قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 4874 — صحيح مسلم 33:170
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ، بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَالْغَدْوَةَ يَغْدُوهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں بندہ صبح کے وقت جو ایک سفر کرتا ہے ( جس وقت سفر کرنا آسان بھی ہوتا ہے ) تو وہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے ۔
حدیث 4875 — صحيح مسلم 33:171
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
سفیان نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں صبح کے وقت کا ایک سفر یا شام کے وقت کا ایک سفر ، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، اس سے بہتر ہے ۔
حدیث 4876 — صحيح مسلم 33:172
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْلاَ أَنَّ رِجَالاً مِنْ أُمَّتِي ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ ‏"‏ وَلَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میری حالت میں ایسے لوگ نہ ہوتے ۔ " ( جو جہاد پر جانے کے لیے انتہائی ضروری سامان مہیا نہیں کر سکتے اور نہ میں ان کے لیے مہیا کر سکتا ہوں ) پھر آپ نے گفتگو فرمائی ، اس میں آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں صبح کا ایک سفر کرنا یا شام کا ایک سفر کرنا دنیا و ما فہیا سے بہتر ہے ۔
حدیث 4877 — صحيح مسلم 33:173
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ وَإِسْحَاقَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن یزید مقری نے سعید بن ابی ایوب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے شرجیل بن شریک معافری نے ابوعبدالرحمٰن حُبلی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں ایک بار صبح کو یا شام کو نکلنا ( یا پہرہ دینا ) ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے ۔
حدیث 4878 — صحيح مسلم 33:174
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ، شَرِيكٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ سَوَاءً ‏.‏
عبداللہ بن مبارک نے روایت کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابی ایوب اور حیوہ بن شریح نے بتایا ، دونوں میں سے ہر ایک نے کہا : مجھے شرجیل بن شریک نے ابو عبدالرحمٰن حبلی سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بالکل پچھلی روایت کے مانند ۔
حدیث 4879 — صحيح مسلم 33:175
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ‏"‏ ‏.‏ فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ أَعِدْهَا عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوسعید! جو شخص اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر ( دل کی گہرائیوں ) سے راضی ہو گیا ، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ " حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کو یہ بات اچھی لگی تو کہنے لگے : اللہ کے رسول! یہی بات میرے سامنے دوبارہ ارشاد فرمائیں ، آپ نے ایسا ہی کیا ، اس کے بعد فرمایا : " ایک بات اور بھی ہے جس کی وجہ سے بندے کو سو درجے رفعت بخشی جاتی ہے اور ہر دو درجوں میں زمین اور آسمان جتنا فاصلہ ہے ۔ " کہا : ( میں نے عرض کی ) اللہ کے رسول! وہ ( بات ) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : " اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔
حدیث 4880 — صحيح مسلم 33:176
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي، قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ ‏"‏ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الأَعْمَالِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَيْفَ قُلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلاَّ الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ لِي ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
لیث نے سعید بن ابی سعید ( مقبری ) سے ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے انہیں ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام میں ( خطبہ دینے کے لئے ) کھڑے ہوئے اور انہیں بتایا : " اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا ( باقی ) تمام اعمال سے افضل ہے ۔ " ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہ مجھ سے دور ہٹا دئیے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " ہاں ، اگر تم اللہ کی راہ میں اس حالت میں شہید کر دیے جاؤ کہ تم صبر کرنے والے ( ڈٹے ہوئے ) ہو ، صرف اللہ کی رضا چاہتے ہو ، آگے بڑح رہے ہو ، پیٹھ پھیر کر نہ بھاگ رہے ہو ۔ " اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے کس طرح کہا تھا؟ " اس نے عرض کی ( میں نے اس طرح کہا تھا ) : آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں تو کیا میرے گناہ مجھ سے دور ہٹا دئیے جائیں گے ۔ " آپ نے فرمایا : " ہاں ، اگر تم اس حالت میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیے جاؤ کہ صبر کرنے والے ( ڈٹے ہوئے ) ہو ، صرف اللہ کی رضا چاہتے ہو ، آگے بڑح رہے ہو ، پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے نہیں ، ( تو سارے گناہ مٹا دیے جائیں گے ) سوائے قرض کے ۔ جبریل علیہ السلام نے ( ابھی آ کر ) مجھ سے یہ کہا ہے ۔
حدیث 4881 — صحيح مسلم 33:177
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ ‏.‏
یحییٰ بن سعید نے سعید بن ابی سعید مقبری سے ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں ۔ ( آگے ) لیث کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔)
حدیث 4882 — صحيح مسلم 33:178
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمَقْبُرِيِّ ‏.‏
عمرو بن دینار اور محمد بن عجلان نے محمد بن قیس سے روایت کی ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ان ( عمرو اور ابن عجلان ) میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی سے کچھ زیادہ بیان کرتا ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ منبر پر تھے ، اس نے کہا : آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں اپنی تلوار سے وار کروں؟ ( کافر کو قتل کروں ، پھر شہید کر دیا جاؤں ، آگے ) مقبری کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔)
حدیث 4883 — صحيح مسلم 33:179
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، - يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ - عَنْ عَيَّاشٍ، - وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلاَّ الدَّيْنَ ‏"‏ ‏.‏
مفضل بن فضالہ نے عباس قِتبانی کے بیٹے عیاس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن یزید ابو عبدالرحمٰن حبلی سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شہید کا ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے ، سوائے قرض کے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔