یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید نے لیث بن سعد سے حدیث بیان کی ۔ خلف بن ہشام ، ابو ربیع اور ابو کامل نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے ایوب سے حدیث بیان کی ۔ زہیر نے کہا : ہمیں اسماعیل نے ایوب سے حدیث بیان کی ۔ عبداللہ بن نمیر ، ابو اسامہ اور یحییٰ قطان سب نے عبیداللہ سے روایت کی ۔ علی بن حجر ، احمد بن عبدہ اور ابن ابی عمر نے مجھے حدیث سنائی ، سب نے کہا : ہمیں سفیان نے اسماعیل بن امیہ سے حدیث سنائی ۔ ابن جریج نے کہا : مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی ۔ ابن وہب نے کہا : مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی ۔ ان سب ( لیث بن سعد ، ایوب ، عبیداللہ ، اسماعیل بن امیہ ، موسیٰ بن عقبہ اور اسامہ بن زید ) نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مالک کی نافع سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی روایت کی ، حماد اور ابن علیہ کی ایوب سے روایت میں یہ اضافہ کیا : حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں اول آیا اور گھوڑا مجھ سمیت مسجد ( بنو زُریق ) سے آگے نکل گیا ۔ ( جہاں پہنچنا تھا ، تیز رفتاری کی بنا پر اس جگہ سے آگے نکل گیا ۔)
حدیث 4845 — صحيح مسلم 33:141
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں برکت ہے اور خوبی قیامت تک۔
جریر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے رسول اﷲؐ کو دیکھا آپ ایک گھوڑے کی پیشانی کے بال انگلی سے مل رہے تھے اور فرماتے تھے گھوڑوں کی پیشانیوں سے برکت بندھی ہوئی ہے قیامت تک یعنی ثواب او رغنیمت۔
عروہ بارقی سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برکت بندھی ہوئی ہے گھوڑوں کی پیشانیوں سے۔ لوگوں نے عرض کیا کیونکر یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا ثواب ہے اور غنیمت قیامت تک ( کیونکہ جہاد قائم رہے گا قیامت تک ) ۔