ایوب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تمھا رے آگے ( جس منزل کی طرف تم جا رہے ہو ) حوض ہے اس کے دو کناروں کے درمیان جرباء اور اذرح ( شام اور فلسطین کے دو مقام ) کے درمیان جتنا فاصلہ ہے ۔
زہیر بن حرب محمد بن مثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے کہا : ہمیں یحییٰ قطان نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " تمھا رے آگے حوض ہے ( اس کی وسعت اتنی ہے جتنا ) جرباء اور اذرح کے درمیان کا فاصلہ ہے ۔ " اور ابن مثنیٰ کی روایت میں " میرا حوض " کے الفا ظ ہیں ۔
عبد اللہ بن نمیر اور محمد بن بشر نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت کی اور مزید بیان کیا کہ عبید اللہ نے کہا : میں نے ان ( نافع ) سے پو چھا تو انھوں نے کہا : شام کی دوبستیاں ہیں ان کے درمیان تین راتوں کی مسافت ہے ۔ ابن بشر کی روایت میں تین دن ( کا ذکر ) ہے ۔
حدیث 5987 — صحيح مسلم 43:48
وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ .
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عبیداللہ کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
عمر بن نافع سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : " تمھا رے سامنے ایسا حوض ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان کی مسافت ہے اس میں آسمان کے ستاروں جتنے کو زے ہیں جو اس تک پہنچے گا اور اس میں سے پیے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔
عبد اللہ بن صامت نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : میں نے پو چھا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !حوض کے برتن کیسے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے!اس حوض کے برتن آسمان کے چھوٹے اور بڑے ( تمام ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ۔ یاد رکھو!جو اندھیری صاف مطلع کی رات میں ہو تے ہیں وہ جنت کے برتن ہیں کہ جوان سے ( شراب کو ثر ) پی لے گا وہ اپنے ذمے ( جنت میں جا نے کے دورانیے ) کے اخر تک کبھی پیا سا نہیں ہو گا ۔ اس میں جنت ( کی باران رحمت ) کے دو پر نالے آکر گرتے ہیں جو اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبا ئی کے برابر ہے جیسے عمان سے ایلہ تک ( کا فاصلہ ) ہے ۔ اس کا پا نی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ۔
ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انھوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے ، انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں اپنے حوض پر پینے کی جگہ سے اہل یمن ( انصاراصلاًیمن سے تھے ) کے لیے لو گوں کو ہٹاؤں گا ۔ میں ( اپنے حوض کے پانی پر ) اپنی لا ٹھی ماروں گا تو وہ ان پر بہنے لگے گا ۔ " آپ سے اس ( حوض ) کی چوڑائی کے بارے میں پو چھا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میرے کھڑے ہو نے کی ( اس ) جگہ سے عمان تک ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ( حوض ) کے مشروب کے بارے میں پو چھا گیا تو فرما یا : " وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جنت سے دو پر نالے اس میں تیز سے شامل ہو کر اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں ۔ ان میں سے ایک پرنالہ سونے کا ہے اور ایک چاندی کا ۔
ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انھوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے ، انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں اپنے حوض پر پینے کی جگہ سے اہل یمن ( انصاراصلاًیمن سے تھے ) کے لیے لو گوں کو ہٹاؤں گا ۔ میں ( اپنے حوض کے پانی پر ) اپنی لا ٹھی ماروں گا تو وہ ان پر بہنے لگے گا ۔ " آپ سے اس ( حوض ) کی چوڑائی کے بارے میں پو چھا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میرے کھڑے ہو نے کی ( اس ) جگہ سے عمان تک ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ( حوض ) کے مشروب کے بارے میں پو چھا گیا تو فرما یا : " وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جنت سے دو پر نالے اس میں تیز سے شامل ہو کر اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں ۔ ان میں سے ایک پرنالہ سونے کا ہے اور ایک چاندی کا ۔
محمد بن بشار نے کہا : ہمیں یحییٰ بن حماد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انھوں نے معدان سے ، انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کی حدیث روایت کی ، میں نے یحییٰ بن حماد سےکہا : یہ حدیث آپ نے ابو عوانہ سے سنی ہے؟ تو انھوں نے کہا : اور شعبہ سے بھی سنی ہے ۔ میں نے کہا : میری خاطر اس میں نگاہ ( بھی ) ڈالیں ۔ ( آپ کے صحیفے میں جہا ں لکھی ہو ئی ہے اسے بھی پڑھ لیں ) انھوں نے میری خاطر اس میں نظر کی ( اسے پڑھا ) اور مجھے وہ حدیث بیان کی ، ( ان کی روایت میں کسی بھول چوک کا بھی امکا ن نہیں ۔)
حدیث 5993 — صحيح مسلم 43:53
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لأَذُودَنَّ عَنْ حَوْضِي رِجَالاً كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الإِبِلِ " .
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں حوض سے لوگوں کو اس طرح ہٹاؤں گا جس طرح اجنبی اونٹوں کو ( اپنے گھاٹ سے ) ہٹا یا جا تا ہے ۔