قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 774 — صحيح مسلم 3:96
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَىَّ حَدِيثًا لاَ أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ ‏.‏ قَالَ ابْنُ أَسْمَاءَ فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي حَائِطَ نَخْلٍ ‏.‏
شیبان بن فروخ اور عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی نے کہا : ہمیں مہدی بن میمون نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب نے حسن بن علی کے آزاد کر دہ غلام حسن بن سعد کے حوالےسے حضرت عبد اللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا ، پھر مجھے ایک راز کی بات بتائی جو میں کسی شخص کو نہیں بتاؤں گا ، قضائے حاجت کے لیے آپ کی محبوب ترین اوٹ ٹیلایا کھجور کا جھنڈ تھا ۔ ( حدیث کے ایک راوی محمد ) ابن اسماء نے اپنی حدیث میں کہا : حائش نخل سے مراد حائط نخل ’’کھجور کا باغ یا جھنڈ ‘ ‘ ہے ۔
حدیث 775 — صحيح مسلم 3:97
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ شَرِيكٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الاِثْنَيْنِ إِلَى قُبَاءٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَنِي سَالِمٍ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَابِ عِتْبَانَ فَصَرَخَ بِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عِتْبَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُعْجَلُ عَنِ امْرَأَتِهِ وَلَمْ يُمْنِ مَاذَا عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
عبد الرحمن بن ابی سعید خدری نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ میں سوموار کے دن رسول اللہ ﷺ کےساتھ قباء گیا ، جب ہم بنو سالم کے محلے میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے دروازے پر رک گئے اور اسے آواز دی تو وہ اپنا تہبند گھسیٹتےہوئے نکلے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہم نے اس آدمی کو جلدی میں ڈال دیا ۔ ‘ ‘ عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کی اس مرد کے بارے میں کیا رائے ہے جو بیوی سے جلدی ہٹا دیا جائے ، حالانکہ اس نے منی خارج نہ کی تو اسے کیا کرنا چاہیے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’پانی ، صرف پانی سے ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 776 — صحيح مسلم 3:98
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
ابو سلمہ بن عبد الرحمان نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’پانی ، بس پانی سے ہے
حدیث 777 — صحيح مسلم 3:99
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلاَءِ بْنُ الشِّخِّيرِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْسَخُ حَدِيثُهُ بَعْضُهُ بَعْضًا كَمَا يَنْسَخُ الْقُرْآنُ بَعْضُهُ بَعْضًا ‏.‏
ابو علاء بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث دوسری کو منسوخ کر دیتی ہے ، جیسے قرآن کی ایک آیت دوسری آیت کو منسوخ کر دیتی ہے ۔ ( یعنی اس مفہوم کی احادیث ، آپ ہی کے اس فرمان کے ذریعے سے منسوخ ہو چکی ہیں جو بعد میں آئے گا ۔)
حدیث 778 — صحيح مسلم 3:100
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَقَالَ ‏"‏ لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أَقْحَطْتَ فَلاَ غُسْلَ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ ‏"‏ إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ ‏"‏ ‏.‏
ابوبکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنی اور ابن بشار نےمحمد بن جعفر غندر سے ، انہوں نے شعبہ سے ، انہوں نے حکم کے حوالے سے ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری آدمی کے ( مکان کے ) پاس سے گزرے تو سے بلوایا ، وہ اس حال میں نکلا کہ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا تو آپ نے فرمایا : ’’ شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈالا ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’ جب تمہیں جلدی میں ڈال دیا جائے یا تم انزال نہ کر سکو تو تم پر غسل لازم نہیں ہے ، البتہ وضو ضروری ہے ۔ ‘ ‘ ابن بشار نے کہا : جب تمہیں جلدی میں ڈال دیا جائے یا تجھے ( انزال سے ) روک دیا جائے ۔
حدیث 779 — صحيح مسلم 3:101
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يُكْسِلُ فَقَالَ ‏ "‏ يَغْسِلُ مَا أَصَابَهُ مِنَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
حماد اور ابو معاویہ نےہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنےوالد سے ، انہوں نے ابو ایوب سے ، انہوں نے حضرت ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ ﷺ سے اس مرد کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے ، پھر اسے انزال نہیں ہوتا ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’ بیوی سے اسے جو کچھ لگ جائے اس کو دھو ڈالے ، پھر وضو کر کے نماز پڑھ لے ۔ ‘ ‘
حدیث 780 — صحيح مسلم 3:102
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْمَلِيِّ، عَنِ الْمَلِيِّ، - يَعْنِي بِقَوْلِهِ الْمَلِيِّ عَنِ الْمَلِيِّ أَبُو أَيُّوبَ، - عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي أَهْلَهُ ثُمَّ لاَ يُنْزِلُ قَالَ ‏ "‏ يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے ہشام بن عروہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کےساتھ حضرت ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی ، انہوں نے رسول اللہ ﷺسے روایت کی کہ آپ نے اس مرد کے بارے میں جواپنی بیوی کے پاس جاتا ہے پھر اسے انزال نہیں ہوتا ، فرمایا : ’’ وہ اپنے عضو کو دھو لے اور وضو کرے ۔ ‘ ‘
حدیث 781 — صحيح مسلم 3:103
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ قَالَ عُثْمَانُ ‏ "‏ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ابو سلمہ نے عطاء بن یسار سے خبر دی کہ انہیں حضرت زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےبیان کیا کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےپوچھا : آپ کی کیا رائے ہے ، جب کسی مرد نے اپنی بیوی سے مجامعت کی اور اس نے منی خارج نہ کی ؟ حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ( جواب میں ) کہا : نماز کے وضو کی طرح وضو کرے اور اپنےعضو کو دھولے ۔ حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ۔
حدیث 782 — صحيح مسلم 3:104
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ يَحْيَى وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ذَلِكَ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ابوسلمہ نے عطاء بن یسار کےبجائے عروہ بن زبیر سے اور انہوں نےابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے خبر دی کہ انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ۔
حدیث 783 — صحيح مسلم 3:105
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، وَمَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ مَطَرٍ ‏"‏ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ مِنْ بَيْنِهِمْ ‏"‏ بَيْنَ أَشْعُبِهَا الأَرْبَعِ ‏"‏ ‏.‏
زہیر بن حرب ، ابو غسان مسمعی ، محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہم سے معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے قتادہ اور مطر نے حسن سے ، انہوں نے ابو رافع سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا : ’’ جب وہ ( مرد ) اس ( عورت ) کی چا شاخوں کے درمیان بیٹھے ، پھر اس سے مجامعت کرے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘ مطر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : ’’اگرچہ انزال نہ ہو ۔ ‘ ‘ اور امام مسلم کے اساتذہ میں سے ( صرف ) زہیر نے شعبہا کی جگہ أشعبها کہا ۔ ( دونوں ایک ہی لفظ شعبہ ( شاخ ) کی جمع ہیں ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔