حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ " . وَقَالَ زُهَيْرٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زُہَیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ اس ( سند ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ، آپ نے فرمایا : "" کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے ۔ "" زہیر نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے
طاوس کے بیٹے نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ باہر نکل کر قافلے والوں سے ملا جائے اور اس سے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ۔ ( طاوس نے ) کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ کے فرمان : " کوئی شہری دیہاتی کی طرف سے ( بیع نہ کرے ) " کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے جواب دیا : وہ اس کا دلال نہ بنے
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور احمد بن یونس نے کہا : ہمیں ابوخثیمہ زہیر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع نہ کرے ۔ لوگوں کو چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے رزق دیتا ہے ۔ " البتہ یحییٰ کی روایت میں ( مجہول کے صیغے کے ساتھ ) ہے : " رزق دیا جاتا ہے
حدیث 3827 — صحيح مسلم 21:27
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابوزہیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ ( 3828 ) یونس نے ابن سیرین سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں منع کیا گیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا والد
یونس نے ابن سیرین سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں منع کیا گیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا والد
ابن عون نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمیں اس بات سے منع کیا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع کرے
موسیٰ بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی گئی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی تو وہ اسے لے کر گھر واپس آئے اور اس کا دودھ نکالے ، اگر وہ اس کے ددھ دینے سے راضی ہو تو اسے رکھ لے ، ورنہ کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کر دے
سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ایسی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی جس کا دودھ روکا گیا ہے تو اسے تین دن تک اس کے بارے میں اختیار ہے ، اگر چاہے تو رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجور کا ایک صاع بھی واپس کرے
قرہ نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی ہوئی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی تو اسے تین دن تک اختیار ہے ۔ اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ غلے کا ایک صاع بھی واپس کرے ، گندم کا نہیں
سفیان نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خرید لی ، اسے دو باتوں کا اختیار ہے ۔ اگر چاہے تو اسے رکھ لے اور اگر چاہے تو اسے واپس کر دے ، اور کھجور کا ایک صاع بھی واپس کر دے ، گندم کا نہیں