محارب بن دثار نے کہا کہ میں نے عبد اللہ بن یزید کو منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : براء رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ وہ لوگ ( صحابہ کرام ) رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، جب آپ رکوع میں چلے جاتے تو وہ رکوع کرتے اور جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو آپ سمع الله لمن حمده کہتے ، ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم آپ کو دیکھتے کہ آپ نے اپنا چہرہ مبارک زمین پر رکھ دیا ہے ، پھر ہم آپ کی پیروی کرتے ( سجدے میں جاتے ۔)
۔ زہیر بن حرب اور ابن نمیر نے کہا : ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابان وغیرہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم ( نماز میں ) نبی اکرمﷺ کے ساتھ ہوتے ، ہم میں سے کوئی ایک بھی اپنی پشت نہ جھکاتا یہاں تک کہ ہم آپ کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں جا چکے ہیں ۔
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو میں نے آپ کو ﴿فلا أقسم بالخنس0 الجوار الكنس﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ، سیدھے چلنے ، دبک جانے والے ( ستاروں ) کی ‘ ‘ پڑھتے ہوئے سنا اور ہم میں سے کوئی آدمی اپنی پشت نہیں جھکاتا تھا حتیٰ کہ آپ پوری طرح سجدے میں چلے جاتے تھے ۔
اعمش نے عبید بن حسن سے اور انہوں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺجب رکوع سے اپنی پشت اٹھاتے تو کہتے ، ’’ اللہ نے سن لی جس نے اس کی حمد کی ، اے اللہ ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف وتوصیف ہے آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ ‘ ‘
شعبہ نے عبیدبن حسن سے انہوں نے عبد اللہ بن اوفیٰ سے روایت ےکی ہے انہوں نے کہا رسو ل اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کیا کرتے تھے’’اے اللہ ہمارے رب تیر ی ہی تعریف ہےآسمان اور زمین تک اور اس علاوہ جہاں تک تو چاہے اس چیز کی وسعت تک ۔
محمد بن جعفر نے شعبہ سے ، انہوں نے مجزاہ بن زاہر سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرمﷺ سے بیان کر رہے تھے کہ آپ فرمایا کرتے تھے : ’’اے اللہ! تیرے لیے ہے حمد آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ اے اللہ! مجھے پاک کر دے برف کے ساتھ ، اولوں کے ساتھ اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ ۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری اور یزید بن ہارون دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔ معاذ کی روایت میں ( من الوسخ کے بجائے ) من الدرن اور یزید کی روایت میں من الدنس کے الفاظ ہیں ( تینوں لفظوں کے معنیٰ ایک ہی ہیں ۔)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے : ’’اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف ہے آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ ثنا اورعظمت کے حق دار! ( یہی ) صحیح ترین بات ہے جو بندہ کہہ سکتا ہے اور ہم سب تیری ہی بندے ہیں ۔ اے اللہ! جو کچھ تو عنایت فرمانا چاہے ، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سےتو محروم کر دے ، وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ ہی کسی مرتبہ والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘
۔ ہشیم نے بشیر نے بیان کیا : ہمیں ہشام بن حسان نے قیس بن سعد سے خبر دی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے : ’’اے اللہ ، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے آسمان اور زمین بھر اور ان دونوں کے درمیان کی وسعت بھر اور ان کی بعد جو تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ اے تعریف اور بزرگی کے سزاوار! جو توعنایت فرمائے اسے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے تو محروم کر دے وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘
حفص نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام بن حسان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبیﷺ سے ان الفاظ تک روایت کی : ’’اور ان کے بعد جو تو چاہے اس کی وعست بھر ۔ ‘ انہوں ( حفص ) نے آگے کا حصہ بیان نہیں کیا ۔