عمرو بن یحییٰ نے محمد بن عمرو سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے بنو عدی بن کعب کے ایک فرد حضرت معمر بن ابی معمر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ آگے یحییٰ سے سلیمان بن بلال کی روایت کردہ حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " قسم سامان کو فروغ دینے والی ، ( بعد ازاں ) نفع کو مٹانے والی ہے ۔
حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " بیع میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو کیونکہ وہ ( پہلے بیع کو ) فروغ دیتی ہے ، پھر ( نفع کو ) مٹا دیتی ہے ۔
ابوخثیمہ نے ہمیں ابوزبیر سے خبر دی ، اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کا گھر میں یا باغ میں کوئی شریک ہو تو اسے حق نہیں کہ اسے بیچے ، یہاں تک کہ اپنے شریک کو بتائے ، پھر اگر وہ راضی ہو تو ( اسے ) لے لے اور اگر ناپسند کرے تو چھوڑ دے ۔ " ( اور وہ دوسرے کو بیچ دیا جائے ۔)
عبداللہ بن ادریس نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مشترک جائیداد پر ، جو تقسیم نہ ہوئی ہو شفعہ کا فیصلہ فرمایا ، وہ گھر ہو یا باغ ہو اس کے لیے ( جو اس کا شریک ملکیت ہے ) اسے بیچنا جائز نہیں یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو بتائے اگر وہ ( شریک ) چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے ۔ اگر اس نے ( اسے ) فروخت کر دیا اور اس ( شریک ) کو اطلاق نہ دی تو یہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا ۔
ابن وہب نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہ انہیں ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر مشترک جائیداد ، زمین ، گھر یا باغ میں شفعہ ہے ۔ ( کسی ایک شریک کے لیے ) اسے فروخت کرنا درست نہیں جب تک کہ وہ اپنے شریک کو پیشکش ( نہ ) کرے وہ ( چاہے تو ) اسے لے لے یا چھوڑ دے ۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا شریک ہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب تک کہ اسے بتا نہ دے ۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کوئی تم سے اپنے ہمسایہ کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے ۔ “ (کیونکہ یہ مروت کے خلاف ہے اور اپنا کوئی نقصان نہیں بلکہ اگر ہمسایہ ادھر چھت ڈالے تو اور دیوار کی حفاظت ہے) سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے تھے (لوگوں سے) میں دیکھتا ہوں تم اس حدیث سے دل چراتے ہو ، قسم اللہ کی ! میں اس کو بیان کروں گا تم لوگوں میں ۔
عباس بن سہل بن سعد ساعدی نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کسی نے زمین کی ایک بالشت ( بھی ) ظلم کرتے ہوئے کاٹ لی ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں سے اس کا طوق ( بنا کر ) پہنائے گا ۔
عمر بن محمد کے والد ( محمد بن زید ) نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ارویٰ نے ان کے ساتھ گھر کے کسی حصے کے بارے میں جھگڑا کیا تو انہوں نے کہا : اسے اور گھر کو چھوڑ دو ، ( جو چاہے کرتی رہے ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، آپ فرما رہے تھے : "" جس نے حق کے بغیر ایک بالشت زمین بھی حاصل کی ، قیامت کے دن وہ سات زمینوں ( تک ) اس کی گردن کا طوق بنا دی جائے گی ۔ "" ( پھر اس کی ایذا رسانی سے تنگ آ کر انہوں نے دعا کی : ) اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اس کے گھر ہی میں اس کی قبر بنا دے ۔ ( محمد بن زید نے ) کہا : میں نے اس عورت کو دیکھا وہ اندھی ہو گئی تھی ، دیواریں ٹٹولتی پھرتی تھی اور کہتی تھی : مجھے سعید بن زید کی بددعا لگ گئی ہے ۔ ایک مرتبہ وہ گھر میں چل رہی تھی ، گھر میں کنویں کے پاس سے گزری تو اس میں گزر گئی اور وہی کنواں اس کی قبر بن گیا ۔