حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ هِيَ حَرَامٌ لاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ .
ہمیں عاصم احول نے خبر دی کہا ، میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انھوں نے کہا : ہاں ، یہ حرم ہے اس کی گھاس نہ کا ٹی جا ئے جس نے ایسا کیا اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی ، اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی ۔
اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حجرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اےاللہ !ان ( اہل مدینہ ) کے لیے ان کے ناپنے کے پیمانے میں بر کت عطا فر ما ، ان کے صاع میں بر کت عطا فر ما ۔ اور ان کے مد میں بر کت فر ما ۔
زہری نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اے اللہ !مدینہ میں اس سے دگنی برکت رکھ جتنی مکہ میں ہے ۔
ہمیں ابو بکر بن ابی شیبہ زہیر بن حرب اور ابو کریب سب نے ابو معاویہ سے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا : جس نے یہ گمان کیا کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفہ ۔ ۔ ۔ ( راوی نے ) کہا : اور وہ صحیفہ ان کی تلوار کے تھیلے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ کے علاوہ کچھ ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو اس نے جھوٹ بولا اس میں ( دیت کے ) کچھ احکام ہیں ۔ اور اس میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" عیر سے ثور تک کے درمیان ( سارا ) مدینہ حرم ہے : جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا بدعت کے کسی مرتکب کو پناہ دی تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی ۔ قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس سے کو ئی عذر قبول کرے گا نہ کو ئی بدلہ اور سب مسلمانوں کی ذمہ داری ( امان ) ایک ( جیسی ) ہے ان کا ادنیٰ شخص بھی ایسا کرسکتا ہے ( امان دے سکتا ہے ) جس شخص نے اپنے والد کے سواکسی اور کا ( بیٹا ) ہو نے کا دعویٰ کیا یا جس ( غلام ) نے اپنے موالی ( آزاد کرنے والوں ) کے سوا کسی اور کی طرف نسبت اختیار کی اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی ا اور سب لوگوں کی لعنت ہے ۔ قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس سے کو ئی عذر قبول فرمائے گا نہ بدلہ ابو بکر اور زہیر کی حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "" ان کا ادنیٰ شخص بھی ایسا کر سکتا ہے "" پر ختم ہو گئی اور ان دونوں نے وہ حصہ ذکر نہیں کیا جو اس کے بعد ہے اور نہ ان کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں : "" وہ ان کی تلوار کے تھیلے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا ۔
علی بن مسہر اور وکیع دونوں نے اعمش سے سی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح آخر تک ابو معاویہ سے ابو کریب کی روایت کردہ حدیث ہے اور ( اسمیں ) یہ اجافہ کیا : " لہٰذا جس نے کسی مسلمان کی امان تو ڑی اس پر اللہ تعا لیٰ کی ( تمام ) فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اس سے کو ئی عذرقبول کیا جا جا ئے گا نہ بدلہ ۔ ان دونوں کی حدیث میں یہ الفا ظ نہیں ہیں " جس نے اپنے والد کے سوا کسی اور کی نسبت اختیار کی " اور نہ وکیع کی روایت میں قیامت کے دن کا تذکرہ ہے ۔
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ابن مسہر اور وکیع کی حدیث کی طرح بیان کی مگر اس میں " جس نے اپنے موالی ( آزاد کرنے والوں ) کے علاوہ کسی کی طرف نسبت اختیار کی " اور اس پر لعنت کا ذکر نہیں ہے ۔
زائد ہ نے سلیمان سے انھوں نے ابو صالح سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " مدینہ حرم ہے جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا یا کسی بدعت کے مرتکب کو پنا ہ دی اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے ۔ قیامت کے دن اس سے کو ئی عذر قبول کیا جا ئے گا نہ کو ئی بدلہ ۔
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، اور انھوں نے " قیامت کے دن " کے الفاظ نہیں کہے اور یہ اضافہ کیا : " اور تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ( جیسا ) ہے ان کا ادنیٰآدمی بھی پناہ کی پیش کش کر سکتا ہے جس نے کسی مسلمان کی امان توڑی اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے ۔ قیامت کے دن اس سے کو ئی بدلہ قبول کیا جا ئے گا نہ کو ئی عذر ۔
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث سنا ئی کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ ابن شہاب سے روایت ہے ۔ انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ کہا کرتے تھے : اگر میں مدینہ میں ہرنیاں چرتی ہو ئی دیکھوں ، تو میں انھیں ہراساں نہیں کروگا ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کے دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے ۔
معمر نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دو سیاہ پتھروں والے میدانوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اگر میں ان دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان ہرنیوں کو پاؤں تو میں انھیں ہراساں نہیں کروں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے اردگرد بارہ میل کا علاقہ محفوظ چراگاہ قراردیا ہے ۔