حجاج بن محمد نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی ، کہا : مجھے یونس بن یوسف نے سلیمان بن یسار سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چھٹ گئے تو ناتل شامی نے کہا ۔ ۔ ۔ اور ( اس کے بعد ) خالد بن حارث کی طرح حدیث بیان کی ۔
حیوہ بن شریح نے ابوہانی سے روایت کی ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن حبلی سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لڑنے والی کوئی بھی جماعت جو اللہ کی راہ میں جنگ کرتی ہے ، پھر وہ لوگ مالِ غنیمت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ آخرت کے اجر سے دو حصے فورا حاصل کر لیتے ہیں ، ان کے لیے ایک باقی رہ جاتا ہے اور اگر وہ غنیمت حاصل نہیں کرتے تو ( آخرت میں ) ان کا اجر پورا ہو گا ۔
نافع بن یزید نے کہا : مجھے ابوہانی نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوعبدالرحمٰن حبلی نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو بھی غازہ جماعت یا لشکر جہاد کرے ، غنیمت حاصل کرے اور سلامت رہے تو انہوں نے اپنے دو تہائی اجر فورا ( یہیں ) حاصل کر لیے اور جو بھی غازی جماعت یا لشکر خالی ہاتھ لوٹے اور زخم کھائے تو ان لوگوں کے اجر مکمل ہوں گے ۔
امام مالک نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ بن وقاص سے ، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اعمال کا مدار نیت پر ہی ہے ، اور آدمی کے لیے وہی ( اجر ) ہے جس کی اس نے نیت کی ۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی تھی ۔
لیث ، حماد بن زید ، عبدالوہاب ثقفی ، سلیمان بن حیان ، حفص بن غیاث ، یزید بن ہارون ، ابن مبارک اور سفیان سب نے یحییٰ بن سعید سے ، مالک کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔ سفیان کی حدیث میں ہے : میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ۔
حدیث 4929 — صحيح مسلم 33:224
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ طَلَبَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا أُعْطِيَهَا وَلَوْ لَمْ تُصِبْهُ " .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے سچے دل سے شہادت طلب کی ، اسے عطا کر دی جاتی ہے ( اجر عطا کر دیا جاتا ہے ) چاہے وہ اسے ( عملا ) حاصل نہ ہو سکے ۔
ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے مجھے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ حرملہ کے ہیں ۔ ۔ ابوطاہر نے کہا : ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، حرملہ نے کہا : حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوشریح نے حدیث بیان کی کہ سہل بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف نے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص سچے دل سے اللہ کی شہادت مانگے ، اللہ اسے شہداء کے مراتب تک پہنچا دیتا ہے ، چاہے وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ فوت ہو ۔ " ابوطاہر نے اپنی حدیث میں " سچے ( دل ) سے " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
حدیث 4931 — صحيح مسلم 33:226
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الأَنْطَاكِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وُهَيْبٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ " . قَالَ ابْنُ سَهْمٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ فَنُرَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
محمد بن عبدالرحمٰن بن سہم انطاکی نے کہا : ہمیں عبداللہ بن مبارک نے وہیب مکی سے خبر دی ، انہوں نے عمر بن محمد بن منکدر سے ، انہوں نے سمی سے ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو شخص مر گیا اور جہاد کیا نہ دل میں جہاد کا ارادہ ہی کیا ، وہ نفاق کی ایک قسم میں مرا ۔ "" ابن سہم نے کہا : عبداللہ بن مبارک کا قول ہے : ہمیں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ ( حکم ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا ( جب جہاد کی سنگین ضرورت تھی ۔ بہت بڑے ممالک اسلام میں داخل ہونے اور دشمنوں سے مامون ہو جانے کے بعد اب ہر کسی کی جہاد میں شمولیت کی اتنی شدید ضرورت نہیں رہی ۔)
جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوسفیان سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ایک غزوے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ نے فرمایا : " مدینہ میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم کسی راستے پر نہیں چلتے یا کسی وادی کو طے نہیں کرتے مگر وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں ، انہیں بیماری نے روک رکھا ہے ۔
ابومعاویہ ، وکیع اور عیسیٰ بن یونس سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، مگر وکیع کی حدیث میں ( " مگر وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں " کے بجائے ) " مگر وہ تمہارے ساتھ اجر میں شریک ہوتے ہیں " ہے ۔