احمد بن حنبل نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے حدیث سنائی ‘ انھوں نے مجاہد سے ‘ انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ شعبہ نے کہا ۔ حکم نے ایک بار یہ روایت مرفوع بیان کی ۔ کہ ایک حاکم یا ایک آدمی نے دو طرف سلام پھیراتو عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے کہا : اس نے یہ ( سنت ) کہا سے اپنا لی ہے ؟ گویا اس دور کے حاکموں نے ایسی سنتیں بھی ترک کی ہوئی تھیں ۔ جس نے اہتمام کیا صحابہ نے اسے سراہا ۔ محدثین کی کاوشوں سے یہ سب سنتیں زندہ ہوئیں ۔
عامر بن سعد نے اپنے وال ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ‘ انھوں نے کہا : میں رسول اللہﷺ کو اپنی دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے دیکھا کرتا تھاٰحتی کہ میں آپ کے رخسار وں کی سفیدی دیکھتا تھا ۔
حدیث 1316 — صحيح مسلم 5:154
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ أَخْبَرَنِي بِذَا أَبُو مَعْبَدٍ، - ثُمَّ أَنْكَرَهُ بَعْدُ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالتَّكْبِيرِ .
زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینار ) سے حدیث سنائی ‘ انھوں نے کہا : مجھے ابو معبد نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اس بات کی خبر دی ‘ بعد میں ( بھول جانے کی وجہ سے ) اس سے انکار کر دیا ‘ انھوں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ ہمیں رسول اللہ کی نماز ختم ہونے کا پتہ تکبیر سے چلتا ہے ۔
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمروبن دینار سے حدیث سنائی ‘ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مولی ٰ ابو معبد کو ابن عباس کے حوالے سے بتاتے ہوئے سنا ‘ انھوں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نماز ختم ہو جانے کا پتہ اللہ اکبر ہی سے لگتا تھا ۔ عمرو نےت کہا : میں نے اس روایت کا ( بعد میں ) ابو معبد کے سامنے ذکر کیا تو انھوں نے اس سے انکار کیا اور کہا : میں نے تمہیں یہ حدیث نہیں سنائی ۔ عمرو نے کہا : حالانکہ انھوں نے اس سے پہلے مجھے یہ بات بتائی تھی ۔
ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ ےغلام ابو معبد نے انھیں بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ جب لوگ فرض نماز سے سلام پھیرتے تو اس کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا نبی اکرمﷺ کے دور میں ( رائج ) تھا اور ابو معبد ) نے کہا : ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب لوگ سلام پھیرتے تو مجھے اس بات کا علم اسی ( بلندآواز کے ساتھ کیے گئے ذکر ) سے ہوتا تھا ۔
حدیث 1319 — صحيح مسلم 5:157
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ وَهْىَ تَقُولُ هَلْ شَعَرْتِ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَالَتْ فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُودُ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
عروہ بن زبیر نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے کہا : رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک یہودی عورت موجود تھی اور وہ کہہ رہی تھی : کیا تمہیں پتہ ہے کہ قبر و ں میں تمہارا امتحان ہوگا ؟عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس پر رسول اللہ ﷺ خوفزدہ ہو گئے اور فرمایا : ’’یہودی کی آزمائش ہو گی ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا : کچھ دن گزرنے کے بعد رسو اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کیا تمہیں پتہ چلا مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم قبرو ں میں آزمائے جاؤ گے؟ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے اس کے بعد رسو ل اللہﷺ کو سنا ‘ آپ عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے ۔
ابو وائل ( شقیق بن سلمہ ) نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مدینہ کے یہودیوں کی بوڑھی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں میرے گھر آئیں اور انھوں نے کہا : قبروں والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے ۔ میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کےلیے ہاں تک کہنا گوارانہ کیا ، وہ چلی گئیں اور رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ سے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس مدینہ کی بوڑھی یہودی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں آئی تھیں ، ان کا خیا ل تھا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے ۔ آپ نے ( کچھ دن گزر نے کے بعد ) فرمایا : ’’ان دونوں نے سچ کہا تھا ۔ ( قبروں میں ) ان ( کافروں ، گنا گاروں ) کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسے مویشی بھی سنتے ہیں ۔ ‘ ‘ اس کے بعد میں نے آپ کو دیکھا آپ ہر نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے ۔
(ابو وائل کے بجائے ) اشعث کے والد ( ابو شعثاء سلیم محاربی ) نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ ؓ سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی ۔ اور اس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : آپ نے اس کے بعد جو نماز بھی پڑھی میں نے آپ سے سناکہ آپ اس میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے ۔