ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ سجدے میں کہا کرتے تھے : ’’ اللہ! میرے سارے گناہ بخش دے ، چھوٹے بھی اور بڑے بھی ، پہلے بھی اور پچھلے بھی ، کھلے بھی اور چھپے بھی ۔ ‘ ‘
منصور نے ابو ضحیٰ ( مسلم بن صبیح القرشی ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : : رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں بکثرت ( یہ کلمات ) کہا کرتے تھے : ’’تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے میرے اللہ! ہمارے رب! تیری حمد کے ساتھ ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے ۔ ‘ ‘ آپ ( یہ کلمات ) قرآن مجید کی تاویل ( حکم کی تعمیل ) کے طور پر فرمایا کرتے تھے ۔
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسلم ( بن صبیح سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول لالہﷺ وفات سے پہلے بکثرت یہ فرماتے تھے : ’’ ( اے اللہ! ) میں تیری حمد ے ساتھ تیری ستائش کرتاہوں ، تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! یہ کلمے کیا ہیں جو میں دیکھتی ہوں کہ آپ نے اب کہنے شروع کر دیے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’میرے لیے میری امت میں ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں اسے دیکھ لوں تو یہ ( کلمے ) کہوں : ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے .... ) ‘ ‘ سورت کے آخر تک
مفضل نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کےساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب سے آپ پر ﴿إذا جاء نصر الله والفتح﴾ اتری ، اس وقت سے میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ نے جو بھی نماز پڑھی اس میں یہ دعا مانگی یا یہ کہا : ’’اے میرے رب! میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں تیری حمد کے ساتھ ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے ۔ ‘ ‘
عامر ( شعبی ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے : ’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا : ’’میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں توبکثرت کہوں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه تو ( وہ نشانی ) میں دیکھ چکا ہوں ۔ ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ‘ ‘ ( یعنی ) فتح مکہ ’’ اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کریں اور اس سے بخشش طلب کریں بلاشبہ وہ توبہ قبول فرمانے والا ہے ۔ ‘ ‘
۔ ابن جریج نے کہا : میں نے عطاء سے پوچھا : آپ رکوع میں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا : جہاں تک ( دعا ) سبحانك وبحمدك ، لا إله إلا أنت ’’تو پاک ہے ( اے اللہ! ) اپنی حمد کے ساتھ ، کوئی معبود برحق نہیں تیرے سوا ‘ ‘ کا تعلق ہے تو مجھے ابن ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ایک رات میں نے نبی ﷺ کو گم پایا تو میں نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنی کسی ( اور ) بیوی کے پاس چلے گئے ہیں ، میں نے تلاش کیا ، پھر آپ رکوع یا سجدے میں تھے ، کہہ رہے تھے : سبحانك وبحمدك ، لا إله إلا أنت میں نے کہا : آپ پہ میرے ماں باپ قربان! میں ایک کیفیت میں تھی اور آپ ایک ہی کیفیت میں تھے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ایک رات رسول اللہﷺ کو بستر پر نہ پایا تو آپ کو ٹٹولنے لگی ، میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کے تلوے پر پڑا ، اس وقت آپ سجدے میں تھے ، آپ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ کہہ رہے تھے : ’’اے اللہ! میں تیری ناراضی سے تیری رضا مندی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ میں آتا ہوں ، میں تیری ثنا پوری طرح بیان نہیں کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود بیان کی ۔ ‘ ‘
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں ( یہ کلمات ) کہتے تھے : ’’نہایت پاک ہے ، مقدس ہے فرشتوں اور روح ( جبریل علیہ السلام ) کا پروردگار ۔ ‘ ‘
حدیث 1092 — صحيح مسلم 4:254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنِي هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
ہمیں ابوداؤد ( طیالسی ) نے شعبہ سے حدیث سنائی کہ قتادہ نے کہا : میں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے سنا ۔ ابوداؤد نے ( مزید ) کہا : اور ہشام نے مجھے حدیث سنائی انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے مطرف سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے یہ حدیث روایت کی ۔
۔ معدان بن ابی طلحہ یعمری نے کہا : میں رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کروں تو اللہ اس کی وجہ سے مجھے جنت میں داخل فرما دے ، یا انہوں نے کہا : میں نے پوچھا : جو عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہو ، تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار فرمائی ( اور میری بات کا کوئی جواب نہ دیا ) پھر میں نے دوبارہ ان سے سوال کیا ، انہوں نے خاموشی اختیار کر لی ، پھر میں نے ان سے تیسری دفعہ یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا : میں نے یہی سوال رسول اللہﷺ سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا : ’’تم اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے اللہ اس کے نتیجے میں تمہارا درجہ ضرور بلند کرے گا اور تمہارا کوئی گناہ معاف کر دے گا ۔ ‘ ‘ معدان نے کہا : پھر میں ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملا تو ان سے ( یہی ) سوال کیا ، انہوں نے بھی مجھ س وہی کہا جو ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ۔