قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 5924 — صحيح مسلم 42:28
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي ‏"‏ ‏.‏
زکریا بن اسحاق نے کہا : مجھے ابو زبیر نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے نیند میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھی کو دیکھا کیونکہ شیطان کے بس میں نہیں کہ وہ میری مشابہت اختیار کرسکے ۔
حدیث 5925 — صحيح مسلم 42:29
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ لأَعْرَابِيٍّ جَاءَهُ فَقَالَ إِنِّي حَلَمْتُ أَنَّ رَأْسِي قُطِعَ فَأَنَا أَتَّبِعُهُ فَزَجَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏ "‏ لاَ تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ ‏"‏ ‏.‏
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ اعرابی ( بدوی ) نے ، جو آپ کے پاس آیا تھا ، آپ سے عرض کی : میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سرکٹ گیا ہے اور میں اس کے پیچھے بھاگ رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اورفرمایا : " نیند کے عالم میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کے بارے میں کسی کو مت بتاؤ ۔
حدیث 5926 — صحيح مسلم 42:30
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي ضُرِبَ فَتَدَحْرَجَ فَاشْتَدَدْتُ عَلَى أَثَرِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلأَعْرَابِيِّ ‏"‏ لاَ تُحَدِّثِ النَّاسَ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي مَنَامِكَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعْدُ يَخْطُبُ فَقَالَ ‏"‏ لاَ يُحَدِّثَنَّ أَحَدُكُمْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي مَنَامِهِ ‏"‏ ‏.‏
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سر کو تلوار کا نشان بنایا گیا ، وہ لڑکھتا ہواجارہا ہے اور میں اس کے پیچھے د وڑ رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی سے فرمایا : "" نیند کی حالت میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے وہ لوگوں کو نہ بتاؤ ۔ "" ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" خواب میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے تم میں سے کوئی اس کے بارے میں لوگوں کے ساتھ باتیں نہ کرے ۔
حدیث 5927 — صحيح مسلم 42:31
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي قُطِعَ ‏.‏ قَالَ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ فَلاَ يُحَدِّثْ بِهِ النَّاسَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ ‏"‏ إِذَا لُعِبَ بِأَحَدِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّيْطَانَ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نےحضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں د یکھا کہ میر اسر کاٹ دیا گیا ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا؛ " جب خواب میں شیطان تم میں سے کسی کے ساتھ چھیڑ خوانی کرے تو وہ لوگوں کو نہ بتاتا پھرے ۔ " ابو بکر کی روایت میں ہے : " جب تم میں سے کسی کے ساتھ چھیڑ خوانی کی جائے ۔ " اور انھوں نے شیطان کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 5928 — صحيح مسلم 42:32
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلاً مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلاَ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَلأَعْبُرَنَّهَا ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اعْبُرْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الإِسْلاَمِ وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَالْقُرْآنُ حَلاَوَتُهُ وَلِينُهُ وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ ‏.‏ فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ قَالَ ‏"‏ لاَ تُقْسِمْ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن حرب نے یونس زبیدی سے روایت کی ، انھوں نےکہا : مجھے زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے خبر دی کہ ابن عباس یا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور ابن وہب نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے یونس ( زبید ) نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے انھیں بغیر شک کےبتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ بادل کے ٹکڑے سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے ، لوگ اس کو اپنے لپوں سے لیتے ہیں کوئی زیادہ لیتا ہے اور کوئی کم ۔ اور میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین تک ایک رسی لٹکی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پکڑ کر اوپر چڑھ گئے ۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اس کو تھاما ، وہ بھی چڑھ گیا ۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما وہ بھی چڑھ گیا ۔ پھر ایک اور شخص نے تھاما تو وہ ٹوٹ گئی ، پھر جڑ گئی اور وہ بھی اوپر چلا گیا ۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ آپ پر قربان ہو مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا بیان کر ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ بادل کا ٹکڑا تو اسلام ہے اور گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت اور نرمی مراد ہے اور لوگ جو زیادہ اور کم لیتے ہیں وہ بھی بعضوں کو بہت قرآن یاد ہے اور بعضوں کو کم اور وہ رسی جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہے وہ دین حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ پھر اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی دین پر اپنے پاس بلا لے گا آپ کے بعد ایک اور شخص ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ) اس کو تھامے گا وہ بھی اسی طرح چڑھا جائے گا پھر اور ایک شخص تھامے گا اور اس کا بھی یہی حال ہو گا ۔ پھر ایک اور شخص تھامے گا تو کچھ خلل پڑے گا لیکن وہ خلل آخر مٹ جائے گا اور وہ بھی چڑھ جائے گا ۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھ سے بیان فرمائیے کہ میں نے ٹھیک تعبیر بیان کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے کچھ ٹھیک کہا کچھ غلط کہا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم یا رسول اللہ! آپ بیان کیجئے کہ میں نے کیا غلطی کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم مت کھا ۔
حدیث 5929 — صحيح مسلم 42:33
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مُنْصَرَفَهُ مِنْ أُحُدٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ ‏.‏
سفیان نے زہری سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : احد سے واپسی پر ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورکہا : اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آج رات خواب میں بادل کے ایک ٹکڑے کو سایہ فگن دیکھا ہے جو شہد اور گھی ٹپکا رہا تھا ، یونس کی حدیث کے مفہوم کے مطابق ( حدیث بیان کی ۔)
حدیث 5930 — صحيح مسلم 42:34
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَانَ مَعْمَرٌ أَحْيَانًا يَقُولُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَحْيَانًا يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ ظُلَّةً ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ ‏.‏
عبدالرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی انھوں نےعبیداللہ بن عبداللہ سے بن عتبہ سے ( آگے ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، عبدالرزاق نے کہا کہ معمر کبھی کہتے تھے : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور کبھی کہتے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : میں نے آج رات ایک بادل کو سایہ فگن دیکھا ہے ۔ ان سب کی بیان کردہ حدیث کے مفہوم کے مطابق ۔
حدیث 5931 — صحيح مسلم 42:35
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ كَثِيرٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ مِمَّا يَقُولُ لأَصْحَابِهِ ‏ "‏ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا فَلْيَقُصَّهَا أَعْبُرْهَا لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ ظُلَّةً ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
سلمان بن کثیر نے زہری سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے یہ فرمایا کرتے تھے : " تم میں سے جس شخص نے خواب دیکھا ہے ، وہ بیان کرے ، میں اس کی تعبیر بتاؤں گا ۔ " کہا : تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے ایک بادل کو سایہ فگن دیکھا ۔ جس طرح ان سب ( بیان کرنے والوں ) کی حدیث ہے ۔
حدیث 5932 — صحيح مسلم 42:36
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رَأَيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ فَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ فَأَوَّلْتُ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الآخِرَةِ وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ ‏"‏ ‏.‏
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے ایک رات کو نیند کی حالت میں دیکھنے والے کی طرح ( خواب ) دیکھا کہ جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں ، پس ہمارے آگے تر کھجوریں لائی گئیں ، جس کو ابن طاب کی کھجور کا نام دیا جاتا ہے ۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ ہمارا درجہ دنیا میں بلند ہو گا ، آخرت میں نیک انجام ہو گا اور یقیناً ہمارا دین بہتر اور عمدہ ہے ۔
حدیث 5933 — صحيح مسلم 42:37
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَذَبَنِي رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لِي كَبِّرْ ‏.‏ فَدَفَعْتُهُ إِلَى الأَكْبَرِ ‏"‏ ‏.‏
صخر بن جویریہ نے ہمیں نافع سے حدیث سنائی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے خواب میں خودکو دیکھا کہ میں ایک مسواک سے دانت صاف کررہا ہوں ، اس و قت دو آدمیوں نے ( مسواک حاصل کرنے کےلیے ) میری توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ۔ ان میں ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے وہ مسواک چھوٹے کو دے دی ، پھر مجھ سے کہا گیا : بڑے کو دین تو میں نے وہ بڑے کو دی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔