علی بن مسہر ، محمد بن بشر اور عیسیٰ بن یونس سب نے ابن ابی عروبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور عیسیٰ کی حدیث میں ہے : " اسے کسی مشقت میں ڈالے بغیر ، اس شخص کے حصے ( کی ادائیگی ) کے لیے کام لیا جائے گا جس نے آزاد نہیں کیا
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابومہلب سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کیے اور اس کے پاس ان کے سوا اور کوئی مال نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور تین گروپوں میں تقسیم کیا ، پھر ان کے درمیان قرعہ ڈالا ، اس کے بعد دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی برقرار رکھا اور آپ نے اسے سرزنش کی
حماد اور ( عبدالوہاب ) ثقفی دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، حماد کی حدیث ابن عُلیہ کی حدیث کی طرح ہے اور ثقفی کی حدیث میں ہے : انصار کے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت وصیت کی اور چھ غلام آزاد کر دیے
حدیث 4337 — صحيح مسلم 27:84
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَحَمَّادٍ .
یزید بن زریع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن علیہ اور حماد کی حدیث کے مانند روایت کی
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے اپنی موت کے بعد اپنے غلام کو آزاد قرار دیا ، اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہ تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : "" اس ( غلام ) کو مجھ سے کون خریدے گا؟ "" اسے نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا تو آپ نے وہ ( رقم ) اس آدمی کے حوالے کر دی ۔ عمرو نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : وہ قبطی غلام تھا ( ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے ) پہلے سال فوت ہوا ۔ ( اپنی فوت کے بعد غلام کو آزاد کرنے والے کو ایک تہائی سے زیادہ ترکے میں وصیت کا اختیار ہی نہ تھا)
سفیان بن عیینہ نے کہا : عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : انصار کے ایک آدمی نے اپنی موت کے بعد اپنے غلام کے آزاد ہونے کی وصیت کی ، کہا : اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فروخت کر دیا ‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اسے ابن نحام نے خریدا ، وہ قبطی غلام تھا ، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے پہلے سال فوت ہوا
حدیث 4340 — صحيح مسلم 27:87
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمُدَبَّرِ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ .
لیث بن سعد نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدبر ( مالک کی موت کے بعد آزاد ہونے والے غلام ) کے بارے میں عمرو بن دینار سے روایت کردہ حماد کی حدیث کے ہم معنی روایت کی
عبدالمجید بن سہیل اور حسین بن ذکوان معلم نے عطاء سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، اسی طرح مطر بن طہمان الوراق نے عطاء بن ابی رباح ، ابوزبیر اور عمرو بن دینار سے روایت کی کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے انہیں مدبر کی بیع کے بارے میں حدیث بیان کی ، ان سب ( عطاء ، ابوزبیر اور عمرو ) نے کہا : انہوں ( جابر رضی اللہ عنہ ) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے ہم معنی روایت کی جو حماد اور ابن عیینہ نے عمرو سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کی
لیث نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے بشیر بن یسار سے اور انہوں نے حضرت سہل بن ابی حثمہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید ( مدینہ سے ) نکلے یہاں تک کہ جب خیبر میں پہنچے تو وہاں کسی جگہ الگ الگ ہو گئے ، پھر ( یہ ہوتا ہے کہ ) اچانک محیصہ ، عبداللہ بن سہل کو مقتول پاتے ہیں ۔ انہوں نے اسے دفن کیا ، پھر وہ خود ، حویصہ بن مسعود اور ( مقتول کا حقیقی بھائی ) عبدالرحمان بن سہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ ( عبدالرحمان ) سب سے کم عمر تھا ، چنانچہ عبدالرحمان اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے بات کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " بڑے کو اس کا مقام دو ، " یعنی عمر میں بڑے کو ، تو وہ خاموش ہو گیا ، اس کے دونوں ساتھیوں نے بات کی اور ان کے ساتھ اس نے بھی بات کی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبداللہ بن سہل کے قتل کی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے ، پھر اپنے ساتھی ( کے بدلے خون بہا ) ۔ ۔ یا ( فرمایا : ) بدلے میں اپنے قاتل ( سے دیت یا قصاص لینے ) ۔ ۔ کے حقدار بنو گے؟ " انہوں نے جواب دیا : ہم قسمیں کیسے کھائیں جبکہ ہم نے دیکھا نہیں؟ آپ نے فرمایا : " تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تمہیں ( ان کے خلاف تمہارے مطالبے کے حق سے ) الگ کر دیں گے انہوں نے کہا : ہم کافر لوگوں کی قسمیں کیونکر قبول کریں؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال دیکھی آپ نے ( اپنی طرف سے ) اس کی دیت ادا کی
حماد بن زید نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے بشیر بن یسار سے ، انہوں نے سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج سے روایت کی کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل خیبر کی طرف گئے اور ( وہاں ) کسی نخلستان میں الگ الگ ہو گئے ، عبداللہ بن سہل کو قتل کر دیا گیا تو ان لوگوں نے یہود پر الزام عائد کیا ، چنانچہ ان کے بھائی عبدالرحمان اور دو حویصہ اور محیصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ عبدالرحمان نے اپنے بھائی کے معاملے میں بات کی ، وہ ان سب میں کم عمر تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بڑے کو بڑا بناؤ "" یا فرمایا : "" سب سے بڑا ( بات کا ) آغاز کرے ۔ "" ان دونوں نے اپنے ساتھی کے معاملے میں گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم میں سے پچاس آدمی ان میں سے ایک آدمی پر قسمیں کھائیں گے تو وہ اپنی رسی سمیت ( جس میں وہ بندھا ہو گا ) تمہارے حوالے کر دیا جائے گا؟ "" انہوں نے کہا : یہ ایسا معاملہ ہے جو ہم نے دیکھا نہیں ، ہم کیسے حلف اٹھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تو یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں سے تم کو ( تمہارے دعوے کے استحقاق سے ) الگ کر دیں گے ۔ "" انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ( وہ تو ) کافر لوگ ہیں ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت اپنی طرف سے ادا کر دی ۔ سہل نے کہا : ایک دن میں ان کے باڑے میں گیا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری ۔ حماد نے کہا : یہ یا اس کی طرح ( بات کہی)