قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 5674 — صحيح مسلم 39:28
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ ‏"‏ الْحَمْوُ الْمَوْتُ ‏"‏ ‏.‏
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا : ہمیں لیث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی ، انھوں نے ابو الخیر سے ، انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تم ( اجنبی ) عورتوں کے ہاں جانے سے بچو ۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! دیور/جیٹھ کے متعلق آپ کا کیاخیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " دیور/جیٹھ تو موت ہے ۔
حدیث 5675 — صحيح مسلم 39:29
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثِ، بْنِ سَعْدٍ وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ وَغَيْرِهِمْ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الإِسْنَادِ، مِثْلَهُ ‏.‏
عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث ، لیث بن سعد اور حیوہ بن شریح وغیرہ سے روایت کی کہ یزید بن ابی حبیب نے انھیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
حدیث 5676 — صحيح مسلم 39:30
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ ‏.‏
ابن وہب نے کہا : میں نے لیث بن سعد سے سنا ، کہہ رہے تھے : حمو ( دیور/جیٹھ ) خاوند کابھائی ہے یا خاوند کے رشتہ داروں میں اس جیسا رشتہ رکھنے والا ، مثلاً : اس کا چچا زاد وغیرہ ۔
حدیث 5677 — صحيح مسلم 39:31
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ لَمْ أَرَ إِلاَّ خَيْرًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلاَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ ‏"‏ ‏.‏
عبدالرحمان بن جبیر نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث سنائی کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گئے ، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آگئے ، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس وقت ان کے نکاح میں تھیں ۔ انھوں نے ان لوگوں کو دیکھا تو انھیں ناگوارگزرا ۔ انھوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، ساتھ ہی کہا : میں نے خیر کے سواکچھ نہیں دیکھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے ( بھی ) انھیں ( حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ) اس سے بری قرار دیا ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا؛ " آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پا س نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو ، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں ۔
حدیث 5678 — صحيح مسلم 39:32
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ مَعَ إِحْدَى نِسَائِهِ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَدَعَاهُ فَجَاءَ فَقَالَ ‏"‏ يَا فُلاَنُ هَذِهِ زَوْجَتِي فُلاَنَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ‏"‏ ‏.‏
ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( گھرسے باہر ) اپنی ایک اہلیہ کے ساتھ تھے ، آپ کے پا س سے ایک شخص گزرا تو آپ نے اسے بلالیا ، جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا؛ " اے فلاں!یہ میری فلاں بیوی ہے ۔ " اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کسی کے بارے میں گمان کرتا بھی تو آپ کے بارے میں تو نہیں کرسکتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ۔
حدیث 5679 — صحيح مسلم 39:33
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلاً فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ لأَنْقَلِبَ فَقَامَ مَعِيَ لِيَقْلِبَنِي ‏.‏ وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
معمر نے زہری سے ، انھوں نے علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت صفیہ بنت حی ( ام الومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے روایت کی ، کہا : ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے ، میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کو آئی ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں ، پھر میں لوٹ جانے کو کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے پہنچا دینے کو میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور میرا گھر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مکان میں تھا ۔ راہ میں انصار کے دو آدمی ملے جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ جلدی جلدی چلنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو ، یہ صفیہ بنت حیی ہے ۔ وہ دونوں بولے کہ سبحان اللہ یا رسول اللہ! ( یعنی ہم بھلا آپ پر کوئی بدگمانی کر سکتے ہیں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح پھرتا ہے اور میں ڈرا کہ کہیں تمہارے دل میں برا خیال نہ ڈالے ( اور اس کی وجہ سے تم تباہ ہو ) ۔
حدیث 5680 — صحيح مسلم 39:34
وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ وَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْلِبُهَا ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ ‏"‏ يَجْرِي ‏"‏ ‏.‏
شعیب نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے علی بن حسین نے بتایا کہ انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ وہ رمضان کے آخری عشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کے دوران مسجد میں آپ سے ملنے آئیں ، انھوں نے گھڑی بھر آپ سے بات کی ، پھر واپسی کے لئے کھڑی ہوگئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو واپس چھوڑنے کےلیے کھڑی ہوگئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو واپس چھوڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ اس کے بعد ( شعیب نے ) معمر کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شیطان انسان کے اندر وہاں پہنچتا ہے جہاں خون پہنچتاہے ۔ انھوں نے " دوڑتا ہوا " نہیں کہا ۔
حدیث 5681 — صحيح مسلم 39:35
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّالله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلاَثَةٌ فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَهَبَ وَاحِدٌ ‏.‏ قَالَ فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاَثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سےروایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آذاد کردہ غلام ابو مرہ نے انھیں حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اتنے میں تین آدمی آئے ، دو تو سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ایک چلا گیا ۔ وہ دو جو آئے ان میں سے ایک نے مجلس میں جگہ خالی پائی تو وہ وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھا اور تیسرا تو پیٹھ پھیر کر چل دیا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں تم سے تین آدمیوں کا حال نہ کہوں؟ ایک نے تو اللہ کے پاس ٹھکانہ لیا تو اللہ نے اس کو جگہ دی اور دوسرے نے ( لوگوں میں گھسنے کی ) شرم کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور تیسرے نے منہ پھیرا تو اللہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا ۔
حدیث 5682 — صحيح مسلم 39:36
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ، - وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ - ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ، أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَهُ فِي، هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ فِي الْمَعْنَى ‏.‏
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے انھیں اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
حدیث 5683 — صحيح مسلم 39:37
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
لیث نے نا فع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : تم میں سے کو ئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھا ئے کہ پھر وہاں ( خود ) بیٹھ جائے
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔