حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ، رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ " . فَقَالَ ابْنٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ وَاقِدٌ إِذًا يَتَّخِذْنَهُ دَغَلاً . قَالَ فَضَرَبَ فِي صَدْرِهِ وَقَالَ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَقُولُ لاَ .
(اعمش کے بجائے ) عمرو ( بن دینار جحمی ) نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’عورتوں کو رات کے وقت مسجدوں کی طرف نکلنے کی اجازت دو ۔ ‘ ‘ تو ان کے بیٹے نے ، جس کو واقد کہا جاتا تھا ، کہا : تب وہ اس کو خرابی و بگاڑ بنا لیں گی ۔ ( مجاہد نے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے سینے پر مارا اور کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تو کہتا ہے : نہیں
حدیث 995 — صحيح مسلم 4:157
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ - حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنُوكُمْ " فَقَالَ بِلاَلٌ وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ . فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَقُولُ أَنْتَ لَنَمْنَعُهُنَّ .
(خود ) بلال بن عبد اللہ بن عمر نے اپنے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ عورتوں کو ، جب وہ تم سے اجازت طلب کریں تو مسجدوں میں جو ان کے حصے ہیں ان ( کے حصول ) سے ( انہیں ) نہ روکو ۔ ‘ ‘ بلال نے کہا : اللہ کی قسم! ہم ان کو ضرور روکیں گے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اور تو کہتا ہے : ہم انہیں ضرور روکیں گے
مخرمہ نے اپنے والد ( بکیر ) سے ، انہوں نے بسر بن سعید روایت کی کہ حضرت زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہما رسول اللہﷺ سے ( یہ ) حدیث بیان کرتی تھیں ، آپ نے فرمایا : ’’ جب تم عورتوں میں سے کوئی عشا کی نماز میں شامل ہو تو وہ اس رات خوشبو نہ لگائے ۔ ‘ ‘
(مخرمہ کے بجائے ) محمد بن عجلان نے بکیر بن عبد اللہ بن اشج سے ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا : ’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو وہ خوشبو کو ہاتھ نہ لگائے ۔ ‘ ‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جس عورت کو ( بخور ) خوشبودار دھواں لگ جائے ، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضر نہ ہو ۔ ‘ ‘
حدیث 999 — صحيح مسلم 4:161
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ . قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ أَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ قَالَتْ نَعَمْ .
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے اور انہوں نے عمرہ بنت عبد الرحمان سے روایت کی کہ انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ فرماتی تھیں کہ عورتوں نے ( بناؤ سنگھار کے ) جو نئے انداز نکال لیے ہیں اگر رسول اللہﷺ دیکھ لیتے تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے ، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ میں نے عمرہ سے پوچھا : کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔
(سلیمان بن بلال کے بجائے ) عبد الوہاب ثقفی ، سفیان بن عیینہ ، ابو خالد احمر اورعیسیٰ بن یونس سبھی نے یحییٰ بن سعید سے ( باقی ماندہ ) اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث روایت کی ہے
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها﴾ ’’ اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ اسے پست کریں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی ، انہوں نے کہا : یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہﷺ مکہ میں پوشیدہ ( عبادت کرتے ) تھے ۔ جب آپ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تو قراءت بلند آواز سے کرتے تھے ، مشرک جب یہ قراءت سنتے تو قرآن کو ، اس کے نازل کرنے والے کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو ہدایت کی : ’’ اپنی نماز میں ( آواز کو اس قدر ) بلند نہ کریں ‘ ‘ کہ آپ کی قراءت مشرکوں کو سنائی دے ’’ اور نہ اس ( کی آواز ) کو پست کریں ‘ ‘ اپنے ساتھیوں سے ، انہیں قرآن سنائیں اور آواز اتنی زیاد اونچی نہ کریں ’’اور ان ( دونوں ) کے درمیان کی راہ اختیار کریں ۔ ‘ ‘ ( اللہ تعالیٰ ) فرماتا ہے : بلند اور آہستہ کے درمیان ( میں رہیں ۔)
یحییٰ بن زکریا نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اسی فرمان : ’’ نہ اپنی نماز میں ( قراءت ) بلند کریں اور نہ آہستہ ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی کہ انہوں نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا کہ یہ آیت دعا کے بارے میں اتری ہے ۔