زکریا نے ہمیں ابواسحاق کے واسطے سے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ آخری سورت جو پوری نازل کی گئی ، سورہ توبہ ہے اور آخری آیت جو نازل کی گئی ، آیت کلالہ ہے
عمار بن رزیق نے ہمیں ابواسحاق کے حوالے سے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر انہوں نے کہا : آخری سورت جو مکمل نازل کی گئی ۔ ( تامة کے بجائے كاملة کے الفاظ ہیں)
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی ( ایسے ) شخص کی میت لائی جاتی جس پر قرض ہوتا تو آپ پوچھتے
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! روئے زمین پر کوئی مومن نہیں مگر میں سب لوگوں کی نسبت اس کے زیادہ قریب ہوں ، تم میں سے جس نے بھی جو قرض یا اولاد چھوڑی ( جس کے ضائع ہونے کا ڈر ہے ) تو میں اس کا ذمہ دار ہوں اور جس نے مال چھوڑا وہ عصبہ ( قرابت دار جو کسی طرح بھی وارث بن سکتا ہو اس ) کا ہے ، وہ جو بھی ہو
حدیث 4160 — صحيح مسلم 23:21
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَادْعُونِي فَأَنَا وَلِيُّهُ وَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ مَالاً فَلْيُؤْثَرْ بِمَالِهِ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانَ " .
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل کی کتاب کی رو سے میں مومنوں کے ، ( ان کی اپنی ذات سمیت ) سب لوگوں کی نسبت زیادہ قریب ہوں ، تم میں سے جو قرض یا اولاد چھوڑ جائے تو مجھے بلانا میں اس کا ولی ہوں اور جو مال چھوڑ جائے تو اس کے مال کے معاملے میں ( ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد ) اس کے عصبہ ( قریب ترین مرد رشتہ دار ) کو ترجیح دی جائے ، وہ جو بھی ہو
حدیث 4161 — صحيح مسلم 23:22
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِلْوَرَثَةِ وَمَنْ تَرَكَ كَلاًّ فَإِلَيْنَا " .
معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں شعبہ نے عدی سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوحازم سے سنا ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جس نے مال چھوڑا وہ اس کے ورثاء کا ہے اور جس نے بوجھ ( بے سہارا اولاد ہو یا قرض ) چھوڑا وہ ہمارے ذمہ ہے
(محمد بن جعفر ) غندر اور عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر غندر کی حدیث میں ہے : " جس نے بوجھ چھوڑا اس کی ذمہ داری میں نے لے لی
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں مالک بن انس نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اللہ کی راہ میں ( جہاد کرنے کے لیے کسی کو ) ایک عمدہ گھوڑے پر سوار کیا ( اسے دے دیا ) تو اس کے ( نئے ) مالک نے اسے ضائع کر دیا ( اس کی ٹھیک طرح سے خبر گیری نہ کی ) ، میں نے خیال کیا کہ وہ اسے کم قیمت پر فروخت کر دے گا ، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اسے مت خریدو اور نہ اپنا ( دیا ہوا ) صدقہ واپس لو کیونکہ صدقہ واپس لینے والا ایسے کتے کی طرح ہے جو قے ( چاٹنے کے لیے ) اس کی طرف لوٹتا ہے