ابورزین نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ( ایسا ) کتا رکھا جو شکار یا بکریوں کا کتا نہیں ہے تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا ۔
حدیث 4036 — صحيح مسلم 22:75
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، أَنَّ السَّائِبَ، بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ، - وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ شَنُوءَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لاَ يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلاَ ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " . قَالَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ .
امام مالک نے زیدی بن خصفیہ سے روایت کی کہ انہیں سائب بن یزید نے بتایا کہ انہوں نے سفیان بن ابی زہیر سے سنا اورہ وہ شنوءہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جس نے کتا رکھا جو اسے کھیتی اور تھن ( والے جانوروں کی حفاظت ) کا فائدہ نہیں دیتا تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا ۔ " ( سائب نے ) کہا : کیا آپ نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ، اس مسجد کے رب کی قسم
حدیث 4037 — صحيح مسلم 22:76
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ، خُصَيْفَةَ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنَئِيُّ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
اسماعیل نے ہمیں یزید بن خصفیہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سائب بن یزید نے خبر دی کہ ان کے پاس سفیان بن ابی زہیر شنئي ( قبیلہ شنوءہ سے تعلق رکھنے والے ) آئے اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ اسی کے مانند
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حمید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پچھنے ( سینگی ) لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے ، آپ کو ابوطیبہ نے پچھنے لگائے تو آپ نے اسے غلے سے دو صاع دینے کا حکم دیا اور اس کے مالکوں سے بات کی تو انہوں نے اس کے محصول میں کچھ تخفیف کر دی اور آپ نے فرمایا : " تم لوگ جو علاج کرواؤ اس میں سے بہترین سینگی لگوانا ہے یا ( فرمایا : ) یہ تمہارے بہترین علاجوں میں سے ہے ۔
مروان فزاری نے ہمیں حمید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا ، مگر انہوں نے کہا : " بلاشبہ سب سے افضل جس کے ذریعے سے تم علاج کراؤ ، پچھنے لگوانا اور عود بحری ( کا استعمال ) ہے اور تم اپنے بچوں کو گلا دبا کر ( مَل کر ) تکلیف نہ دو ۔
حدیث 4040 — صحيح مسلم 22:79
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غُلاَمًا لَنَا حَجَّامًا فَحَجَمَهُ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ أَوْ مُدٍّ أَوْ مُدَّيْنِ وَكَلَّمَ فِيهِ فَخُفِّفَ عَنْ ضَرِيبَتِهِ .
شعبہ نے ہمیں حمید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ایک پچھنے لگانے والے غلام کو بلایا اس نے آپ کو پچھنے لگائے تو آپ نے اسے ایک صاع ، ایک مد یا دو مد دینے کا حکم دیا اور اس کے متعلق ( اس کے مالکوں سے ) بات کی تو اس کے محصول میں کمی کر دی گئی ۔
طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور سینگی لگانے والے کو اس کی اجرت دی اور آپ نے ناک کے ذریعے سے دوا لی ۔
حدیث 4042 — صحيح مسلم 22:81
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَجَمَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَجْرَهُ وَكَلَّمَ سَيِّدَهُ فَخَفَّفَ عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ وَلَوْ كَانَ سُحْتًا لَمْ يُعْطِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
شعبی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بنو بیاضہ کے ایک غلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو پچھنے لگائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی اجرت دی اور آپ نے اس کے مالک سے بات کی تو اس نے اس کے محصول میں کچھ تخفیف کر دی اور اگر یہ ( اجرت ) حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو نہ دیتے ۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ مدینہ میں خطبہ دے رہے تھے ، آپ نے فرمایاؒ " لوگو! اللہ تعالیٰ شراب ( کی حرمت ) کے بارے میں اشارہ فرما رہا ہے اور شاید اللہ تعالیٰ جلد ہی اس کے بارے میں کوئی ( قطعی ) حکم نازل کر دے ۔ جس کے پاس اس ( شراب ) میں سے کچھ موجود ہے وہ اسے بیچ دے اور اس سے فائدہ اٹھا لے ۔ " کہا : پھر ہم نے تھوڑا ہی عرصہ اس عالم میں گزارا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے یقینا شراب کو حرام کر دیا ہے ، جس شخص تک یہ آیت پہنچے اور اس کے پاس اس ( شراب ) میں سے کچھ ( حصہ باقی ) ہے تو نہ وہ اسے پیے اور نہ فروخت کرے ۔ " کہا : لوگوں کے پاس جو بھی شراب تھی وہ اسے لے کر مدینہ کے راستے میں نکل آئے اور اسے بہا دیا ۔