حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ، عَنْ إِيَادٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ " .
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم سجدہ کرو تو اپنی ہتھیلیاں ( زمین پر ) رکھو اور اپنی کہنیاں اوپر اٹھاؤ
بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن ملک سے ، جو ابن بحینہ رضی اللہ عنہ ہیں ، روایت کی کہ رسول اللہﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح کھول دیتے ( اپنے پہلوؤں سے الگ کر لیتے تھے ) یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی ۔
حدیث 1106 — صحيح مسلم 4:268
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَجَدَ يُجَنِّحُ فِي سُجُودِهِ حَتَّى يُرَى وَضَحُ إِبْطَيْهِ . وَفِي رِوَايَةِ اللَّيْثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَجَدَ فَرَّجَ يَدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى إِنِّي لأَرَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ .
عمرو بن حارث اور لیث بن سعد دونوں نے جعفر بن ربیعہ سے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ حدیث ) بیان کی ۔ عمرو بن حارث کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ جب سجدہ فرماتے تو سجدے میں اپنے بازو ( اس طرح ) پھیلا لیتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی ۔ اور لیث کی روایت میں ہے : رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ بغلوں سے جدا ر کھتے حتیٰ کہ میں آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا ۔
سفیان بن عیینہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن اصم سے ، انہوں نے اپنے چچا یزید بن اصم سے ، انہوں نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہﷺ سجدہ کرتے توبکری کا بچہ اگر آپ کے دونوں ہاتھوں کے درمیان سے گزرنا چاہتا توگزر سکتا تھا ۔
حدیث 1108 — صحيح مسلم 4:270
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَجَدَ خَوَّى بِيَدَيْهِ - يَعْنِي جَنَّحَ - حَتَّى يُرَى وَضَحُ إِبْطَيْهِ مِنْ وَرَائِهِ وَإِذَا قَعَدَ اطْمَأَنَّ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى .
مروان بن معاویہ فزاری نے ہمیں خبر دی ، کہا : عبید اللہ بن عبد اللہ بن اصم نے یزید بن اصم سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرمﷺ کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے درمیان فاصلہ کرتے ، ان کا مطلب تھا انہیں پھیلا لیتے یہاں تک کہ پیچھے سے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی اور جب بیٹھتے تو بائیں ران پر اطیمنان سے بیٹھتے ۔
وکیع نے کہا : ہمیں جعفر بن برقان نے یزید بن اصم سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ جب سجدہ کرتے تو ( دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے ) دور رکھتے یہاں تک کہ جو آپ کے پیچھے ہوتا وہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ سکتا تھا ۔ وکیع نے کہا : ( وضح سے ) مراد بغلوں کی سفیدی ہے ۔
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو خالد احمر نے حسین معلم سے حدیث سنائی ، نیز اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ( الفاظ انہی کے ہیں ) ، ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، کہا : ہمیں حسین معلم نے حدیث بیان کی ، انہوں نے بدیل بن میسرہ سے ، انہوں نے ابو جوزاء سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نماز کا آغاز تکبیر سے اور قراءت کا آغاز ﴿الحمد لله رب العالمين﴾ سے کرتے اور جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ پشت سے اونچا کرتے اور نہ اسے نیچے کرتے بلکہ درمیان میں رکھتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سجدے میں نہ جاتے حتیٰ کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ( دوسرا ) سجدہ نہ کرتے حتیٰ کہ سیدھے بیٹھ جاتے ۔ اور ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے اور اپنا بایاں پاؤں بچھا لیتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح ( دونوں پنڈلیاں کھڑی کر کے ) پچھلے حصے پر بیٹھنے سے منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے کہ انسان اپنے بازو اس طرح بچھا دے جس طرح درندہ بچھاتا ہے ، اور نماز کا اختتام سلام سے کرتے ۔
ابو احوص نے سماک ( بن حرب ) سے ، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی اپنا سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھتا رہے اور اس سے آگے سے گزرنے والے کی پروا نہ کرے ۔ ‘ ‘
محمد بن عبد اللہ بن نمیر اور اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ، اسحاق نے کہا : ’’عمر بن عبید طنافسی نے ہمیں خبر دی ‘ ‘ اور ابن نمیر نے کہا : ’’ہمیں حدیث سنائی ‘ ‘ انہوں نے سماک سے ، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نماز پڑھ رہے ہوتے اور جاندار ہمارے سامنے گزرتے ہم نے اس کا تذکرہ رسول اللہﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کسی شخص کے آگے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے اس کا کوئی نقصان نہیں ۔ ‘ ‘ ابن نمیر نے ، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی ، کے بجائے ’’ تو جو کوئی بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے اس کا کوئی نقصان نہیں ، کے الفاظ بیان کیے ۔
۔ سعید بن ابی ایوب نے ابو اسود سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ سے نمازی کے سترے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’پالان کی پچھلی لکڑی کے مثل ہو ۔ ‘ ‘