قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 4064 — صحيح مسلم 22:103
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ ‏"‏ ‏.‏
اسماعیل بن مسلم عبدی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابومتوکل ناجی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونا ، چاندی کے عوض چاندی ، گندم کے عوض گندم ، جو کے عوض جو ، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے عوض نمک ( کی بیع ) مثل بمثل ( ایک جیسی ) ہاتھوں ہاتھ ہو ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا لین دین کیا ، اس میں لینے والا اور دینے والا برابر ہیں ۔
حدیث 4065 — صحيح مسلم 22:104
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ الرَّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
سلیمان ربعی نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ابومتوکل ناجی نے حضترت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونے ( کی بیع ) برابر مثل بمثل ( ایک جیسی ) ہے ۔ ۔ ۔ " ( آگے ) سابقہ حدیث کے مانند بیان کیا ۔
حدیث 4066 — صحيح مسلم 22:105
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى إِلاَّ مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ ‏"‏ ‏.‏
فضیل کے بیٹے ( محمد ) نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کھجور کے عوض کھجور ، گندم کے عوض گندم ، جو کے عوض جو اور نمک کے عوض نمک ( کی بیع ) مثل بمثل ( ایک جیسی ) دست بدست ہو ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا ( لین دین ) کیا ، الا یہ کہ ان کی اجناس الگ الگ ہوں ۔
حدیث 4067 — صحيح مسلم 22:106
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏ "‏ يَدًا بِيَدٍ ‏"‏ ‏.‏
محاربی نے فضیل بن گزوان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے " دست بدست " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
حدیث 4068 — صحيح مسلم 22:107
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَهُوَ رِبًا‏"‏ ‏.‏
ابن ابی نُعیم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونے کی بیع ہم وزن اور مثل بمثل ( ایک جیسی ) ہے اور چاندی کے عوض چاندی ہم وزن اور مثل بمثل ہے ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو وہ سود ہے ۔
حدیث 4069 — صحيح مسلم 22:108
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ مُوسَى، بْنِ أَبِي تَمِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن ہلال نے ہمیں موسیٰ بن ابی تمیم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دینار سے دینار کی بیع میں ان کے درمیان اضافہ ( جائز ) نہیں اور درہم سے درہم کے تبادلے میں ان کے درمیان اضافہ ( جائز ) نہیں ۔
حدیث 4070 — صحيح مسلم 22:109
حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي تَمِيمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
امام مالک بن انس نے کہا : مجھے موسیٰ بن ابی تمیم نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حدیث 4071 — صحيح مسلم 22:110
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي، الْمِنْهَالِ قَالَ بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ إِلَى الْمَوْسِمِ أَوْ إِلَى الْحَجِّ فَجَاءَ إِلَىَّ فَأَخْبَرَنِي فَقُلْتُ هَذَا أَمْرٌ لاَ يَصْلُحُ ‏.‏ قَالَ قَدْ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَىَّ أَحَدٌ ‏.‏ فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ فَقَالَ ‏ "‏ مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلاَ بَأْسَ بِهِ وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا ‏"‏ ‏.‏ وَائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ تِجَارَةً مِنِّي ‏.‏ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
عمرو ( بن دینار ) نے ابومنہال سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے ایک شریک نے موسم ( حج کے موسم ) تک یا حج تک چاندی ادھار فروخت کی ، وہ میرے پاس آیا اور مجھے بتایا تو میں نے کہا : یہ معاملہ درست نہیں ۔ اس نے کہا : میں نے وہ بازار میں فروخت کی ہے اور اسے کسی نے میرے سامنے ناقابل قبول قرار نہیں دیا ۔ اس پر میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور ہم یہ بیع کیا کرتے تھے تو آپ نے فرمایا : " جو دست بدست ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہے وہ سود ہے ۔ " زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان کا کاروبار مجھ سے وسیع ہے ، چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی اسی کے مانند کہا ۔
حدیث 4072 — صحيح مسلم 22:111
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَهُوَ أَعْلَمُ ‏.‏ فَسَأَلْتُ زَيْدًا فَقَالَ سَلِ الْبَرَاءَ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ ثُمَّ قَالاَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا
حبیب سے روایت ہے کہ انہوں نے ابومنہال سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دینار کی درہم سے یا سونے کی چاندی سے بیع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : زید بن ارقم سے پوچھو ، وہ زیادہ جاننے والے ہیں ، چنانچہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا : براء سے پوچھو ، وہ زیادہ جاننے والے ہیں ، پھر دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے عوض چاندی کی ادھار بیع سے منع فرمایا ۔
حدیث 4073 — صحيح مسلم 22:112
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلاَّ سَوَاءً بِسَوَاءٍ وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِيَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا وَنَشْتَرِيَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا ‏.‏ قَالَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ ‏.‏
عباد بن عوام نے کہا : یحییٰ بن ابی اسحاق نے ہمیں خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے عوض چاندی اور سونے کے عوض سونے کی بیع سے منع فرمایا ، الا یہ کہ برابر برابر ہو اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سونے کے عوض چاندی جیسے چاہیں خریدیں اور چاندی کے عوض سونا جیسے چاہیں خریدیں ۔ کہا : اس پر ایک آدمی نے ان سے سوال کیا اور کہا : دست بدست؟ تو انہوں نے کہا : میں نے اسی طرح سنا ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔