قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 1124 — صحيح مسلم 4:286
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ، قَدْ نَاهَزْتُ الاِحْتِلاَمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَىَّ أَحَدٌ ‏.‏
مالک نے ابن شاب سے ، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں گدھی پر سوار ہو کر آیا ، ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا ، رسول اللہﷺ منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، میں صف کے سامنے سے گزرا اور اتر کر گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا تو مجھے کسی نے اس پر نہیں ٹوکا ۔
حدیث 1125 — صحيح مسلم 4:287
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يُصَلِّي بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ - قَالَ - فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ ‏.‏
۔ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ انہیں حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اللہﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، انہوں نے کہا : گدھا صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا ، پھر وہ اس سے اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں مل گئے
حدیث 1126 — صحيح مسلم 4:288
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِعَرَفَةَ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ روایت بیان کی ، کہا : نبی اکرمﷺ عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے ۔ ( ابن عباس اپنی سواری پر حج کر رہے تھے ۔ یہ واقعہ ان کے ساتھ غالبا منیٰ اور عرفہ دونوں مقامات پر پیش آیا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ کےلیے ہر جگہ سترے کا اہتمام کیا جاتا تھا ۔)
حدیث 1127 — صحيح مسلم 4:289
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مِنًى وَلاَ عَرَفَةَ وَقَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ يَوْمَ الْفَتْحِ ‏.‏
معمر نے بھی زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ہے اوراس میں منیٰ یا عرفہ کا تذکرہ کرنے کے بجائے حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے دن کا ذکر کیا ہے
حدیث 1128 — صحيح مسلم 4:290
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
عبد الرحمان بن ابی سعید نے ( اپنے والد ) حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو آگے سے نہ گزرنے دے اور جہاں تک ممکن ہو اس کو ہٹائے اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ‘ ‘ ( مقصود یہ تھا کہ لوگوں کو اس گناہ سے ہر قیمت پر بچایا جائے اور نماز کی حرمت کا اہتمام کیا جائے ۔)
حدیث 1129 — صحيح مسلم 4:291
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ابْنُ هِلاَلٍ، - يَعْنِي حُمَيْدًا - قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَصَاحِبٌ، لِي نَتَذَاكَرُ حَدِيثًا إِذْ قَالَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ أَنَا أُحَدِّثُكَ، مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَرَأَيْتُ، مِنْهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ، يُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَىْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَرَادَ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَفَعَ فِي نَحْرِهِ فَنَظَرَ فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا إِلاَّ بَيْنَ يَدَىْ أَبِي سَعِيدٍ فَعَادَ فَدَفَعَ فِي نَحْرِهِ أَشَدَّ مِنَ الدَّفْعَةِ الأُولَى فَمَثَلَ قَائِمًا فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ زَاحَمَ النَّاسَ فَخَرَجَ فَدَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ - قَالَ - وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ مَا لَكَ وَلاِبْنِ أَخِيكَ جَاءَ يَشْكُوكَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَىْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
۔ ابن ہلال ، یعنی حمید نے کہا : ایک دن میں اور میرا ایک ساتھی ایک حدیث کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے کہ ابو صالح سمان کہنے لگے : میں تمہیں حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنی اور ( ان کا عمل ) جو ان سے دیکھا ۔ کہا : ایک موقع پر ، جب میں حضرت ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کےساتھ تھا اور وہ جمعہ کے دن کسی چیز کی طرف ( رخ کر کے ) ، جو انہیں لوگوں سے ستر ہ مہیا کر رہی تھی ، نماز پڑھ رہے تھے ، اتنے میں ابو معیط کے خاندان کا ایک نوجوان آیا ، اس نے ان کے آگے سے گزرنا چاہا تو انہوں نے اسے اس کے سینے سے ( پیچھے ) دھکیلا ۔ اس نے نظر دوڑائی ، اسے ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے سامنے سے ( گزرنے ) کے سوا کوئی راستہ نہ ملا ، اس نے دوبارہ گزرنا چاہا تو انہوں نے اسے پہلی دفعہ سے زیادہ شدت کے ساتھ اس کے سینے سے پیچھے دھکیلا ، وہ سیدھا کھڑا ہو گیا اور ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو برا بھلا کہا ، پھر لوگوں کی بھیڑ میں گھستا ہوا نکل کر مروان کےسامنے پہنچ گیا اور جو ان کے ساتھ بیتی تھی اس کی شکایت کی ، کہا : ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی مروان کے پاس پہنچ گئے تو اس نے ان سے کہا : آپ کا اپنے بھتیجے کا ساتھ کیا معاملہ ہے؟ وہ آ کر آپ کی شکایت کر رہا ہے ۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جواب دیا : میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں سے کسی چیز کی اوٹ میں نماز پڑھے اور کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے اس کے سینے سے دھکیلے اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ یقیناً شیطان ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 1130 — صحيح مسلم 4:292
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ ‏"‏ ‏.‏
اسماعیل بن ابی فدیک نے ضحاک بن عثمان سے ، انہوں نے صدقہ بن یسار سے ، اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے ، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ اس کی معیت میں ( اس کا ) ہمراہی ( شیطان ) ہے ۔
حدیث 1131 — صحيح مسلم 4:293
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
۔ ( ابن ابی فدیک کے بجائے ) ابو بکر حنفی نے ضحاک بن عثمان سے اسی ( مذکورہ ) سند کےساتھ روایت کی کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا : ... آگے سابقہ حدیث کے مانند ہے
حدیث 1132 — صحيح مسلم 4:294
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لاَ أَدْرِي قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً
۔ امام مالک کے ابو نضر سے اور انہوں نے بسر بن سعید سے روایت کی کہ زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں ابو جہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں بھیجا تاکہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا تھا؟ ابو جہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کس قدر ( گناہ ) ہے تو اسے چالیس ( سال ) تک کھڑے رہنا ، اس کے آگے گزرنے سے بہتر ( معلوم ) ہو ۔ ‘ ‘ ابو نضر نے کہا : مجھے معلوم نہیں ، انہوں نے چالیس دن کہا یا ماہ یا سال ۔ ( مسند بزار میں چالیس سال کے الفاظ ہیں ۔)
حدیث 1133 — صحيح مسلم 4:295
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الأَنْصَارِيِّ مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ ‏.‏
سفیان نے ابو نضر سالم سے اور انہوں نے بسر بن سعید سے روایت کی کہ زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ( انہیں ) ابو جہیم انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس بھیجا ( تاکہ پوچھے ) کہ آپ نے نبی اکرمﷺ کو کیا فرماتے سنا .... پھر ( سفیان نے ) مالک کی روایت کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔