قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 3684 — صحيح مسلم 18:33
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ نَعُدَّهُ طَلاَقًا ‏.‏
عبثر نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے خبر دی ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ( جب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( علیحدہ ہو جانے کا ) اختیار دیا تھا ، تو ہم نے اسے طلاق شمار نہیں کیا
حدیث 3685 — صحيح مسلم 18:34
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي، خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ مَا أُبَالِي خَيَّرْتُ امْرَأَتِي وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً أَوْ أَلْفًا بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي وَلَقَدْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفَكَانَ طَلاَقًا
علی بن مسہر نے اسی سند کے ساتھ مسروق سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب میری اہلیہ نے مجھے پسند کر لیا تو اس کے بعد مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسے ایک بار ، سو بار یا ایک ہزار بااختیار دوں ۔ بلاشبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تھا تو انہوں نے جواب دیا : بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا تو کیا وہ طلاق تھی! ( نہیں تھی)
حدیث 3686 — صحيح مسلم 18:35
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيَّرَ نِسَاءَهُ فَلَمْ يَكُنْ طَلاَقًا‏.‏
شعبہ نے ہمیں عاصم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے مسروق سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو ( ساتھ رہنے یا علیحدہ ہو جانے کا ) اختیار دیا تھا اور وہ طلاق نہیں تھی
حدیث 3687 — صحيح مسلم 18:36
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعُدَّهُ طَلاَقًا ‏.‏
سفیان نے عاصم احول اور اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے مسروق سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ کو اختیار کیا ( چن لیا ) اور آپ نے اسے طلاق شمار نہیں کیا
حدیث 3688 — صحيح مسلم 18:37
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعْدُدْهَا عَلَيْنَا شَيْئًا ‏.‏
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسلم سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ کو اختیار کر لیا اور آپ نے اسے ہم پر ( طلاق وغیرہ ) کچھ شمار نہیں کیا
حدیث 3689 — صحيح مسلم 18:38
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، بِمِثْلِهِ‏.‏
اسماعیل بن زکریا نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اسود سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، ( نیز اسماعیل نے ) اعمش سے ، انہوں نے مسلم ( ابن صبیح ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مانند روایت کی
حدیث 3690 — صحيح مسلم 18:39
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لأَحَدٍ مِنْهُمْ - قَالَ - فَأُذِنَ لأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَوَجَدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمًا سَاكِتًا - قَالَ - فَقَالَ لأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا ‏.‏ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا فَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا كِلاَهُمَا يَقُولُ تَسْأَلْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَيْسَ عِنْدَهُ ‏.‏ فَقُلْنَ وَاللَّهِ لاَ نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا أَبَدًا لَيْسَ عِنْدَهُ ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا أَوْ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ‏}‏ حَتَّى بَلَغَ ‏{‏ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا‏}‏ قَالَ فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكَ أَمْرًا أُحِبُّ أَنْ لاَ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَلاَ عَلَيْهَا الآيَةَ قَالَتْ أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَشِيرُ أَبَوَىَّ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ وَأَسْأَلُكَ أَنْ لاَ تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِي قُلْتُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلاَّ أَخْبَرْتُهَا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلاَ مُتَعَنِّتًا وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا ‏"‏ ‏.‏
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگ رہے تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو آپ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے پایا ۔ ان میں سے کسی کو اجازت نہیں ملی تھی ۔ کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت ملی تو وہ اندر داخل ہو گئے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، انہیں بھی اجازت مل گئی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین اور خاموش بیٹھے ہوئے پایا ، آپ کی بیویاں آپ کے ارد گرد تھیں ۔ کہا : تو انہوں ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں ضرور کوئی ایسی بات کروں گا جس سے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساؤں گا ۔ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! کاش کہ آپ بنت خارجہ کو دیکھتے جب اس نے مجھ سے نفقہ کا سوال کیا تو میں اس کی جانب بڑھا اور اس کی گردن دبا دی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ اور فرمایا : "" یہ بھی میرے اردگرد بیٹھی ہیں ، جیسے تم دیکھ رہے ہو ، اور مجھ سے نفقہ مانگ رہی ہیں ۔ "" ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جانب اٹھے اور ان کی گردن پر ضرب لگانا چاہتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی جانب بڑھے اور وہ ان کی گردن پر مارنا چاہتے تھے ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس سے روک دیا ۔ مسند احمد : 3/328 ) اور دونوں کہہ رہے تھے : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا سوال کرتی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے ۔ وہ کہنے لگیں : اللہ کی قسم! آج کے بعد ہم کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کریں گی جو آپ کے پاس نہ ہو گی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ یا انتیس دن تک کے لیے ان سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ پھر آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : "" اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دو ۔ "" حتی کہ یہاں پہنچ گئے : "" تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بڑا اجر ہے ۔ "" ( جابر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : آپ نے ابتدا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی اور فرمایا : "" اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ پیش کر رہا ہوں اور پسند کرتا ہوں کہ تم ، اپنے والدین سے مشورہ کر لینے تک اس میں جلدی نہ کرنا ۔ "" انہوں نے کہا : کیا میں آپ کے بارے میں ، اللہ کے رسول! اپنے والدین سے مشورہ کروں گی! بلکہ میں تو اللہ ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چنتی ہوں ، اور آپ سے یہ درخواست کرتی ہو کہ جو میں نے کہا ہے ، آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کو اس کی خبر نہ دیں ۔ آپ نے فرمایا : "" مجھ سے جو بھی پوچھے گی میں اسے بتا دوں گا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا اور لوگوں کے لیے مشکلات ڈھونڈنے والا بنا کر نہیں بھیجا ، بلکہ اللہ نے مجھے تعلیم دینے والا اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے
حدیث 3691 — صحيح مسلم 18:40
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ - قَالَ - دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا النَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى وَيَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ لأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا لِي وَمَا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ ‏.‏ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَقُلْتُ لَهَا يَا حَفْصَةُ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُحِبُّكِ ‏.‏ وَلَوْلاَ أَنَا لَطَلَّقَكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَبَكَتْ أَشَدَّ الْبُكَاءِ فَقُلْتُ لَهَا أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ هُوَ فِي خِزَانَتِهِ فِي الْمَشْرُبَةِ ‏.‏ فَدَخَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبَاحٍ غُلاَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدًا عَلَى أُسْكُفَّةِ الْمَشْرُبَةِ مُدَلٍّ رِجْلَيْهِ عَلَى نَقِيرٍ مِنْ خَشَبٍ وَهُوَ جِذْعٌ يَرْقَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَيَنْحَدِرُ فَنَادَيْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَى الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَىَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قُلْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَى الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَىَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ رَفَعْتُ صَوْتِي فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَنَّ أَنِّي جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَةَ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضَرْبِ عُنُقِهَا لأَضْرِبَنَّ عُنُقَهَا ‏.‏ وَرَفَعْتُ صَوْتِي فَأَوْمَأَ إِلَىَّ أَنِ ارْقَهْ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى حَصِيرٍ فَجَلَسْتُ فَأَدْنَى عَلَيْهِ إِزَارَهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَنَظَرْتُ بِبَصَرِي فِي خِزَانَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ وَمِثْلِهَا قَرَظًا فِي نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ وَإِذَا أَفِيقٌ مُعَلَّقٌ - قَالَ - فَابْتَدَرَتْ عَيْنَاىَ قَالَ ‏"‏ مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا لِي لاَ أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ لاَ أَرَى فِيهَا إِلاَّ مَا أَرَى وَذَاكَ قَيْصَرُ وَكِسْرَى فِي الثِّمَارِ وَالأَنْهَارِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى - قَالَ - وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ حِينَ دَخَلْتُ وَأَنَا أَرَى فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَشُقُّ عَلَيْكَ مِنْ شَأْنِ النِّسَاءِ فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مَعَكَ وَمَلاَئِكَتَهُ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَأَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَكَ وَقَلَّمَا تَكَلَّمْتُ وَأَحْمَدُ اللَّهَ بِكَلاَمٍ إِلاَّ رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ يُصَدِّقُ قَوْلِي الَّذِي أَقُولُ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ آيَةُ التَّخْيِيرِ ‏{‏ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ‏}‏ ‏{‏ وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاَهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلاَئِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ‏}‏ وَكَانَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ وَحَفْصَةُ تَظَاهَرَانِ عَلَى سَائِرِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلَّقْتَهُنَّ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَالْمُسْلِمُونَ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى يَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ أَفَأَنْزِلُ فَأُخْبِرَهُمْ أَنَّكَ لَمْ تُطَلِّقْهُنَّ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ أَزَلْ أُحَدِّثُهُ حَتَّى تَحَسَّرَ الْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ وَحَتَّى كَشَرَ فَضَحِكَ وَكَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا ثُمَّ نَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَزَلْتُ فَنَزَلْتُ أَتَشَبَّثُ بِالْجِذْعِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّمَا يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ مَا يَمَسُّهُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كُنْتَ فِي الْغُرْفَةِ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏ فقُمْتُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي لَمْ يُطَلِّقْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ ‏.‏ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ‏}‏ فَكُنْتُ أَنَا اسْتَنْبَطْتُ ذَلِكَ الأَمْرَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّخْيِيرِ ‏.‏
سماک ابوزمیل سے روایت ہے ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار فرمائی ، کہا : میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو دیکھا وہ ( پریشانی اور تفکر میں ) کنکریاں زمین پر مار رہے ہیں ، اور کہہ رہے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ، یہ واقعہ انہیں پردے کا حکم دیے جانے سے پہلے کا ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : آج میں اس معاملے کو جان کر رہوں گا ۔ انہوں نے کہا : میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اور کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی! تم اس حد تک پہنچ چکی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دو؟ انہوں نے جواب دیا : خطاب کے بیٹے! آپ کا مجھ سے کیا واسطہ؟ آپ اپنی گھٹڑی ( یا تھیلا وغیرہ جس میں قیمتی ساز و سامان سنبھال کر رکھا جاتا ہے یعنی اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا ) کی فکر کریں ۔ انہوں نے کہا : پھر میں ( اپنی بیٹی ) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا : حفصہ! کیا تم اس حد تک پہنچ گئی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دو؟ اللہ کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے محبت نہیں رکھتے ۔ اگر میں نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیتے ۔ ( میری یہ بات سن کر ) وہ بری طرح سے رونے لگیں ۔ میں نے ان سے پوچھا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : وہ اپنے بالا خانے پر سامان رکھنے والی جگہ میں ہیں ۔ میں وہاں گیا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رَباح چوبارے کی چوکھٹ کے نیچے والی لکڑی پر بیٹھا ہے ۔ اس نے اپنے دونوں پاؤں لکڑی کی سوراخ دار سیڑھی پر لٹکا رکھے ہیں ۔ وہ کھجور کا ایک تنا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ( قدم رکھ کر ) چڑھتے اور اترتے تھے ۔ میں نے آواز دی ، رباح! مجھے اپنے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، حاضر ہونے کی اجازت لے دو ۔ رباح رضی اللہ عنہ نے بالا خانے کی طرف نظر کی ، پھر مجھے دیکھا اور کچھ نہ کہا ۔ میں نے پھر کہا : رباح! مجھے اپنے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، حاضر ہونے کی اجازت لے دو ، رباح رضی اللہ عنہ نے ( دوبارہ ) بالا خانے کی طرف نگاہ اٹھائی ، پھر مجھے دیکھا ، اور کچھ نہ کہا ، پھر میں نے اپنی آواز کو بلند کی اور کہا : اے رباح! مجھے اپنے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، حاضر ہونے کی اجازت لے دو ، میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا ہے کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کی ( سفارش کرنے کی ) خاطر آیا ہوں ، اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کی گردن اڑانے کا حکم دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا ، اور میں نے اپنی آواز کو ( خوب ) بلند کیا ، تو اس نے مجھے اشارہ کیا کہ اوپر چڑھ آؤ ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ، میں بیٹھ گیا ، آپ نے اپنا ازار درست کیا اور آپ ( کے جسم ) پر اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا اور چٹائی نے آپ کے جسم پر نشان ڈال دیے تھے ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے کمرے میں دیکھا تو صرف مٹھی بھر جو ایک صاع کے برابر ہوں گے ، جَو اور کمرے کے ایک کونے میں اتنی ہی کیکر کی چھال دیکھی ۔ اس کے علاوہ ایک غیر دباغت شدہ چمڑا لٹکا ہوا تھا ۔ کہا : تو میری آنکھیں بہ پڑیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " ابن خطاب! تمہیں رُلا کیا چیز رہی ہے؟ " میں نے عرض کی : اللہ کے نبی! میں کیوں نہ روؤں؟ اس چٹائی نے آپ کے جسم اطہر پر نشان ڈال دیے ہیں ، اور یہ آپ کا سامان رکھنے کا کمرہ ہے ، اس میں وہی کچھ ہے جو مجھے نظر آرہا ہے ، اور قیصر و کسری نہروں اور پھلوں کے درمیان ( شاندار زندگی بسر کر رہے ) ہیں ، جبکہ آپ تو اللہ کے رسول اور اس کی چنی ہوئی ہستی ہیں ، اور یہ آپ کا سارا سامان ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابن خطاب! کیا تمہیں پسند نہیں کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا ہو؟ " میں نے عرض کی : کیوں نہیں! کہا : جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپکے چہرے پر غصہ دیکھ رہا تھا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کو ( اپنی ) بیویوں کی حالت کی بنا پر کیا دشواری ہے؟ اگر آپ نے انہیں طلاق دے دی ہے تو اللہ آپ کے ساتھ ہے ، اس کے فرشتے ، جبرئیل ، میکائیل ، میں ، ابوبکر اور تمام مومن آپ کے ساتھ ہیں ۔ اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے کم ہی کوئی بات کہی ، مگر میں نے امید کی کہ اللہ میری اس بات کی تصدیق فرما دے گا جو میں کہہ رہا ہوں ۔ ( چنانچہ ایسے ہی ہوا ) اور یہ تخییر کی آیت نازل ہو گئی : " اگر وہ ( نبی ) تم سب ( بیویوں ) کو طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ ان کا رب ، انہیں تم سے بہتر بیویاں بدلے میں دے ۔ " اور " اگر تم دونوں ان کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی ، تو اللہ خود ان کا نگہبان ہے ، اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے ( ان کے ) مددگار ہیں ۔ " عائشہ بنت ابی بکر اور حفصہ رضی اللہ عنہن دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتی تھیں ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ان کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ۔ " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں مسجد میں داخل ہوا تھا تو لوگ کنکریاں زمین پر مار رہے تھے ، اور کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو چلاق دے دی ہے ۔ کیا میں اتر کر انہیں بتا دوں کہ آپ نے ان ( بیویوں ) کو طلاق نہیں دی؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ، اگر چاہو ۔ " میں مسلسل آپ سے گفتگو کرتا رہا یہاں تک کہ آپ کے چہرے سے غصہ دور ہو گیا ، اور یہاں تک کہ آپ کے لب وار ہوئے اور آپ ہنسے ۔ آپ کے سامنے والے دندانِ مبارک سب انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( بالا خانے سے نیچے ) اترے ۔ میں تنے کو تھامتے ہوئے اترا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے اترے جیسے زمین پر چل رہے ہوں ، آپ نے تنے کو ہاتھ تک نہ لگایا ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ بالا خانے میں 29 دن رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " مہینہ 29 دن کا ہوتا ہے ۔ " چنانچہ میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا ، اور بلند آواز سے پکار کر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی ، اور ( پھر ) یہ آیت نازل ہوئی : " اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں ، اور اگر وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اپنے معاملات سنبھالنے والوں کی طرف لوٹا دیتے ، تو وہ لوگ جو ان میں اس سے اصل مطلب اخذ کرتے ہیں اسے ضرور جان لیتے ۔ " تو میں ہی تھا جس نے اس معاملے کی اصل حقیقت کو اخذ کیا ، اور اللہ تعالیٰ نے تخییر کی آیت نازل فرمائی
حدیث 3692 — صحيح مسلم 18:41
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - أَخْبَرَنِي يَحْيَى، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، يُحَدِّثُ قَالَ مَكَثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ، أَنْ أَسْأَلَ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ آيَةٍ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْلَهُ حَتَّى خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَلَمَّا رَجَعَ فَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ إِلَى الأَرَاكِ لِحَاجَةٍ لَهُ فَوَقَفْتُ لَهُ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ سِرْتُ مَعَهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَزْوَاجِهِ فَقَالَ تِلْكَ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا مُنْذُ سَنَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ هَيْبَةً لَكَ ‏.‏ قَالَ فَلاَ تَفْعَلْ مَا ظَنَنْتَ أَنَّ عِنْدِي مِنْ عِلْمٍ فَسَلْنِي عَنْهُ فَإِنْ كُنْتُ أَعْلَمُهُ أَخْبَرْتُكَ - قَالَ - وَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ إِنْ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَا نَعُدُّ لِلنِّسَاءِ أَمْرًا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِنَّ مَا أَنْزَلَ وَقَسَمَ لَهُنَّ مَا قَسَمَ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا فِي أَمْرٍ أَأْتَمِرُهُ إِذْ قَالَتْ لِي امْرَأَتِي لَوْ صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا فَقُلْتُ لَهَا وَمَا لَكِ أَنْتِ وَلِمَا هَا هُنَا وَمَا تَكَلُّفُكِ فِي أَمْرٍ أُرِيدُهُ فَقَالَتْ لِي عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُرِيدُ أَنْ تُرَاجَعَ أَنْتَ وَإِنَّ ابْنَتَكَ لَتُرَاجِعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَآخُذُ رِدَائِي ثُمَّ أَخْرُجُ مَكَانِي حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا يَا بُنَيَّةُ إِنَّكِ لَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ ‏.‏ فَقَالَتْ حَفْصَةُ وَاللَّهِ إِنَّا لَنُرَاجِعُهُ ‏.‏ فَقُلْتُ تَعْلَمِينَ أَنِّي أُحَذِّرُكِ عُقُوبَةَ اللَّهِ وَغَضَبَ رَسُولِهِ يَا بُنَيَّةُ لاَ يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِي قَدْ أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا وَحُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهَا ‏.‏ ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ لِقَرَابَتِي مِنْهَا فَكَلَّمْتُهَا فَقَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ دَخَلْتَ فِي كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى تَبْتَغِي أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَزْوَاجِهِ ‏.‏ قَالَ فَأَخَذَتْنِي أَخْذًا كَسَرَتْنِي عَنْ بَعْضِ مَا كُنْتُ أَجِدُ فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهَا وَكَانَ لِي صَاحِبٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِذَا غِبْتُ أَتَانِي بِالْخَبَرِ وَإِذَا غَابَ كُنْتُ أَنَا آتِيهِ بِالْخَبَرِ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ نَتَخَوَّفُ مَلِكًا مِنْ مُلُوكِ غَسَّانَ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسِيرَ إِلَيْنَا فَقَدِ امْتَلأَتْ صُدُورُنَا مِنْهُ فَأَتَى صَاحِبِي الأَنْصَارِيُّ يَدُقُّ الْبَابَ وَقَالَ افْتَحِ افْتَحْ ‏.‏ فَقُلْتُ جَاءَ الْغَسَّانِيُّ فَقَالَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَزْوَاجَهُ ‏.‏ فَقُلْتُ رَغِمَ أَنْفُ حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ ‏.‏ ثُمَّ آخُذُ ثَوْبِي فَأَخْرُجُ حَتَّى جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ يُرْتَقَى إِلَيْهَا بِعَجَلَةٍ وَغُلاَمٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْوَدُ عَلَى رَأْسِ الدَّرَجَةِ فَقُلْتُ هَذَا عُمَرُ ‏.‏ فَأُذِنَ لِي ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمَّا بَلَغْتُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنَّهُ لَعَلَى حَصِيرٍ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَىْءٌ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَإِنَّ عِنْدَ رِجْلَيْهِ قَرَظًا مَضْبُورًا وَعِنْدَ رَأْسِهِ أُهُبًا مُعَلَّقَةً فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْحَصِيرِ فِي جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَكَيْتُ فَقَالَ ‏"‏ مَا يُبْكِيكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ كِسْرَى وَقَيْصَرَ فِيمَا هُمَا فِيهِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمَا الدُّنْيَا وَلَكَ الآخِرَةُ ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن بلال نے کہا : مجھے یحییٰ نے عبید بن حنین سے خبر دی کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے کہا : میں نے سال بھر کے انتظار کیا ، میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک آیت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا تھا مگر ان کی ہیبت کی وجہ سے ان سے سوال کرنے کی ہمت نہ پاتا تھا ، حتی کہ وہ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے ، میں بھی ان کے ساتھ نکلا ، جب لوٹے تو ہم راستے میں کسی جگہ تھے کہ وہ قضائے حاجت کے لیے پیلو کے درخت کی طرف چلے گئے ، میں ان کے انتظار میں ٹھہر گیا ، حتی کہ وہ فارغ ہو گئے ، پھر میں ان کے ساتھ چل پڑا ، میں نے عرض کی : امیر المومنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے وہ کون سی دو خواتین تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایکا کر لیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : وہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن تھیں ۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں ایک سال سے اس کے بارے میں آپ سے پوچھنا چاہتا تھا مگر آپ کے رعب کی وجہ سے ہمت نہ پاتا تھا ۔ انہوں نے کہا : ایسا نہیں کرنا ، جو بات بھی تم سمجھو کہ مجھے علم ہے ، اس کے بارے میں مجھ سے پوچھ لیا کرو ، اگر میں جانتا ہوا تو تمہیں بتا دوں گا ۔ کہا : اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! جب ہم جاہلیت کے زمانے میں تھے تو عورتوں کو کسی شمار میں نہ رکھتے تھے ، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں جو نازل کیا ، سو نازل کیا ، اور جو ( مرتبہ ) انہیں دینا تھا سو دیا ۔ انہوں نے کہا : ایک مرتبہ میں کسی معاملے میں لگا ہوا تھا ، اس کے متعلق سوچ بچار کر رہا تھا کہ مجھے میری بیوی نے کہا : اگر آپ ایسا ایسا کر لیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) میں نے اسے جواب دیا : تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اور یہاں ( اس معاملے میں ) تمہیں کیا دلچسپی ہے؟ اور ایک کام جو میں کرنا چاہتا ہوں اس میں تمہارا تکلف ( زبردستی ٹانگ اڑانا ) کیسا؟اس نے مجھے جواب دیا : ابن خطاب! آپ پر تعجب ہے! آپ یہ نہیں چاہتے کہ آپ کے بارے آگے بات کی جائے ، جبکہ آپ کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے پلٹ کر جواب دیتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن بھر اس سے ناراض رہتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ( اسی وقت ) اپنی چادر پکڑتا ہوں اور اپنی جگہ سے نکل کھڑا ہوتا ہوں ، یہاں تک کہ حفصہ کے پاس پہنچتا ہوں ۔ جا کر میں نے اس سے کہا : بٹیا! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جواب دیتی ہو کہ وہ سارا دن ناراض رہتے ہیں ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : اللہ کی قسم! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے لیتی ہیں ۔ میں نے کہا : جان لو میں تمہیں اللہ کی سزا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی سے ڈرا رہا ہوں ، میری بیٹی! تمہیں وہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے رویے کی بنا پر ) دھوکے میں نہ ڈال دے جسے اپنے حسن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے سے محبت پر ناز ہے ۔ پھر میں نکلا حتی کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا ، کیونکہ میری ان سے قرابت داری تھی ۔ میں نے ان سے بات کی تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے جواب دیا : ابن خطاب تم پر تعجب ہے! تم ہر کام میں دخل اندازی کرتے ہو حتی کہ تم چاہتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج کے مابین بھی دخل دو؟ انہوں نے مجھے اس طرح آڑے ہاتھوں لیا کہ جو ( عزم ) میں ( دل میں ) پا رہا تھا ( کہ میں ازواجِ مطہرات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جواب دینے سے روک لوں گا ) مجھے توڑ کر اس سے الگ کر دیا ۔ چنانچہ میں ان کے ہاں سے نکل آیا ۔ میرا ایک انصاری ساتھی تھا ، جب میں ( آپ کی مجلس سے ) غیر حاضر ہوتا تو وہ میرے پاس ( وہاں کی ) خبر لاتا اور جب وہ غیر حاضر ہوتا تو میں اس کے پاس خبر لے آتا ۔ ہم اس زمانے میں غسان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ سے ڈر رہے تھے ۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ ہم پر چڑھائی کرنا چاہتے ہے ۔ اس ( کی وجہ ) سے ہمارے سینے ( اندیشوں سے ) بھرے ہوئے تھے ۔ ( اچانک ایک دن ) میرا انصاری دوست آ کر دروازہ کھٹکھٹانے لگا اور کہنے لگا : کھولو ، کھولو! میں نے پوچھا : غسانی آ گیا ہے؟ اس نے کہا : اس سے بھی زیادہ سنگین معاملہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے ۔ میں نے کہا : حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنھن کی ناک خاک آلود ہو! پھر میں اپنے کپرے لے کر نکل کھڑا ہوا ، حتی کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) حاضر ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں تھے جس پر سیڑھی کے ذریعے چڑھ کر جانا ہوتا تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سیاہ فام غلام سیڑھی کے سرے پر بیٹھا ہوا تھا ۔ میں نے کہا : یہ عمر ہے ( خدمت میں حاضری کی اجازت چاہتا ہے ) ، تو مجھے اجازت عطا ہوئی ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ساری بات بیان کی ، جب میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بات پر پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے ۔ آپ ایک چٹائی پر ( لیٹے ہوئے ) تھے ، آپ کے ( جسم مبارک ) اور اس ( چٹائی ) کے درمیان کچھ نہ تھا ۔ آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ کے پاؤں کے قریب کیکر کی چھال کا چھوٹا سا گٹھا پڑا تھا اور آپ کے سر کے قریب کچھ کچے چمڑے لٹکے ہوئے تھے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر چٹائی کے نشان دیکھے تو رو پڑا ۔ آپ نے پوچھا : " تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ " عرض کی : اے اللہ کے رسول! کسریٰ اور قیصر دونوں ( کفر کے باوجود ) اُس ناز و نعمت میں ہیں جس میں ہیں اور آپ تو اللہ کے رسول ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تمہیں پسند نہیں کہ ان کے لیے ( صرف ) دنیا ہو اور تمہارے لیے آخرت ہو
حدیث 3693 — صحيح مسلم 18:42
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ، سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ كَنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ شَأْنُ الْمَرْأَتَيْنِ قَالَ حَفْصَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ ‏.‏ وَزَادَ فِيهِ وَأَتَيْتُ الْحُجَرَ فَإِذَا فِي كُلِّ بَيْتٍ بُكَاءٌ ‏.‏ وَزَادَ أَيْضًا وَكَانَ آلَى مِنْهُنَّ شَهْرًا فَلَمَّا كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نَزَلَ إِلَيْهِنَّ ‏.‏
حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید بن حنین سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( حج سے ) واپس آیا حتی کہ جب ہم مرالظہران میں تھے ۔ ۔ ۔ آگے سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند پوری لمبی حدیث بیان کی ، مگر انہوں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں نے عرض کی : دو عورتوں کا معاملہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : ( وہ ) حفصہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنھن ( تھیں ۔ ) اور اس میں یہ اضافہ کیا : میں ( ازواج مطہرات کے ) حجروں کے پاس آیا تو ہر گھر میں رونے کی آواز تھی ، اور یہ بھی اضافہ کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک ماہ ایلاء کیا تھا ، جب 29 دن ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( بالا خانے سے ) اتر کر ان کے پاس تشریف لے آئے
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔