قرآني·Qurani
اردو

الفضائل

5785 احادیث · #384–6168

حدیث 1284 — صحيح مسلم 5:122
وَحَدَّثَنَاهُ عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمْسًا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ‏.‏
عبدالرحمن بن اسود نے اپنے والد سے ، انھوں نےحضرت عبداللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ وہ کیا ؟ ‘ ‘ صحابہ نے کہا : آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میں تمھاری طرح انسان ہوں ، میں بھی اسی طرح یا د رکھتا ہوں ، جس طرح تم یاد رکھتے ہو اور میں ( بھی ) اسی طرح بھو ل جاتا ہوں ، جس طرح تم بھول جاتے ہو ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے سہو کے دو سجدے کیے ۔
حدیث 1285 — صحيح مسلم 5:123
وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَزَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَالْوَهْمُ مِنِّي - فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ‏.‏
(علی ) بن مسہر نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضر عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور اس میں کچھ اضافہ کر دیا ۔ ابراہیم نے کہا کہ یہاں وہم مجھے ہوا ہے ، علقمہ کو نہیں ۔ عرض کی گئی : اللہ کے رسول ! کیا نماز مین اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ میں تمھاری طرح انسان ہی ہوں ، میں بھی بھولتا ہوں ، جیسے تم بھولتے ہو ، اس لیے جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے رخ ( قبلہ کی طرف ) پھیرا اور دو سجدے کیے ۔
حدیث 1286 — صحيح مسلم 5:124
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلاَمِ وَالْكَلاَمِ ‏.‏
حفص اور ابو معاویہ نے اعمش سے باقی ماندہ اس سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی ﷺ نے سلام اور گفتگو کےبعد سہو کے دو سجدے کیے ۔
حدیث 1287 — صحيح مسلم 5:125
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَايْمُ اللَّهِ مَا جَاءَ ذَاكَ إِلاَّ مِنْ قِبَلِي - قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ فَقَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ الَّذِي صَنَعَ فَقَالَ ‏"‏ إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ‏.‏
زائدہ نے سلیمان ( اعمش ) سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ نے زیادہ پڑھا دی تھی یا کم ۔ ابراہیم نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ ( وہم ) میری طرف سے ہے ۔ عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیانماز میں کوئی نیا حکم آگیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ نہیں ‘ ‘ تو ہم نے آپ کو جو آپ نے کیا تھا اس سے آگا ہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ جب آدمی زیادتی یا کمی کر لے تو دو سجدے کر ے ۔ ‘ ‘ ( عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : اس کے بعد آپ نے دو سجدے کیے ۔
حدیث 1288 — صحيح مسلم 5:126
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ إِمَّا الظُّهْرَ وَإِمَّا الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَاسْتَنَدَ إِلَيْهَا مُغْضَبًا وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَا أَنْ يَتَكَلَّمَا وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ قُصِرَتِ الصَّلاَةُ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمِينًا وَشِمَالاً فَقَالَ ‏ "‏ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا صَدَقَ لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ ‏.‏ قَالَ وَأُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ وَسَلَّمَ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے کہا : ہم سے ایوب نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے محمد بن سیرین سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہمیں رسول اللہ ﷺ نے دوپہر کے بعد کی ایک نماز ظہر یا عصر پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا ، پھر قبلے کی سمت ( گڑے ہوئے ) کجھور کے ایک تنےکے پاس آئے اور غصے کی کیفیت میں اس سے ٹیک لگا لی ۔ لوگوں میں ابو بکر و عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ موجود ( بھی ) تھے ، انھوں نے آپ کی ہیبت کی بنا پر گفتگو نہ کی جبکہ جلد باز لوگ ( نماز پڑھتے ہی ) نکل گئے ، اور کہنے لگے : نماز میں کمی ہو گئی ہے ۔ تو ذوالیدین ( نامی شخص ) کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز مختصر کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے دائیں اور بائیں دیکھ کر پوچھا : ’’ ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : سچ کہہ رہا ہے ، آپ نے دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں ۔ چنانچہ آپ نے دو رکعتیں ( مزید ) پڑھیں اور سلام پھیر دیا ، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا ، بھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا ، پھر اللہ اکبر کہا اور سجد ہ کیا ، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا ۔ ( محمد بن سیرین نے ) کہا : عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ انھوں نے کہا : اور سلام پھیرا ۔
حدیث 1289 — صحيح مسلم 5:127
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ ‏.‏
(سفیان کے بجائے ) حماد نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں ایوب نے محمد بن سیرین سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو پہر کے بعد کی دو نمازو ں میں سے ایک نماز پڑھائی ......آگے سفیان ( بن عیینہ ) کے ہم معنی حدیث ( سنائی ۔)
حدیث 1290 — صحيح مسلم 5:128
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النَّاسِ فَقَالَ ‏"‏ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاَةِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ ‏.‏
ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابو سفیان سے روایت ہے کہ اس نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں میں سلام پھیر دیا ۔ ذوالیدین ( نامی شخص ) کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ایسا کوئی کام نہیں ہوا ۔ ‘ ‘ اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کوئی ایک کام تو ہوا ہے ۔ تب رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : ’’ کیا ذوالیدین نے سچ کہا؟ ‘ ‘ انھوں کہا : جی ہاں ! اے اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ ﷺ نے جو نماز رہ گئی تھی پوری کی ، پھر بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے ۔
حدیث 1291 — صحيح مسلم 5:129
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ ثُمَّ سَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
علی بن مبارک نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو سلمہ نےحدیث سنائی ، کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی دور کعتیں پڑھائیں ، پھر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم کا ایک آدمی آپ کے قریب آیا اور عرض یک : اے اللہ کے رسول ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟.......اور آگے ( سابقہ ) حدیث بیان کی ۔
حدیث 1292 — صحيح مسلم 5:130
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي، مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الظُّهْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ‏.‏ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ‏.‏
شیبان نےیحییٰ سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نبی اکر ﷺ کے ساتھ ( اقتدا میں ) ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا ، اس پر بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا .......آگے ( مذکورہ بالا ) حدیث بیان کی
حدیث 1293 — صحيح مسلم 5:131
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ ‏.‏ وَخَرَجَ غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ فَقَالَ ‏ "‏ أَصَدَقَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَصَلَّى رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ‏.‏
اسماعیل بن ابراہیم نے خالد ( حذاء ) سے ، انھوں نے ابو قلابہ سے ، انھوں نے ابو مہلب سے اور انھوں نے حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نےعصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پر سلام پھیر دیا ، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے تو ایک آدمی جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے ، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہواا ور آپ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! پھر آپ ﷺ سے جو ( سہو ) ہوا تھا اس کا آپ کے سامنے تذکرہ کیا ، آپ غصے کی حالت میں ، چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے حتی کہ لوگوں کے پا س آ پہنچے اور پوچھا : ’’ کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! توآپ نے ایک رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیرا ، پھر سہو کے دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔