حماد بن سلمہ نے عمار بن ابی عمار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پندرہ برس تک آواز سنتے تھے اور روشنی دیکھتے تھے سات برس تک ، لیکن کوئی صورت نہیں دیکھتے تھے پھر آٹھ برس تک وحی آیا کرتی تھی اور دس برس تک مدینہ میں رہے ۔
سفیان بن عیینہ نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے محمد جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ( مٹانے والا ) ہوں ، میرے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کفر مٹادے گا ، میں حاشر ( جمع کرنے والا ) ہوں ، لوگوں کو میرے پیچھے حشر کے میدان میں لایاجائےگا اور میں عاقب ( آخر میں آنے والا ) ہوں اور عاقب وہ ہوتاہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ۔
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے محمد جبیر بن معطم سے ، انھوں نے ا پنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے کئی نام ہیں ، میں محمد ، احمد اور ماحی یعنی میری وجہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا ۔ اور میں حاشر ہوں ، لوگ میرے پاس قیامت کے دن شفاعت کے لئے اکٹھے ہوں گے ۔ اور میں عاقب ہوں ، یعنی میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رؤف اور رحیم رکھا ( بہت نرم اور بہت مہربان ) ( صلی اللہ علیہ وسلم)
عقیل ، معمر اور شعیب ، سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، شعیب اور معمر کی حدیث میں ( حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ) یہ الفاظ ( منقول ) ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ معمرکی حدیث میں ہے ، کہا : میں نے زہری سے کہا : عاقب ( سے مراد ) کیا ہے؟انھوں نے کہا : جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ، معمر اورعقیل کی حدیث میں ہے : کافروں کو ( مٹادے گا ) اورشعیب کی حدیث میں ہے : کفر کو ( مٹادے گا ۔)
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کئی نام ہم سے بیان کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور احمد اور مقفی ( آخر میں آنے والا ہوں ) اور حاشر اور نبی التوبہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے کثیر خلقت توبہ کرے گی ) اور نبی الرحمۃ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے انسان بہت سی نعمتوں سے نوازے جائیں گے ۔)
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو ضحیٰ ( مسلم ) سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کی اجازت عطا فرمائی آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں بعض کو یہ خبر پہنچی ، انھوں نے گویا کہ اس ( رخصت اور اجازت ) کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا ۔ ؛ " ان لوگوں کا کیاحال ہے کہ جن کو خبر ملی کہ میں نے ایک کام کی اجازت دی ہے تو انھوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا ۔ اللہ کی قسم!میں ان سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں اوراس ( اللہ ) کی خشیت میں ان سب سےبڑھ کر ہوں ۔
حفص بن غیاث اورعیسیٰ بن یونس دونوں نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند ہمیں حدیث بیان کی ۔
حدیث 6111 — صحيح مسلم 43:169
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً " .
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ( ابوضحیٰ ) مسلم سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام میں رخصت روا رکھی ۔ لوگوں میں سے کچھ نے خود کوایسا کرنے سے زیادہ پاکباز خیال کیا ۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کومعلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سےظاہر ہوا ۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام میں مجھے رخصت دی گئی ہے اس سے احتراز کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں تو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔
حدیث 6112 — صحيح مسلم 43:170
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ سَرِّحِ الْمَاءَ . يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِمْ فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلزُّبَيْرِ " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ " . فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ " . فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي لأَحْسِبُ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ { فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا}
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث سنائی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حرہ میں واقع پانی کی ان گزرگاہوں ( برساتی نالیوں ) کے بارے میں حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جھگڑا کیا جن سے وہ کھجوروں کو سیراب کرتے تھے ۔ انصاری کہتا تھا : پانی کو کھلا چھوڑ دو وہ آگے کی طرف گزر جائے ، انھوں نے ان لوگوں کی بات ماننے سے انکار کردیا ۔ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کونرمی کی تلقین کرتے ہوئے ان ) سے کہا : " تم ( جلدی سے اپنے باغ کو ) پلاکر پانی اپنے ہمسائے کی طرف روانہ کردو ۔ " انصاری غضبناک ہوگیا اورکہنے لگا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس لئے کہ وہ آپ کا پھوپھی زاد ہے ۔ ( صدمے سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کارنگ بدل گیا ، پھر آپ نے فرمایا : " زبیر! ( باغ کو ) پانی دو ، پھر اتنی دیر پانی کو روکو کہ وہ کھجوروں کے گرد کھودے گڑھے کی منڈیر سے ٹکرانے لگے " زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : اللہ کی قسم! میں یقیناً یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آیت : " نہیں!آپ کےرب کی قسم !وہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے " اسی ( واقعے ) کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی ، ان دونوں نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہو ئے سنا ، "" میں جس کام سے تمھیں روکوں اس سے اجتناب کرو اور جس کا م کا حکم دوں ، اپنی استطاعت کے مطا بق اس کو کرو ، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو سوالات کی کثرت اور اپنے انبیاء علیہ السلام سے اختلا ف نے ہلا ک کردیا ۔