قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 954 — صحيح مسلم 4:116
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالاً مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُسَبِّحُونَ وَيُشِيرُونَ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو سلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی ، نیز ہارون بن معروف اور حرملہ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے بتایا ، انہوں نے کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ ( امام و متنبہ کرنے کا طریقہ ) مردوں کے لیے تسبیح ( سبحان اللہ کہنا ) ہے اور عورتوں کے ہاتھ پر ہاتھ مارنا ہے ۔ ‘ ‘ حرملہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا : میں نے علم والے لوگوں کو دیکھا ، وہ تسبیح کہتے تھے او ر اشارہ کرتے تھے
حدیث 955 — صحيح مسلم 4:117
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( سابقہ روایت ) کے مانند روایت بیان کی ہے ۔
حدیث 956 — صحيح مسلم 4:118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ وَزَادَ ‏ "‏ فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
ہمام نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( مذکورہ بالا حدیث ) کے مانند روایت بیان کی اور اس میں اضافہ کیا : ’’نماز میں ( متنبہ کرنے کے لیے ۔ ) ‘ ‘
حدیث 957 — صحيح مسلم 4:119
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ، - يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ - حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ ‏ "‏ يَا فُلاَنُ أَلاَ تُحْسِنُ صَلاَتَكَ أَلاَ يَنْظُرُ الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّى كَيْفَ يُصَلِّي فَإِنَّمَا يُصَلِّي لِنَفْسِهِ إِنِّي وَاللَّهِ لأُبْصِرُ مَنْ وَرَائِي كَمَا أُبْصِرُ مَنْ بَيْنَ يَدَىَّ ‏"‏ ‏.‏
سعید کے والد ابو سعید مقبری نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہﷺ نے ( ہمیں ) نماز پڑھائی ، پھر سلام پھیرا اور فرمایا : ’’اے فلاں! تم اپنی نماز اچھی طرح نہیں پڑھ سکتے؟ کیا نمازی نماز پڑھتے وقت یہ نہیں دیکھتا ( غور کرتا ) کہ وہ نماز کیسے پڑھتا ہے؟ وہ اپنے ہی لیے نماز پڑھتا ہے ( کسی دوسرے کےلیے نہیں ۔ ) اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہون جس طرح سامنے دیکھتا ہوں
حدیث 958 — صحيح مسلم 4:120
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَىَّ رُكُوعُكُمْ وَلاَ سُجُودُكُمْ إِنِّي لأَرَاكُمْ وَرَاءَ ظَهْرِي ‏"‏ ‏.‏
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا رخ ادھر ( سامنے ) ہی ہے؟ اللہ کی قسم! مجھ پر نہ تمہارا رکوع مخفی ہے اور نہ تمہارا سجدہ ، یقینا میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
حدیث 959 — صحيح مسلم 4:121
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَقِيمُوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي - وَرُبَّمَا قَالَ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي - إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
۔ شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کر رہے تھے کہ نبیﷺ نے فرمایا : ’’ رکوع اور سجدہ پوری طرح کیا کرو ، اللہ کی قسم! میں تمہیں اپنے پیچھے ( بھی ) دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ ( بلکہ ) غالباً آپ نے اس طرح فرمایا : ’’ جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تو میں تمہیں اپنی پیٹھ پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
حدیث 960 — صحيح مسلم 4:122
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ ‏"‏ إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
قتادہ سے ( شعبہ کے بجائے دستوائی والے ) ہشام اور سعید نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ رکوع اور سجدہ کو مکمل کرو ، اللہ کی قسم! جب بھی تم رکوع کرتے ہو اور جب بھی تم سجدہ کرتے ہو تو میں اپنی پیٹھ پیچھے تمہیں دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ اور سعید کی روایت میں ( إذا ما ركعتم وإذا ما سجدتم کے بجائے ) إذا ركعتم وسجدتم ’’جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو ۔ ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔ یعنی سعید کی روایت میں اذا کے بعد دونوں جگہ ما کا لفظ نہیں ہے ۔
حدیث 961 — صحيح مسلم 4:123
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ، لأَبِي بَكْرٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلاَ تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلاَ بِالسُّجُودِ وَلاَ بِالْقِيَامِ وَلاَ بِالاِنْصِرَافِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي - ثُمَّ قَالَ - وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ‏"‏ ‏.‏
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھانے کے فوراً ہی بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”لوگو! میں تمہارا امام ہوں۔ اس لئے مجھ سے پہلے رکوع، سجدہ، قومہ اور سلام نہ پھیرو۔ میں آگے اور پیچھے سے تم کو دیکھتا ہوں۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو چیزیں میں دیکھتا ہوں اگر تم انہیں دیکھ لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ“، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ ارشاد ہوا ”میں نے جنت اور دوزخ دیکھی ہے۔“
حدیث 962 — صحيح مسلم 4:124
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، جَمِيعًا عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ‏ "‏ وَلاَ بِالاِنْصِرَافِ ‏"‏ ‏.‏
۔ ( علی بن مسہر کے بجائے ) جریر اور ابن فضیل دونوں نے اپنی اپنی سند سے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی اور انہوں نے نبیﷺ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ، جریر کی حدیث میں ’’نہ سلام پھیرنے میں ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ۔
حدیث 963 — صحيح مسلم 4:125
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ ‏"‏ ‏.‏
۔ حماد بن زید نے محمد بن زیاد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث سنائی کہ محمدﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص امام سے پہلے ( رکوع وسجود سے ) سر اٹھاتا ہے کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سرکو گدھے کے سر جیسا بنا دے؟ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔