حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَسَاقَ أَبُو كُرَيْبٍ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَقَالَ فِيهِ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ . وَقَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْرِجْهُ . وَلَمْ يَقُلْ أَفَلاَ أَحْرَقْتَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ " فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ " .
ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، کہا ، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نےحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا ۔ اسکے بعد ابو کریب نے واقعے کی تفصیلات سمیت ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کی طرف تشریف لئے گئے ، اسے دیکھا ، اس کنویں پر کھجور کے درخت تھے ( جنھیں کسی زمانے میں کنویں کے پانی سےسیراب کیاجاتا ہوگا ) انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اسے نکالیں ( اور جلادیں ) ابو کریب نے : " آپ نے اسے جلا کیوں نہ دیا؟ " کے الفاظ نہیں کہے اور یہ الفاظ ( بھی ) بیان نہیں کیے؛ " میں نے اس کے بار ے میں حکم دیا تو اس کو پاٹ دیاگیا ۔
حدیث 5705 — صحيح مسلم 39:59
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ، بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ أَرَدْتُ لأَقْتُلَكَ . قَالَ " مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَاكِ " . قَالَ أَوْ قَالَ " عَلَىَّ " . قَالَ قَالُوا أَلاَ نَقْتُلُهَا قَالَ " لاَ " . قَالَ فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود ( پکی ہوئی ) بکری لے کر آئی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ ( گوشت کھایا ) ( آپ کو اس کے زہر آلود ہونے کاپتہ چل گیا ) تو اس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایاگیا ، آپ نے اس عورت سے اس ( زہر ) کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا : ( نعوذ باللہ! ) میں آپ کو قتل کرنا چاہتی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ تمھیں اس بات پر تسلط ( اختیار ) دے دے ۔ " انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نےکہا : یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( تمھیں ) مجھ پر ( تسلط دے دے ۔ ) " انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " نہیں ۔ " انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تو میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےدہن مبارک کے اندرونی حصے میں اسکے اثرات کو پہچانتاہوں ۔
حدیث 5706 — صحيح مسلم 39:60
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - سَمِعْتُ هِشَامَ، بْنَ زَيْدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً، جَعَلَتْ سَمًّا فِي لَحْمٍ ثُمَّ أَتَتْ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ خَالِدٍ .
روح بن عبادہ نےکہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ہشام بن زید سے سنا ، انھوں نےکہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کررہے تھے کہ ایک یہودی عورت نے گوشت میں زہرملادیا اور پھر اس ( گوشت ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س لے آئی ، جس طرح خالد ( بن حارث ) کی حدیث ہے ۔
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابوضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : جب ہم میں سے کوئی شخص بیمار ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( کےمتاثرہ حصے ) پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے ، پھر فرماتے : "" تکلیف کو دور کردے ، اے تمام انسانوں کے پالنے والے!شفا دے ، تو ہی شفا دینے والا ہے ، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ، ایسی شفا جو بیماری کو ( ذرہ برابر باقی ) نہیں چھوڑتی ۔ "" پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اورآپ کے لیے اعضاء کو حرکت دینا مشکل ہوگیا تو میں نے آپ کا دست مبارک تھاماتاکہ جس طرح خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیاکرتے تھے ، میں بھی اسی طرح کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا لیا ، پھر فرمایا : "" اے میرے اللہ!مجھے بخش دے اور مجھے رفیق اعلیٰ کی معیت عطا کردے ۔ "" انھوں نے کہا : پھر میں دیکھنے لگی تو آپ رحلت فرماچکے تھے ۔
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں ہشیم نے خبر دی ، ابو بکر بن خلاد اور بو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی ، بشر بن خالد نےکہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ۔ ابن بشار نے کہا؛ "" ہمیں ابن عدی نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( محمد بن جعفر اور ابن ابی عدی ) نے شعبہ سے روایت کی ۔ ( اسی طرح ) ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو بکر بن خلاد نے بھی ہمیں یہ حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ قطان نے سفیان سے حدیث بیان کی ، ان سب نے جریرکی سند کےساتھ اعمش سے روایت کی ۔ ہشیم اورشعبہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس ( متاثرہ حصے ) پر پھیرتے اور ( سفیان ) ثوری کی حدیث میں ہے : آپ اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے ۔ اوراعمش سےسفیان اور ان سے یحییٰ کی روایت کردہ حدیث کے آخر میں ہے ، کہا : میں نے منصور کو یہ حدیث سنائی تو انھوں نے اسی کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مسروق اور ان سے ابراہیم کی روایت کردہ حدیث بیان کی ۔
ابوعوانہ نے منصور سے ، انھوں نےابراہیم سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ بلا شبہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرتے تھے تو فرماتے : " تکلیف دور کردے ، اے سب لوگوں کے پالنے والے!اس کو شفا عطا کر ، تو شفا دینے والا ہے ، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ، ایسی شفا ( دے ) جو ( ذرہ برابر ) بیماری کو نہ چھوڑے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے منصور سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو ضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لاتے تواس کے لئے دعا فرماتے ہوئے کہتے : " تکلیف دور کردے ، اے سب انسانوں کے پالنے والے! اور شفا عطا کرتو ہی شفا دینے والا ہے ، شفا عطا کر ، تیری شفا کے سوا ( کہیں ) کوئی شفا نہیں ، ایسی شفا سے جو بیماری کو ( باقی ) نہ چھوڑے ۔ " ابوبکر ( ابن ابی شیبہ ) کی روایت میں ہے : آپ اس کے لئے دعا فرماتے اور کہتے : " اور تو ہی شفا دینے والا ہے ۔
حدیث 5711 — صحيح مسلم 39:65
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَمُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَجَرِيرٍ .
اسرائیل نےمنصور سے ، انھوں نے ابراہیم اور مسلم بن صبیح سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جب کسی مریض کی عیادت کرتے ) تھے ( آگے ) جس طرح ابوعوانہ اور جریر کی حدیث میں ہے ۔
ابن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دم کرتے تھے : " تکلیف دور فرمادے ، اے سب انسانوں کے پالنے والے!شفا تیرے ہی ہاتھ میں ہے ، تیرے سوا اس تکلیف کو دور کرنے والا اور کوئی نہیں ۔