ابو صالح السمان سے روایت ہے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم پر ( امیر کا حکم ) سننا اور ماننا واجب ہے ، اپنی مشکل ( کی کیفیت ) میں بھی اور اپنی آسانی میں بھی ، اپنی خوشی میں بھی اور اپنی ناخوشی میں بھی اور اس وقت بھی جب تک پر ( کسی اور کو ) ترجیح دی جا رہی ہو
ابن ادریس نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو عمران سے ، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں ( امیر کی بات ) سنوں اور اطاعت کروں ، چاہے وہ ( امیر ) کٹے ہوئے اعضاء والا غلام ہی کیوں نہ ہو
محمد بن جعفر اور نضر بن شمیل نے ہمیں شعبہ سے ، انہوں نے ابوعمران سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور حدیث میں کہا : چاہے وہ ( امیر ) کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام ( ہی کیوں نہ ہو)
عبیداللہ کے والد معاذ نے ہمیں شعبہ سے اور انہوں نے ابوعمران سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، جس طرح ابن ادریس نے کہا : کٹے ہوئے اعضاء والا غلام ( ہی کیوں نہ ہو)
محمد بن مثنیٰ نے کہا : محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یحییٰ بن حصین سے ، انہوں نے کہا : میں نے اپنی دادی سے سنا ، وہ بیان کرتی تھیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے دوران میں خطبہ دے رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے : " اگر تم پر ایک غلام کو حاکم بنایا جائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری راہنمائی کرے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو
وکیع بن جراح نے ہمیں شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : " کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام ہو
حدیث 4761 — صحيح مسلم 33:59
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا وَزَادَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَاتٍ
بہز نے ہمیں شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی : انہوں نے " کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام " نہیں کہا ، اور یہ اضافہ کیا : انہوں ( ام الحصین رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ یا عرفات میں سنا
حدیث 4762 — صحيح مسلم 33:60
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي، أُنَيْسَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، قَالَ سَمِعْتُهَا تَقُولُ، حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَجَّةَ الْوَدَاعِ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْلاً كَثِيرًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ " إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ - حَسِبْتُهَا قَالَتْ - أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا " .
زید بن ابی انیسہ نے یحییٰ بن حصین سے ، انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا : میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں ، پھر میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اگر تم پر ایک کٹے ہوئے اعضاء والا غلام ، میرا گمان ہے آپ نے " کالا " بھی کہا ، حاکم بنا دیا جائے اور وہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق چلائے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو
لیث نے عبیداللہ سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان شخص پر حاکم کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے ، وہ بات اس کو پسند ہو یا ناپسند ، سوائے اس کے کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے ، اگر اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو اس میں سننا ( روا ) ہے نہ ماننا