عباد بن تمیم نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ان کے پاس کوئی شخص آیا اور کہنے لگا : ابن حنظلہ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں؟ پوچھا : کس چیز پر؟ کہا : موت پر ۔ کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے ساتھ اس بات پر بیعت نہیں کروں گا ۔
یزید بن ابی عبید نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ حجاج کے پاس گئے ، اس نے کہا : ابن اکوع! کیا آپ واپس پچھلی روش پر لوٹ گئے ہیں ، بادیہ میں رہنے لگے ہیں؟ انہوں نے کہا : نہیں ( پچھلی روش پر نہیں لوٹا ) لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادیہ میں رہنے کی اجازت دی تھی ۔
اسماعیل بن زکریا نے عاصم احول سے ، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے روایت کی ، کہا : مجھے حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہجرت کی بیعت کرنے والوں کا وقت گزر گیا ، البتہ اسلام ، جہاد اور خیر پر بیعت ( جائز ) ہے ۔
علی بن مسہر نے عاصم سے ، انہوں نے ابوعثمان سے روایت کی ، کہا : مجھے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، کہا : میں اپنے بھائی ابومعبد کے ساتھ فتح ( مکہ ) کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! اس سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے ، آپ نے فرمایا : "" ہجرت والوں کے ساتھ ہجرت ( کا مرحلہ ) گزر گیا ۔ "" میں نے عرض کی : پھر آپ کس بات پر اس سے بیعت لیں گے؟ آپ نے فرمایا : "" اسلام ، جہاد اور خیر پر ۔ "" ابو عثمان نے کہا : میری حضرت ابو معبد رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کو حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : اس نے سچ کہا ہے ۔
محمد بن فضیل نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، کہا : میں حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ کے بھائی سے ملا ، انہوں نے کہا : اس نے سچ کہا ، ابومعبد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔
جریر نے منصور سے ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : فتح کے دن جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اب ہجرت نہیں ہے ، لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکلو ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا گیا ، آپ نے فرمایا : " فتح ( مکہ ) کے بعد ہجرت نہیں ہے ، لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم کو جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکلو ۔
ولید بن مسلم نے کہا : ہمیں عبدلرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابن شہاب زہری نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے عطاء بن یزید لیثی نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ان سب کو حدیث سنائی ، کہا : ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا ۔ آپ نے فرمایا : " تم پر افسوس! ہجرت کا معاملہ تو بہت مشکل ہے ، کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟ " اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : " کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتے ہو؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : " پانیوں ( چشموں ، دریاؤں ، سمندروں وغیرہ ) کے پار ( رہتے ہوئے ) عمل کرتے رہو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ہرگز رائیگاں نہیں کرے گا ۔
محمد بن یوسف نے اوزاعی سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی مگر انہوں نے کہا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں سے کسی چیز کو ضائع نہیں کرے گا " اور یہ اضافہ کیا ، آپ نے فرمایا : " جس دن اونٹنیاں پانی پینے کے لیے ( گھاٹ یا چشمے پر ) آتی ہیں تو کیا تم ( ضرورت مندوں ، مسکینوں ، مسافروں کو پلانے کے لیے ) ان کا دودھ دوہتے ہو؟ " اس نے کہا : ہاں ۔