قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 6134 — صحيح مسلم 43:192
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ ‏"‏ يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسَّةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ ‏"‏ مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ ‏"‏ ‏.‏
معمر اور شعیب نے زہری سے ، اسی سند کے ساتھ خبر دی ، دونوں نے کہا : " ( بچہ ) جب پیدا ہو تا ہے تو ( شیطان ) اسے کچوکا لگا تا ہے اور وہ خود کو شیطان کے کچوکا لگا نے سے چیخ کر روتا ہے ۔ " اور شعیب کی حدیث میں ( خود کو ، کے بغیر صرف ) " شیطان کے کچوکا سے " کے الفا ظ ہیں ۔
حدیث 6135 — صحيح مسلم 43:193
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، سُلَيْمًا مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ كُلُّ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ إِلاَّ مَرْيَمَ وَابْنَهَا ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سلیم نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " آدم کے ہر بیٹے کو جب اس کی ماں اسے جنم دیتی ہے ۔ شیطان کچوکا لگا تا ہے ، ماسوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) کے ۔
حدیث 6136 — صحيح مسلم 43:194
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ‏"‏ ‏.‏
سہیل ( بن ابی صالح ) کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ولادت کے وقت بچے کا رونا شیطا ن کے کچوکےسے ہو تا ہے ۔
حدیث 6137 — صحيح مسلم 43:195
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلاً يَسْرِقُ فَقَالَ لَهُ عِيسَى سَرَقْتَ قَالَ كَلاَّ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ ‏.‏ فَقَالَ عِيسَى آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ نَفْسِي ‏"‏ ‏.‏
۔ معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہو ئے دیکھا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا : تم نے چوری کی؟ اس نے کہا : ہر ز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کو ئی معبود نہیں !تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فر ما یا : میں اللہ پر ایمان لا یا اور اپنے آپ کو جھٹلا یا ۔
حدیث 6138 — صحيح مسلم 43:196
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ، فُضَيْلٍ عَنِ الْمُخْتَارِ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ، بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏
علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا : " يا خَيرَ البرِيّة ِ " اے مخلوقات میں سے بہترین انسان ! " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ " ( یعنی یہ ان کا لقب ہے ۔)
حدیث 6139 — صحيح مسلم 43:197
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ مُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
ابن ادریس نے کہا : میں نے عمرو بن حریث کے آزاد کردہ غلام مختار بن فلفل سے سنا ، انھوں نے کہامیں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اسی ( پچھلی حدیث ) کے مانند ۔
حدیث 6140 — صحيح مسلم 43:198
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْمُخْتَارِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
سفیان نے مختار سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہو ئے سنا ، اسی کے مانند ۔
حدیث 6141 — صحيح مسلم 43:199
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نبی علیہ السلام نے اَسی سا ل کی عمر میں قدوم ( مقام پر تیشے یا بسولے کے ذریعے ) سے ختنہ کیا ۔
حدیث 6142 — صحيح مسلم 43:201
وَحَدَّثَنَاهُ إِنْ، شَاءَ اللَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏
یو نس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی نسبت شک کرنے کے زیادہ حق دار تھےجب انھوں نے کہا تھا : اے میرے رب! مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے ۔ اللہ نے ان سے پو چھا : کیا آپ کو یقین نہیں ؟تو انھوں نے کہا : کیوں نہیں ! مگر صرف اس لیے ( دیکھنا چاہتا ہوں ) کہ میرے دل کو مزید اطمینان ہو جا ئے ۔ اور اللہ تعا لیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم کرے !وہ ایک مضبوط سہارے کی پناہ لیتے تھے ۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنا لمبا عرصہ رہتا جتنا عرصہ حضرت یو سف علیہ السلام رہے تو میں بلا نے والے کی بات مان لیتا ( بلاوا ملتے ہی جیل سے باہر آجا تا ۔)
حدیث 6143 — صحيح مسلم 43:202
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ‏"‏ ‏.‏
امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ سعید بن مسیب اور ابو عبید نے انھیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یو نس کی زہری سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ،
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔