ابوعوانہ نے اسود بن قیس سے ، انہوں نے حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ان جنگوں میں سے ایک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی خون آلود ہو گئی تو آپ نے فرمایا : "" تو ایک انگلی ہی ہے جو زخمی ہوئی اور تو نے جو تکلیف اٹھائی وہ اللہ کی راہ میں ہے
حدیث 4655 — صحيح مسلم 32:137
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ فَنُكِبَتْ إِصْبَعُهُ .
ابن عیینہ نے اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لشکر میں تھے اور ( وہاں ) آپ کی انگلی زخمی ہو گئی
سفیان بن اسود بن قیس سے روایت کی کہ انہوں نے جندب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام کی آمد میں تاخیر ہو گئی ، مشرکین کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو الوداع کہہ دیا گیا ۔ تو اللہ عزوجل نے یہ نازل فرمایا : " قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی ، اور قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے! ( اے نبی! ) آپ نے رب نے نہ آپ کو رخصت کیا اور نہ بیزار ہوا
زہیر نے اسود بن قیس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور دو یا تین راتیں اٹھ نہ سکے تو ایک عورت آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی : اے محمد! مجھے لگتا ہے کہ آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے ، میں نے دو یا تین راتوں سے اسے آپ کے قریب آتے نہیں دیکھا ۔ کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : " قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی اور رات کی جب وہ چھا جائے! ( اے نبی! ) آپ کے رب نے نہ آپ کو رخصت کیا اور نہ وہ بیزار ہوا
معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ ( بن زبیر ) سے خبر دی کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھے پر سواری فرمائی ، اس پر پالان تھا اور اس کے نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک چادر تھی ، آپ نے اسامہ ( بن زید رضی اللہ عنہ ) کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا ، آپ قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنا چاہتے تھے ۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے ، آپ راستے میں ایک مجلس سے گزرے جہاں مسلمان ، بت پرست اور مشرک اور یہودی ملے جلے موجود تھے ، ان میں عبداللہ بن اُبی بھی تھا اور مجلس میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔ جب سواری کی گرد مجلس کی طرف اٹھی تو عبداللہ بن اُبی نے چادر سے اپنی ناک ڈھانپ لی اور کہنے لگا : ہم پر گرد نہ اڑائیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو سلام کیا ، رگ گئے ، پھر آپ سواری سے اترے ، ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی اور ان پر قرآن مجید کی تلاوت کی ۔ عبداللہ بن اُبی نے کہا : اے شخص! اس سے اچھی بات اور کوئی نہیں ہو گی کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں اگر وہ سچ ہے تو بھی ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں تکلیف نہ پہنچائیں اور اپنے گھر لوٹ جائیں اور ہم میں سے جو شخص آپ کے پاس آئے اس کو سنائیں ۔ ۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ہماری مجلس میں تشریف لائیں ۔ ہم اس کو پسند کرتے ہیں ، پھر مسلمان ، یہود اور بت پرست ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے ، یہاں تک کہ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑنے پر تیار ہو گئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مسلسل دھیما کرتے رہے ، پھر آپ اپنی سواری پر بیٹھے ، حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمایا : " سعد! آپ نے نہیں سنا کہ ابوحباب نے کیا کہا ہے؟ آپ کی مراد عبداللہ بن اُبی سے تھی ، اس نے اس ، اس طرح کہا ہے ۔ ( حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ) کہا : یا رسول اللہ! اس کو معاف کر دیجئے اور اس سے درگزر کیجیے ۔ بےشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو عطا کیا ہے سو کیا ہے ۔ اس نشیبی نخلستانی علاقے میں بسنے والوں نے مل جل کر یہ طے کر لیا تھا کہ اس کو ( بادشاہت کا ) تاج پہنائیں گے اور اس کے سر پر ( ریاست کا ) عمامہ باندھیں گے ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ، اس حق کے ذریعے جو آپ کو عطا فرمایا ہے ، اس ( فیصلے ) کو رد کر دیا تو اس بنا پر اس کو حلق میں پھندا لگ گیا اور آپ نے جو دیکھا ہے اس نے اسی بنا پر کیا ہے ۔ سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا
عقیل نے ابن شہاب ( زہری ) سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور یہ اضافہ کیا : یہ عبداللہ ( بن ابی ) کے ( ظاہری طور پر ) اسلام ( کا اعلان کرنے ) سے پہلے کا واقعہ ہے
حدیث 4661 — صحيح مسلم 32:143
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ قَالَ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ وَرَكِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِلَيْكَ عَنِّي فَوَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِي نَتْنُ حِمَارِكَ . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ - قَالَ - فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ - قَالَ - فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ - قَالَ - فَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالأَيْدِي وَبِالنِّعَالِ - قَالَ - فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ { وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا} .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی : ( کیا ہی اچھا ہو ) اگر آپ ( اسلام کی دعوت دینے کے لیے ) عبداللہ بن اُبی کے پاس بھی تشریف لے جائیں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سواری فرما کر اس کی طرف گئے اور مسلمان بھی گئے ، وہ شوریلی زمین تھی ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا : مجھ سے دور رہیں ، اللہ کی قسم! آپ کے گدھے کی بو سے مجھے اذیت ہو رہی ہے ۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھا تم سے زیادہ خوشبودار ہے ۔ اس پر عبداللہ بن اُبی کی قوم میں سے ایک شخص اس کی حمایت میں ، غصے میں آ گیا ۔ کہا : دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھی غصے میں آ گئے ۔ کہا : تو ان میں ہاتھوں ، چھیڑیوں اور جوتوں کے ساتھ لڑائی ہونے لگی ، پھر ہمیں یہ بات پہنچی کہ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : " اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان دونوں کے درمیان صلح کراؤ
اسماعیل ابن علیہ نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہماری خاطر کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ "" اس پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ چلے گئے ، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دوبیٹے اس کو تلواروں کا نشانہ بنا چکے ہیں اور اس کا جسم ٹھنڈا ہو رہا ہے ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی داڑھی پکڑ کر کہا : تو ابوجہل ہے؟ ابوجہل نے کہا : کیا اس سے بڑے کسی شخص کو بھی تم نے قتل کیا ہے؟ ۔ ۔ یا کہا ۔ ۔ اس کی قوم نے قتل کیا ہے؟ ( سلیمان تیمی نے ) کہا : ابومجلز نے کہا : ابوجہل نے یہ بھی کہا تھا : کاش! مجھے کسانوں کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا
ہمیں معتمر نے کہا : میں نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے سنا ، وہ کہ رہے تھے : ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے لیے کون معلوم کرے گا کہ ابوجہل کا کیا ہوا؟ آگے ابن علیہ کی حدیث اور ابومجلز کے قول کے مانند ہے ، جس طرح اسماعیل نے بیان کیا ہے