قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 1154 — صحيح مسلم 4:316
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي ثَوْبٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ‏.‏
حماد بن زید نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا ، آپ نے اس کے دونوں کناروں کو ادل بدل کر رکھا تھا ، یعنی دائیں کنارے کو بائیں طرف اور بائیں کنارے کو دائیں طرف لے گئے تھے
حدیث 1155 — صحيح مسلم 4:317
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ ‏.‏ زَادَ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ‏.‏
قتیبہ بن سعید اور عیسیٰ بن حماد نے کہا : ہمیں لیث نے یحییٰ بن سعید سے حدیث سنائی انہوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے اور انہوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا : آپ نے اس کو لپیٹا ہوا تھا اور اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمت میں ڈالا ہوا تھا ۔ عیسیٰ بن حماد نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے ۔
حدیث 1156 — صحيح مسلم 4:318
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ ‏.‏
۔ وکیع نے کہا : ہمیں سفیان نے ابو زبیر سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا ، آپ اس کو پٹکے کی طرح لپیٹا ہوا تھا ۔
حدیث 1157 — صحيح مسلم 4:319
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، جَمِيعًا بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
۔ محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، نیز محمد بن مثنیٰ نے عبد الرحمان سے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( ابن نمیر اور عبد الرحمان ) نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ۔ اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے ، کہا : میں رسول اللہﷺ کے ہاں حاضر ہوا ۔
حدیث 1158 — صحيح مسلم 4:320
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، رَأَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ وَعِنْدَهُ ثِيَابُهُ ‏.‏ وَقَالَ جَابِرٌ إِنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ ذَلِكَ ‏.‏
عمرو نے کہا کہ ابو زبیر مکی نے مجھے حدیث سنائی کہ انہوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا ، وہ اس کو پٹکے کی طرح لپیٹے ہوئے تھے اور ان کے پاس ان کے کپڑےموجود تھے اور جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا کہ انہوں نے رسو ل اللہﷺ کو ایسے کرتے دیکھا ہے ۔
حدیث 1159 — صحيح مسلم 4:321
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ يَسْجُدُ عَلَيْهِ - قَالَ - وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ ‏.‏
۔ عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو سفیان سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، مجھے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث سنائی کہ وہ نبی اکرمﷺ کے ہاں حاضر ہوئے ، کہا : تو میں نے آپ کو ایک چٹائی پر نماز پڑھتے دیکھا اس پر آپ سجدہ کرتے تھے اور میں نے آپ کو دیکھا آپ ایک کپڑے میں اس کو پٹکے کی طرح لپیٹ کر نماز پڑھ رہے تھے ۔
حدیث 1160 — صحيح مسلم 4:322
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ ‏.‏ وَرِوَايَةُ أَبِي بَكْرٍ وَسُوَيْدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ ‏.‏
۔ ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا ، نیز سوید بن سعید نے کہا : ہم سے علی بن مسہر نے روایت کی ، دونوں نے اعمش سے اسی طرح روایت کی ۔ ابو کریب کی روایت میں ہے : آپ نے اس کے دونوں کنارے اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے ۔ اور ابو بکر اور سوید کی روایت میں ہے : آپ اس کو پٹکے کی طرح لپیٹے ہوئے تھے ۔
حدیث 1161 — صحيح مسلم 5:1
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلُ قَالَ ‏"‏ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ الْمَسْجِدُ الأَقْصَى ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ ‏"‏ أَرْبَعُونَ سَنَةً وَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ ‏"‏ ثُمَّ حَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ فَصَلِّهْ فَإِنَّهُ مَسْجِدٌ ‏"‏ ‏.‏
ابو کامل جحدری نے کہا : ہمیں عبد الواحد نے اعمش سے حدیث بیان کی ، نیز ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کون سی مسجد جو زمین میں بنائی گئی پہلی ہے؟ آپ نے فرمایا : ’’ مسجد حرام ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سی؟ فرمایا : ’’مسجد اقصیٰ ۔ ‘ ‘ میں نے ( پھر ) پوچھا : دونوں ( کی تعمیر ) کے مابین کتنا زمانہ تھا؟ آپ نے فرمایا : ’’چالیس برس ۔ اور جہاں بھی تمہارے لیے نماز کا وقت ہو جائے ، نماز پڑھ لو ، وہی ( جگہ ) مسجد ہے ۔ ‘ ‘ ابو کامل کی حدیث میں ہے : ’’ پھر جہاں بھی تمہاری نماز کا وقت ہو جائے ، اسے پڑھ لو ، بلاشبہ وہی جگہ مسجد ہے
حدیث 1162 — صحيح مسلم 5:2
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ، قَالَ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أَبِي الْقُرْآنَ فِي السُّدَّةِ فَإِذَا قَرَأْتُ السَّجْدَةَ سَجَدَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَتِ أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَوَّلِ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ قَالَ ‏"‏ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ الْمَسْجِدُ الأَقْصَى ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ ‏"‏ أَرْبَعُونَ عَامًا ثُمَّ الأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ فَصَلِّ ‏"‏ ‏.‏
علی بن مسہر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم بن یزید تیمی سے حدیث سنائی ، کہا : میں مسجد کے باہر کھلی جگہ ( صحن ) میں اپنے والد کو قرآن مجید سنایا کرتا تھا ، جب میں ( آیت ) سجدہ کی تلاوت کرتا تو وہ سجدہ کر لیتے ۔ میں نے ان سے پوچھا : ابا جان! کیا آپ راستے ہی میں سجدہ کر لیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا وہ بیان کر رہے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے روئے زمین پر سب سے پہلی بنائی جانے والی مسجد کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ مسجد حرام ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا ، ’’ مسجد اقصیٰ ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : دونوں ( کی تعمیر ) کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟ آپ نے فرمایا : ’’ چالیس سال ، پھر ساری زمین ( ہی ) تمہارے لیے مسجد ہے ، جہاں بھی تمہاری نماز کا وقت آ جائے وہیں نماز پڑھ لو ۔ ‘ ‘
حدیث 1163 — صحيح مسلم 5:3
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَيِّبَةً طَهُورًا وَمَسْجِدًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ صَلَّى حَيْثُ كَانَ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدَىْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا کہ ہمیں ہشیم نے سیا ر سے خبر دی ، انہوں نے یزید الفقیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں : ہر نبی خاص اپنی قوم ہی کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے ہر سرخ وسیاہ کی طرف بھیجا گیا ، میرے لیے اموال غنیمت حلال قرار دیے گئے ، مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہیں کیے گئے ۔ میرے لیے زمین کو پاک کرنے والی اور سجدہ گاہ بنایا گیا ، لہٰذا جس شخص کے لیے نماز کا وقت ہو جائے وہ جہاں بھی ہو ، وہیں نماز پڑھ لے ، اور مہینہ بھر کی مسافت سے دشمنوں پر طاری ہو جانے والے رعب سے میری نصرت کی گئی اور مجھے شفاعت ( کا منصب ) عطا کیا گیا ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔