قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 3954 — صحيح مسلم 21:153
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
حماد اور یزید بن ہارون نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
حدیث 3955 — صحيح مسلم 21:154
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ نَهَى عَنْهَا ‏.‏ وَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ مَعْقِلٍ ‏.‏ وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے خبر دی ، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں علی بن مسہر نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( عبدالواحد اور علی ) نے ( سلیمان ) شیبانی سے اور انہوں نے عبداللہ بن سائب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن معقل سے مزارعت ( زمین کی پیداوار کی متعین مقدار پر بٹائی ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : مجھے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا ۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : آپ نے اس سے منع فرمایا ۔ اور انہوں نے کہا : میں نے ابن معقل سے پوچھا ۔ عبداللہ کا نام نہیں لیا
حدیث 3956 — صحيح مسلم 21:155
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ زَعَمَ ثَابِتٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ وَقَالَ ‏ "‏ لاَ بَأْسَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏
ابوعوانہ نے ہمیں سلیمان شیبانی سے خبر دی ، انہوں نے عبداللہ بن سائب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم عبداللہ بن معقل کے پاس گئے ، ہم نے ان سے مزارعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا اور مؤاجرت ( نقدی کے عوض کرائے پر دینے ) کا حکم دیا ہے اور فرمایا : " اس میں کوئی حرج نہیں
حدیث 3957 — صحيح مسلم 21:156
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّ مُجَاهِدًا، قَالَ لِطَاوُسٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَاسْمَعْ مِنْهُ الْحَدِيثَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَانْتَهَرَهُ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهُ مَا فَعَلْتُهُ وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ - يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا ‏"‏ ‏.‏
حماد بن زید نے ہمیں عمرو ( بن دینار ) سے خبر دی کہ مجاہد نے طاوس سے کہا : ہمارے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے پاس چلو اور ان سے ان کے والد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ حدیث سنو ، کہا : انہوں ( طاوس ) نے انہیں ڈانٹا اور کہا : اللہ کی قسم : اگر مجھے علم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے تو میں یہ کام ( کبھی ) نہ کرتا لیکن مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی جو اسے ان سب سے زیادہ جاننے والا ہے ، ان کی مراد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو عاریتا دے ، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے ۔ " ( اس سے اللہ کی رضا بھی حاصل ہو گی اور جھگڑوں سے محفوظ بھی رہے گا)
حدیث 3958 — صحيح مسلم 21:157
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَابْنُ، طَاوُسٍ عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّهُ كَانَ يُخَابِرُ قَالَ عَمْرٌو فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ ‏.‏ فَقَالَ أَىْ عَمْرُو أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَلِكَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَنْهَ عَنْهَا إِنَّمَا قَالَ ‏ "‏ يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا ‏"‏ ‏.‏
سفیان نے ہمیں عمرو اور ابن طاوس سے حدیث بیان کی اور انہوں نے طاوس سے روایت کی کہ وہ ( نقدی کے عوض ) بٹائی پر زمین دیتے تھے ۔ عمرو نے کہا : میں نے ان سے کہا : ابو عبدالرحمٰن! اگر آپ مخابرہ چھوڑ دیں ( تو بہتر ہے ) کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے ۔ انہوں نے کہا : عمرو! مجھے اس مسئلے کو ان سب کی نسبت زیادہ جاننے والے ، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا ، آپ نے تو صرف فرمایا تھا : " تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو ( زمین ) عاریتا دے یہ اس کے لیے اس کی نسبت بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے ۔ " ( بلا عوض دینے سے اسے غیر متعین ، وسیع منفعت حاصل ہو گی)
حدیث 3959 — صحيح مسلم 21:158
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ شُعْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
ایوب ، سفیان ، ابن جریج اور شعبہ سب نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی حدیث کی طرح بیان کیا
حدیث 3960 — صحيح مسلم 21:159
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ لِشَىْءٍ مَعْلُومٍ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ الْحَقْلُ وَهُوَ بِلِسَانِ الأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَةُ
معمر نے ابن طاوس سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو دے یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس پر اتنا اتنا ، یعنی متعین مقدار میں وصول کرے ۔ "" کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : یہی حقل ہے اور انصار کی زبان میں محاقلہ ہے
حدیث 3961 — صحيح مسلم 21:160
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَإِنَّهُ أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏
عبدالملک بن زید نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جس کی زمین ہو ، وہ اگر اسے اپنے بھائی کو عاریتا دے دے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے
حدیث 3962 — صحيح مسلم 22:1
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ ‏.‏
یحییٰ قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے اس کی پیداوار کے نصف پر معاملہ کیا جو وہاں سے پھلوں اور کھیتی کی صورت میں حاصل ہو گی
حدیث 3963 — صحيح مسلم 22:2
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ - أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كَلَّ سَنَةٍ مِائَةَ وَسْقٍ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ قَسَمَ خَيْبَرَ خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الأَرْضَ وَالْمَاءَ أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الأَوْسَاقَ كُلَّ عَامٍ فَاخْتَلَفْنَ فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الأَرْضَ وَالْمَاءَ وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الأَوْسَاقَ كُلَّ عَامٍ فَكَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ مِمَّنِ اخْتَارَتَا الأَرْضَ وَالْمَاءَ ‏.‏
علی بن مسہر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر ( کی زمین ) اس پیداوار کے آدھے حصے پر دی جو وہاں سے پھلوں اور کھیتی کی صورت میں حاصل ہو گی ۔ آپ اپنی ازواج کو ہر سال ایک سو وسق دیتے ، اسی ( 80 ) وسق کھجور کے اور بیس وسق جو کے ۔ بعد ازاں جب خیبر کی تقسیم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری میں آئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین اور پانی کا حصہ مقرر کر دیا جائے یا ان کو ہر سال ( مقررہ ) وسق مل جانے کی ضمانت دیں ۔ تو ان کا ( ان دونوں میں سے انتخاب کرنے میں ) باہم اختلاف ہو گیا ۔ ان میں سے کچھ نے زمین اور پانی کو منتخب کیا اور کچھ نے ہر سال ( مقررہ ) وسق لینے پسند کیے ۔ حضرت حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنھن ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی کو چنا
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔