عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں عاصم نے حفصہ بنت سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا : یحییٰ بن ابی عمرہ کس بیماری سے فوت ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا : میں نے کہا : طاعون سے ۔ انہوں نے کہا : تو انہوں ( انس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " طاعون ( سے موت ) ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے ۔
ثمامہ بن شُفی سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پر فرما رہے تھے : " ( عربی ) " تم ان کے مقابلے کے لیے جتنی کر سکو ، قوت تیار کرو ۔ " ( الانفال 60 : 8 ) سن رکھو! قوت تیر اندازی ( کا نام ) ہے ، سن رکھو! قوت تیر اندازی ( کا نام ) ہے ، سن رکھو! قوت تیر اندازی ( کا نام ) ہے ۔
ابن وہب نے کہا : مجھے عمرو بن حارث نے ابوعلی ( ثمامہ بن شفی ) سے خبر دی ، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جلد ہی تمہارے لیے بہت سی زمینوں ( پر قبضے ) کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور اللہ تمہارے لیے کافی ہو گا ، اس لیے تم میں سے کوئی اپنے تیروں کی مشق سے غافل نہ رہے ۔
حدیث 4948 — صحيح مسلم 33:243
وَحَدَّثَنَاهُ دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
حارث بن یعقوب نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت کی کہ فُقَیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ( تیر چھوڑنے اور جا لگنے کے ) ان دو نشانوں کے درمیان چکر لگاتے ہیں جبکہ آپ بوڑھے ہیں اور یہ آپ کے لیے باعث مشقت بھی ہے ۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ تکلیف نہ اٹھاتا ۔ حارث نے کہا : میں نے ابن شماسہ سے پوچھا : وہ بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " جس شخص نے تیر اندازی سیکھی ، پھر اس کو ترک کر دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ " یا ( فرمایا : ) " اس نے نافرمانی کی ۔
حارث بن یعقوب نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت کی کہ فُقَیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ( تیر چھوڑنے اور جا لگنے کے ) ان دو نشانوں کے درمیان چکر لگاتے ہیں جبکہ آپ بوڑھے ہیں اور یہ آپ کے لیے باعث مشقت بھی ہے ۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ تکلیف نہ اٹھاتا ۔ حارث نے کہا : میں نے ابن شماسہ سے پوچھا : وہ بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " جس شخص نے تیر اندازی سیکھی ، پھر اس کو ترک کر دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ " یا ( فرمایا : ) " اس نے نافرمانی کی ۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا کوئی ان کا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کا حکم آوے ( یعنی قیامت ) اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔
جابر بن سمرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دین برابر قائم رہے گا اور اس کے اوپر لڑتی رہے گی ایک جماعت ( کافروں سے اور مخالفوں سے ) مسلمانوں کی قیامت ہوئے تک۔