا : مجھے منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔ انھوں نے کہا : ہم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) احرام باندھے ہوئے روانہ ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس کے ساتھ قربانی ہے وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے ساتھ قربانی نہیں ہے ( وہ عمرے کےبعد ) احرام کھول دے ۔ "" میرے ساتھ قربانی نہیں تھی میں نے احرام کھول دیا اور ( میرے شوہر ) زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ قربانی تھی ، انھوں نے نہیں کھولا ۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( عمرے کے بعد ) میں نے ( دوسرے ) کپڑے پہن لئے اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آبیٹھی ، وہ کہنے لگے : میرے پاس سے اٹھ جاؤ ، میں نے کہا : آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی ۔
حدیث 3003 — صحيح مسلم 15:211
وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، - رضى الله عنهما - قَالَتْ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ اسْتَرْخِي عَنِّي اسْتَرْخِي عَنِّي ‏.‏ فَقُلْتُ أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ
وہیب نے کہا : ہمیں منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ہم حج کا تلبیہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے ، پھر آگے ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی ، البتہ ( اپنی حدیث میں یہ اضافہ ) ذکر کیا : ( زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : مجھ سے دور رہو ، مجھ سے دور رہو ، میں نے کہا : آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔